column in urdu, Educational Crisis in Pakistan 0

پاکستان میں تعلیمی مسائل: تعلیم ایک کاروبار اور ڈگری یافتہ بے روزگار نوجوان، یاسر دانیال صابری
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو شعور دیتی ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے اور معاشرے کو درست سمت میں لے جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم اب وہ ذریعہ نہیں رہی جو قوم کو ترقی دے، بلکہ یہ ایک ایسا کاروبار بن چکی ہے جس کا مقصد علم دینا نہیں بلکہ پیسہ کمانا رہ گیا ہے۔ آج ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگار ہیں، اور یہ مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تعلیمی نظام شروع ہی سے مسائل کا شکار رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہا۔ ہر آنے والی حکومت نے نئی پالیسی بنائی مگر اس پر عمل نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے پاس نہ واضح تعلیمی سمت ہے اور نہ ہی ایسا نظام جو طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار کرے۔
آج تعلیم ایک کاروبار بن چکی ہے۔ نجی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھمبیوں کی طرح اگ آئی ہیں۔ ہر گلی، ہر محلے میں ایک اسکول نظر آتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہاں تعلیم دی جا رہی ہے یا صرف فیسیں وصول کی جا رہی ہیں؟ والدین اپنی محدود آمدنی سے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں اس امید پر کہ ان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا، مگر آخر میں انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
نجی تعلیمی ادارے تعلیم کو ایک پروڈکٹ سمجھتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ داخلے، زیادہ سے زیادہ فیس، اور کم سے کم معیار۔ اساتذہ کو مناسب تنخواہ نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے وہ دلجمعی سے پڑھانے کے قابل نہیں رہتے۔ نتیجتاً طلبہ رٹے بازی کا شکار ہو جاتے ہیں اور حقیقی علم سے محروم رہتے ہیں۔
سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، غیر حاضری، پرانا نصاب اور سہولیات کا فقدان عام بات ہے۔ کئی علاقوں میں اسکول صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ جہاں عمارت ہے وہاں اساتذہ نہیں، اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں طلبہ نہیں۔ یہ سب بدانتظامی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھی حالات تشویشناک ہیں۔ یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس اور ماسٹرز نکلتے ہیں، مگر مارکیٹ میں ان کے لیے روزگار موجود نہیں ہوتا۔ انجینئر، ایم بی اے، ایم اے، ایم ایس سی کرنے والے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعلیم کے بعد بھی روزگار نہ ملے تو اس تعلیم کا فائدہ کیا؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ عملی زندگی میں کام نہیں آتا۔ طلبہ کو نظریاتی باتیں تو سکھائی جاتی ہیں مگر عملی مہارتیں نہیں دی جاتیں۔ نتیجتاً جب وہ نوکری کے لیے جاتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ڈگری تو ہے مگر تجربہ نہیں۔
نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے کئی خطرناک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مایوسی، ذہنی دباؤ، خودکشی کے واقعات، جرائم میں اضافہ اور منشیات کا استعمال انہی مسائل کا نتیجہ ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوان خود کو معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتا ہے، جو کسی بھی قوم کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔
ہمارے ہاں سفارش اور اقربا پروری بھی بے روزگاری کی بڑی وجہ ہے۔ میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے۔ نوکریاں قابلیت پر نہیں بلکہ تعلقات کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں محنتی اور قابل نوجوان پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل لوگ آگے آ جاتے ہیں، جس سے نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی تعلیم کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہنر کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے، چاہے اس کی صلاحیت اس شعبے کے لیے ہو یا نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ وہ اچھا پروفیشنل بن پاتا ہے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھ پاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو روزگار سے جوڑا ہے۔ وہاں نصاب وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، طلبہ کو انٹرن شپ، پریکٹیکل ورک اور اسکلز سکھائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بے روزگاری کی شرح کم ہوتی ہے۔ ہمیں بھی اسی ماڈل کو اپنانا ہوگا۔
حل یہی ہے کہ تعلیم کو کاروبار بنانے کے بجائے اسے قومی خدمت سمجھا جائے۔ نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔ فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان رابطہ قائم کیا جائے تاکہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ عملی تجربہ بھی مل سکے۔
حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی کرے، نجی اداروں کے لیے واضح قوانین بنائے اور سرکاری تعلیمی نظام کو بہتر بنائے۔ اساتذہ کی تربیت اور ان کی عزت و وقار کو بحال کیا جائے، کیونکہ ایک اچھا استاد ہی ایک اچھا شہری تیار کر سکتا ہے۔
اگر ہم نے تعلیمی نظام کو درست نہ کیا تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا شکار رہیں گی۔ تعلیم اگر قوم کو روزگار، شعور اور ترقی نہ دے سکے تو ایسی تعلیم صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ڈگریاں چاہیے یا باصلاحیت، باہنر اور باوقار نوجوان۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu, Educational Crisis in Pakistan

شگر میں نگران وزیرِ صحت ڈاکٹر نیاز علی نے رورل ہیلتھ سنٹر شگر، رورل ہیلتھ سنٹر گلاب پور اور ڈی ایچ او آفس شگر کا تفصیلی دورہ,

گلگت بلتستان کے عوام ہوشیار رہیں، فراڈ کمپنی TYNES (ٹائنز) اس وقت فیصل آباد اور ملتان میں نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر لوٹ رہی ہے کئی نوجوان اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، طلبا بلتستان مقیم فیصل آباد

کوہاٹ؛ پہاڑی تودہ گرنے سے ملبے تلے دب کر 6 افراد جاں بحق</strong>

50% LikesVS
50% Dislikes

پاکستان میں تعلیمی مسائل: تعلیم ایک کاروبار اور ڈگری یافتہ بے روزگار نوجوان، یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں