دہشت گردی ، ریاستی چیلنج یا فکری شکست. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
دہشت گردی کو جب بھی کسی مذہب، مسلک یا مخصوص طبقے سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل یہ عمل مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے اسے مزید الجھا دیتا ہے۔ دہشت گردی کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سماجی، فکری اور اخلاقی بحران ہے، جس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شکار عام اور معصوم انسان بنتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور اور دنیا کے ہر خطے میں دہشت گردی نے یہی ثابت کیا ہے کہ اس کی نہ کوئی مذہبی حدود ہیں اور نہ اخلاقی قیود۔
اگر زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا مقصد کسی عقیدے کا دفاع نہیں بلکہ خوف کے ذریعے ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا، معاشرتی ہم آہنگی کو توڑنا اور عوام کو عدم تحفظ کا شکار بنانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی جہاں بھی جنم لیتی ہے، وہاں سب سے پہلے اسکول، بازار، عبادت گاہیں اور عوامی مقامات نشانہ بنتے ہیں،یعنی وہ جگہیں جہاں زندگی اپنی پوری روانی کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دہشت گردی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک طویل المدتی فکری جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس جنگ میں دشمن صرف وہ عناصر نہیں جو ہتھیار اٹھائے سامنے آتے ہیں، بلکہ وہ سوچ بھی ہے جو نفرت، تکفیر اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ یہی سوچ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے اور دہشت گردوں کو خاموش تائید فراہم کرتی ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ظلم اگر کسی بھی عنوان کے تحت کیا جائے، وہ ظلم ہی رہتا ہے۔ ناحق خون بہانا نہ صرف انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی اقدار کی صریح نفی بھی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والے بیانیے دیرپا نہیں ہوتے۔ اگر دنیا میں ظالم وقتی طور پر بچ بھی جائیں تو انصاف کا ایک ایسا نظام موجود ہے جو کسی قوم، طاقت یا وقت کا محتاج نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کا کردار کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ذاتی تحفظ، خاندان اور مستقبل کو پسِ پشت ڈال کر ریاست اور عوام کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بناتا ہے۔ ان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
تاہم، صرف عسکری کامیابیاں کافی نہیں ہوتیں۔ جب تک معاشرے میں فکری سطح پر انتہا پسندی، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ سوچ کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل نہیں دیا جاتا، دہشت گردی کی جڑیں مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ بندوق سے زیادہ ذہن کا ہے، اور اس کا حل بھی تعلیم، مکالمے اور شعور کے فروغ میں مضمر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ طے کریں کہ کسی بھی قسم کا تشدد، چاہے وہ کسی بھی نام پر ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ انسان کی جان کی حرمت کو مرکز بنا کر ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو نفرت کے بجائے انصاف اور خوف کے بجائے امن کی بنیاد پر کھڑا ہو۔
اختتامیہ کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اصل فتح اس دن ہوگی جب ہم بطور قوم خوف کے بجائے شعور، تقسیم کے بجائے اتحاد، اور انتقام کے بجائے انصاف کو اپنا راستہ بنائیں گے۔ یہی طرزِ فکر پاکستان کے مستقبل کو محفوظ، مستحکم اور پُرامن بنا سکتا ہے۔
column in urdu Ideological Failure
کوہاٹ میں پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید، پولیس موبائل نذر آتش




