column in urdu From the Shadow Father 0

“سایہ پدر سے جوارِ رحمت تک، حرفِ یاسمین نوحہ ہجرِ والدین و احباب۔عقیدت کی داستان” یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالرگوجرہ، پاکستان
انیسِ رمضان المبارک 2009 کی پُرنور ساعتیں جب افقِ دل پر اُبھرتی ہیں تو وقت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں اور روح اپنے اصل کی طرف لوٹنے لگتی ہے۔ آج اسی بابرکت دن، والدِ محترم کی برسی پر، میں، یاسمین اختر طوبیٰ، ایک ادنیٰ ریسرچ اسکالر، اپنے قلم کو اشکوں میں ڈبو کر چند حرفِ عقیدت رقم کر رہی ہوں۔ اگر بحیثیت قلم کار میرے لفظوں میں کوئی تاثیر ہے، اگر میرے جملوں میں کوئی لرزشِ احساس ہے، اگر میری تحریر میں کوئی سچائی کی آنچ ہے، تو یہ سب میرے والد صاحب کی دین ہے، انہی کی تربیت کا پرتو، انہی کی دعاؤں کا ثمر، انہی کی خاموش ریاضت کا فیض ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

میری والدہ محترمہ تو بچپن ہی میں داغِ مفارقت دے گئیں۔ ماں کی ممتا کا سایہ سر سے اُٹھا تو بچپن کی دہلیز پر کھڑی ایک معصوم سی بچی کو دنیا کی وسعتیں خوفناک محسوس ہونے لگیں۔ مگر قدرت نے مجھے یتیمی کے اندھیروں میں تنہا نہ چھوڑا۔ میرے والد صاحب نے باپ ہونے کے ساتھ ماں کی شفقت بھی اپنے دامن میں سمیٹ لی۔ وہ میرے لیے سائبان بھی تھے اور چراغ بھی، حصار بھی تھے اور حصار کے اندر کھلتا ہوا باغ بھی۔ زمانے کے سرد و گرم سے بچانے کے لیے وہ ڈھال بن کر میرے سامنے کھڑے رہے۔ دنیا کی تیز دھوپ اُن کے کندھوں پر پڑتی رہی مگر میرے حصے میں ہمیشہ سایہ آیا۔

انہوں نے مجھے سکھایا کہ لفظ صرف حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے، یہ امانت ہوتے ہیں؛ قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں، ذمہ داری کا استعارہ ہوتا ہے۔ میری تعلیم، میری تحقیق، میری تنقید،غرض ہر موڑ پر اُن کی رہنمائی ایک خاموش چراغ کی طرح ساتھ رہی۔ جب میں نے پہلے زینہ پہ قدم رکھا ، اُن کی آنکھوں میں چمک اُتری۔ وہ چمک میری سند تھی، میرا تمغہ تھی، میری پہلی کامیابی تھی۔ وہ کہتے تھے: “بیٹا! علم وہ روشنی ہے جو انسان کو خود بھی منور کرتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی چراغاں بن جاتی ہے۔” آج اگر میرے الفاظ کسی کے دل تک پہنچتے ہیں تو وہ اُن کی اسی نصیحت کا اثر ہے۔

پھر وہ لمحہ بھی آیا جب زندگی کی کتاب کا ایک ورق ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں نے پہلی بار اپنے آپ کو واقعی تنہا محسوس کیا۔ گھر کی دیواریں خاموش ہو گئیں، صحن کی ہوا میں ویرانی گھل گئی، اور دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہیں ہو سکا۔ میں نے صبر کا دامن تھاما، مگر آنسوؤں نے بارہا بغاوت کی۔ وہ کیفیت بیان سے باہر ہے جب ایک بیٹی اپنے محسنِ اعظم کو مٹی کی آغوش کے سپرد کرتی ہے۔ ایسا لگا جیسے میری پشت سے ایک مضبوط پہاڑ ہٹ گیا ہو۔ مگر پھر اُن کی تربیت مشعلِ راہ بنی، اُن کی دعاؤں کی خوشبو نے سنبھالا دیا۔

اے میرے رب! میرے والدین کی مغفرت فرما۔ اُن کی قبور کو نور سے بھر دے، اُن کے درجات بلند فرما، اُن کی تنہائیوں کو اپنی رحمت کی رفاقت عطا کر۔ اگر میری کسی نیکی میں کوئی اخلاص ہے تو اسے اُن کے نامۂ اعمال میں درج فرما۔

آج جب اپنے اردگرد نگاہ ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ غم صرف میرا مقدر نہیں، یہ زندگی کا مشترکہ ورثہ ہے۔ میرے قریبی احباب بھی انہی کٹھن مرحلوں سے گزر رہے ہیں۔ محترم سلیم خان کی شریکِ حیات کی مفارقت نے اُن کے گھر کی رونق چھین لی۔ ایک گھر جو کبھی قہقہوں سے آباد تھا، اب خاموشی کی چادر اوڑھے ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سلیم خان صاحب کو صبرِ جمیل دے، آمین۔

ڈاکٹر احمد منیب، وہ بے لوث، مخلص اور دردمند شخصیت، اپنے نہایت قریبی اور بے لوث رشتوں کو اجل کے سپرد کر چکے ہیں۔ اُن کے چہرے پر حوصلے کی جھلک ہے مگر آنکھوں میں دکھ کی تہیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے مرحوم عزیزوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ڈاکٹر صاحب کے دل کو سکینت عطا کرے۔

ڈاکٹر لبنیٰ آصف ان دنوں شدید کیفیتِ غم سے دوچار ہیں۔ اُن کے میاں کی وفات نے اُن کی زندگی کا دھارا بدل دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: “پہلے میں زندگی کو گزارتی تھی اور اب زندگی مجھے گزار رہی ہے۔” یہ جملہ دل کو چیر دیتا ہے۔ مگر اے محترمہ لبنیٰ آصف! زندگی اگرچہ آزمائش بن جائے، تب بھی اس کے پسِ پردہ رب کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ آپ کا صبر ہی آپ کی قوت ہے۔ یقین جانیے، جس ہستی نے آپ سے یہ سہارا واپس لیا ہے، وہی آپ کو سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔

محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ بھی اپنے جیون ساتھی کے فراق میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ اُن کی آنکھوں کی نمی اُن کے دل کی گہرائیوں کی خبر دیتی ہے۔ ایسے میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، مگر ایمان کا سہارا باقی رہتا ہے۔ مشیتِ ایزدی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ یہی رضا بالآخر دل کو سکون دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور آپ کے مرحوم شریکِ حیات کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔

زندگی ایک امانت ہے اور موت اس امانت کی واپسی۔ ہم سب اسی راستے کے مسافر ہیں۔ آج میرے والدین، ہمارے عزیز و اقربا، ہمارے دوست، ہم سے جدا ہو کر اُس جہان میں جا بسے ہیں جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ مگر ایمان یہ سکھاتا ہے کہ جدائی عارضی ہے، اصل ملاقات اُس جہاں میں ہوگی جہاں نہ فراق ہوگا نہ آنسو۔

انیسِ رمضان کی اس ساعت میں، میں اپنے رب کے حضور دست بدعا ہوں:
اے اللہ! میرے والدین، محترم سلیم خان صاحب کی مرحومہ شریکِ حیات، ڈاکٹر احمد منیب صاحب کے مرحوم عزیزان، ڈاکٹر لبنیٰ آصف کے مرحوم شوہر، محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ کے مرحوم جیون ساتھی اور ہمارے تمام احباب کے اقربا جو اس دارِ فانی سے کوچ کر چکے، سب کی مغفرت فرما۔ اُن کی قبور کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ ہمیں صبر، رضا اور استقامت عطا کر۔

اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنے قلم کو صدقۂ جاریہ بنا سکوں، ایسا قلم جو میرے والد کی تربیت کا امین رہے، میری ماں کی یاد کا چراغ رہے، اور اُن سب کے لیے دعا کا وسیلہ بنے جو ہم سے بچھڑ کر بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ آمین ثم آمین یارب العالمین

column in urdu From the Shadow Father

شگر رہبر معظم کی شہادت کے چوتھے روز بھی شگر بھر شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال

یکم مارچ کا واقعہ، گلگت بلتستان کے امن کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ

حج آپریشن 2026، پاکستان سے پہلی حج پرواز 18 اپریل کو روانہ ہوگی

50% LikesVS
50% Dislikes

“سایہ پدر سے جوارِ رحمت تک، حرفِ یاسمین نوحہ ہجرِ والدین و احباب۔عقیدت کی داستان” یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالرگوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں