پیا کی دیوانی. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
پیا کی دیوانی آج عید کے دن بھی اپنے دل کے ویران آنگن میں تنہا بیٹھی ہے۔ باہر خوشیوں کا شور ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش چیخ گونج رہی ہے۔ ہر ہنسی اسے چبھتی ہے، ہر قہقہہ اس کے زخموں کو کریدتا ہے۔ لوگ گلے مل رہے ہیں، دعائیں دے رہے ہیں، مگر اس کے ہاتھ خالی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے اس کا دل۔
وہ چاند رات کو جاگتی رہی تھی، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر ایک ہی نام لیے۔ مہندی کی خوشبو بھی اس کے لیے اداس تھی، جیسے رنگوں نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر پیا کا نام سوچا، مگر لکھ نہ سکی، کیونکہ فاصلے صرف میلوں کے نہیں تھے، احساسوں کے بھی تھے۔
عید کی صبح جب اس نے آئینہ دیکھا، تو اسے اپنی آنکھوں میں ایک اجنبی دکھائی دی، ایک ایسی لڑکی جو ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے، اور روتے روتے مسکرا دیتی ہے۔ اس کے آنسو بھی جیسے عید منا رہے ہیں، ہر پل بہہ کر اسے اس کی تنہائی کا احساس دلا رہے ہیں۔
وہ دل ہی دل میں پکارتی ہے، “پیا! تم کہاں ہو؟ دیکھو، تمہاری دیوانی عید کے دن بھی تمہارے بغیر ادھوری ہے۔ تمہارے بغیر یہ خوشیاں بھی ماتم لگتی ہیں، یہ روشنی بھی اندھیرا لگتی ہے۔”
رات کے سناٹے میں اس کی سسکیاں دعاؤں میں بدل جاتی ہیں۔ وہ ہاتھ اٹھاتی ہے، مگر الفاظ ٹوٹ جاتے ہیں۔ بس ایک خواہش، ایک امید باقی رہتی ہے،۔کہ شاید کبھی، کسی عید پر، یہ فاصلے ختم ہو جائیں… اور اس کا دل، جو آج ٹوٹا ہوا ہے، پھر سے جینا سیکھ لے۔
۲۰ مارچ ۲۰۲۶ء
column in urdu Lover Devoted to the Beloved
افسانہ: وعدہ تحریر: آمینہ یونس،بلتستانی




