column in urdu Leader of the Revolution 0

سیدِ شہدا کربلائے ثانی، رہبرِ انقلاب، الوداع . جی ایم ایڈووکیٹ
اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔
28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک ہولناک باب اُس وقت رقم ہوا جب United States اور Israel نے ایران کے خلاف ایک مبینہ مشترکہ فضائی و میزائل کارروائی کی، جسے امریکی محکمۂ دفاع نے Operation Epic Fury اور اسرائیل نے Roaring Lion کا نام دیا۔ اس کارروائی میں F-35 اور B-2 اسٹریٹیجک بمبار طیاروں کے ساتھ ٹوماہاک کروز میزائل اور بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریباً 30 گہرائی میں مار کرنے والے بم حساس اہداف پر گرائے گئے۔ حملوں میں تہران، نطنز، فردو اور اصفہان کے عسکری و جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔آج کے روز صبح صویرے ایرانی و بین الاقوامی میڈیا نے اطلاع دی کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ چار اعلیٰ ایرانی فوجی اور سیکیورٹی حکام شہید ہوئے ہیں جن میں عبدالرہیم موسوی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، محمد پاکپور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر، عزیز نصیرزادہ وزیرِ دفاع اور علی شمخانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری اور سپریم لیڈر کے قریبی مشیر شامل ہیں. جس کے بعد ایران نے سات روزہ سوگ اور چالیس روزہ قومی ماتم کا اعلان کیا جبکہ دنیا کے ہر ملک میں احتجاج کا عمل شروع ہوا گلگت بلتستان میں لوگ رازوقطار رونے کے مناظر سامنے آئے جبکہ اب تک اطلاعات ہیں کہ KKH کئی ایک جگہوں میں احتجاجاً بلاک کیا گیا ہے اور سکردو و گلگت میں UN کا دفاتر کو نزر آتش کیا گیا ہے اور کراچی میں US Counslate میں حملہ کرکے نزر آتش کرنے کی اطلاعات ہیں توقع یہ کی جاسکتی ہے کہ ایران پاکستان سمیت پوری دنیا میں عوامی سطح پرسخت ردعمل دیا جائے گا، جبکہ Islamic Revolutionary Guard Corps نے سخت ردعمل کی تنبیہ کی۔ عالمی سطح پر United Nations سمیت متعدد طاقتوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فوری سفارتی کوششوں پر زور دیا، کیونکہ اس واقعے کو علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے ایک نہایت سنگین موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوستو! کربلا کا استعارہ اسلامی تاریخ میں ظلم کے مقابلے میں استقامت اور اصول پسندی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جس طرح کربلا میں امام حسینؑ باطل کی طاقتوں کے سامنے تنہا ڈٹ گئے تھے، اسی طرح آج 14 سو سال بعد انہی کی اولاد میں سے ایک 86 سالہ بہادر فرزند کل کفر امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں استقامت کی علامت بنا کھڑا تھا۔ جب تاریخ اپنے اوراق پلٹتی ہے تو کچھ نام محض سیاسی عہدوں یا سرکاری مناصب کی وجہ سے نہیں، بلکہ عزم، استقامت اور نظریاتی وابستگی کے باعث نمایاں ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں امام حسینؑ آج چودہ سو سال بعد بھی مزاحمت کا علامت سمجھے جاتے ہیں، اور اسی تناظر میں آج کی اسلامی دنیا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو دیکھتی ہے۔آیت اللہ سید علی خامنہ ای معاصر تاریخ کی اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، اسلامی فکر اور ایرانی ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی زندگی ایسے دور سے عبارت ہے جس میں عالمی سیاست کی تیز رفتار تبدیلیاں، علاقائی کشمکش، نظریاتی تصادم اور داخلی چیلنجز بیک وقت موجود تھے۔ 1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے سید علی حسینی خامنہ ای نے ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں حاصل کی۔ کم عمری ہی سے وہ علمی و دینی حلقوں سے وابستہ رہے اور بعد ازاں ایران میں شاہی نظام کے خلاف سرگرم مذہبی و سیاسی تحریکوں کا حصہ بنے۔ وہ اُن علماء میں شامل تھے جنہوں نے 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل سیاسی جدوجہد، گرفتاریوں اور پابندیوں جیسے مراحل کا سامنا کیا۔ یہی تجربات بعد ازاں ان کی سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی کا حصہ بنے۔ انقلابِ ایران کے بعد کا دور ایران کے لیے نہایت پیچیدہ تھا۔ ریاستی ڈھانچے کی تشکیلِ نو، داخلی استحکام اور بیرونی دباؤ، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی، سب ایک ساتھ درپیش تھے۔ اس پس منظر میں آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف ریاستی ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں صدرِ ایران کا منصب بھی شامل رہا۔ 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ یہ منصب محض ایک آئینی عہدہ نہیں بلکہ ایران کے سیاسی، دفاعی اور مذہبی نظام کا مرکزی محور سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ مجتہدِ اعظم کی حیثیت رکھتے تھے اور دنیا بھر میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی تقلید کرتی تھی۔ سپریم لیڈر کی حیثیت سے ان کی قیادت تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ اس دوران ایران نے ایران۔عراق جنگ کے بعد تعمیرِ نو، امریکی و مغربی پابندیوں کے تسلسل، جوہری پروگرام پر بین الاقوامی تنازعات اور خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں کا سامنا کیا۔ دنیا بھر کے مسلمان و حق پرست غیر مسلم انہیں مزاحمت، خود انحصاری اور نظریاتی خودمختاری کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کی سائنسی و دفاعی ترقی، خصوصاً جوہری تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی، قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا حصہ تھی۔ دشمنان اسلام کیلئے سخت گیر پالیسیوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث ایران کو معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے ایک مرکزی کردار رہے۔ اسلامی دنیا میں ان کی شخصیت کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا رہا۔ انہیں “رہبرِ انقلاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور امریکی، اسرائیلی و مغربی بالادستی کے خلاف سیاسی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای دنیا کے وہ واحد لیڈر تھے جب 13 جون 2025 کو اسرائیل نے امریکی حمایت سے فلسطین کا شہر غزہ میں بمباری کی تو اس کے ردِ عمل میں سینکڑوں بیلسٹک میزائل، Qassem Bassir جیسے درمیانے فاصلے کے میزائل، اور ہزاروں ڈرونز کے ذریعے تل ابیب سمیت اسرائیل کے متعدد شہروں اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے درجنوں اسرائیلی فوجی و شہری زخمی و واصل جہنم ہوئے اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ ایران نے حماس، حوثی اور حزب اللہ کے ذریعے مؤثر مزاحمت کو بھی یقینی بنایا، جبکہ اسرائیل اور امریکہ نے تہران اور دیگر علاقوں میں جوہری، فوجی اور دفاعی مقامات پر بڑی تعداد میں فضائی حملے کیے، جس سے درجنوں ایرانی شہری شہید ہوئے۔ اس دوران عالم اسلام کے بیشتر ممالک صرف مزمتی بیانات تک محدود رہے، اور بعض مسلم، مغربی اور NATO کے رکن ممالک کھلے طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس مرد حر نے بارہا فلسطین کے مسئلے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ ان کے دور میں ایران نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کی، جس کے اثرات لبنان، عراق اور شام جیسے ممالک میں محسوس کیے گئے۔ کسی بھی بڑے مذہبی و سیاسی رہنما کا اس طرح شہید ہونا محض ایک فرد کی وفات نہیں ہوتا بلکہ ایک عہد کے اختتام کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ عالمِ اسلام کے لیے یہ لمحہ غم، یاد، دکھ اور احتساب کا ہے، جبکہ تجزیہ نگاروں کے لیے تاریخ کے ایک باب کو پرکھنے کا موقع۔ ان کی زندگی جدوجہد، نظریاتی وابستگی اور قیادت کے تسلسل سے عبارت رہی۔ تاریخ ان کے کردار کو مختلف زاویوں سے جانچے گی، مگر ان کا نام ایران، عالمِ اسلام اور خطے کی معاصر تاریخ کے اہم ابواب میں درج رہے گا۔ ایسے مواقع پر سب سے زیادہ ضرورت ملت کے اندر صبر، تدبر، اتحاد اور ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ موجود رہتا ہے، مگر انسانی سطح پر تعزیت، احترام اور امن کی خواہش وہ مشترک اقدار ہیں جو قوموں کو آگے بڑھاتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر افکار، فیصلے اور کردار تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہتے ہیں، اور یہی تاریخ آنے والی نسلوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ المختصر الوداع، کربلائے ثانی کے سیدِ شہدا، رہبرِ معظم، آیت اللہ سید علی خامنہ ای۔ آپ کا نام اب صرف ایک سیاسی و مزہبی عہدے کی علامت نہیں رہا، بلکہ ایک عزم، ایک مزاحمت اور ایک داستانِ استقامت بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ آپ نے اپنے مؤقف کو حالات کی آندھیوں کے سامنے جھکنے نہیں دیا۔ آج آنکھیں اشکبار ہیں، دل سوگوار ہیں، مگر یقین زندہ ہے کہ نظریات کو بموں سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ کردار فنا نہیں ہوتے، وہ نسلوں کے حافظے میں اتر جاتے ہیں۔ آپ چلے گئے، مگر ایک سوال، ایک پیغام اور ایک عہد پیچھے چھوڑ گئے کہ حق کی راہ پر ڈٹ جانا ہی اصل زندگی ہے۔ الوداع اے رہبرِ معظم آپ کا ذکر رہے گا، آپ کی یاد رہے گی، اور تاریخ کے اوراق میں آپ کا باب ہمیشہ روشن رہے گا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Leader of the Revolution

چار نسلوں سے دینی خدمات میں سرگر م موسوی خاندان. حاجی شبیر احمد شِگری

اتحاد امت ، وقت کی ضرورت . یحیی ابراہیم شگری

50% LikesVS
50% Dislikes

سیدِ شہدا کربلائے ثانی، رہبرِ انقلاب، الوداع . جی ایم ایڈووکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں