سفارش کا نظام ہمارے اداروں میں ، یاسر دانیال صابری
پاکستان میں رہنے والا ہر عام آدمی یہ بات دل سے جانتا ہے کہ یہاں اصل طاقت قانون، میرٹ یا انصاف کے پاس نہیں بلکہ سفارش کے پاس ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو کہیں لکھا ہوا نہیں، مگر ہر جگہ نافذ ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، حقیقت یہی ہے کہ بغیر سفارش کے یہاں زندگی کے بہت سے دروازے بند رہتے ہیں۔
بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ پڑھو گے، محنت کرو گے، ایماندار رہو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ مگر جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب باتیں صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود ہیں۔ عملی زندگی میں پہلا سوال یہی ہوتا ہے ریفرنس ہے؟
نوکری کی بات ہو تو اشتہار میں میرٹ لکھا ہوتا ہے، مگر اندر جا کر معلوم ہوتا ہے کہ امیدوار پہلے ہی منتخب ہو چکا ہے۔ انٹرویو صرف خانہ پُری کے لیے ہوتا ہے۔ جو نوجوان پورے یقین کے ساتھ تیاری کر کے آتا ہے، وہ خالی ہاتھ لوٹتا ہے، اور جس کے پیچھے کوئی نام ہوتا ہے وہ خاموشی سے نوکری لے جاتا ہے۔
یہی حال سرکاری دفاتر کا ہے۔ ایک عام آدمی اپنی فائل لے کر کئی دن، کئی ہفتے چکر لگاتا ہے۔ کبھی افسر میٹنگ میں ہے، کبھی دستخط نہیں ہو رہے، کبھی فائل گم ہو جاتی ہے۔ مگر جیسے ہی کسی جاننے والے کا فون آتا ہے، وہی فائل چند منٹوں میں نکل آتی ہے۔ تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ فائل کا نہیں، سفارش کا تھا۔
یہ نظام صرف سرکاری کاموں تک محدود نہیں۔ تعلیمی اداروں میں داخلے، امتحانات، ترقی، تبادلے، یہاں تک کہ انصاف بھی سفارش کے سائے میں ملتا ہے۔ غریب اور کمزور آدمی انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے، جبکہ طاقتور آدمی ایک فون کال پر بری ہو جاتا ہے۔
سفارش آج کل صرف تعلق نہیں رہی بلکہ کاروبار بن چکی ہے۔ لوگ بااثر افراد سے تعلق بنانے کے لیے مہنگے تحفے دیتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں، ذاتی فائدے پہنچاتے ہیں۔ یہ سب اس امید پر کیا جاتا ہے کہ کل کو یہی تعلق کام آئے گا۔ یوں انسان انسان سے نہیں، فائدے سے جڑتا ہے۔
اس سب میں سب سے زیادہ نقصان ہماری نئی نسل کا ہو رہا ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان جب دیکھتا ہے کہ اس کی ڈگری، اس کی محنت، اس کی قابلیت کی کوئی قیمت نہیں تو اس کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر سب کچھ سفارش سے ہی ہونا ہے تو پھر محنت کا کیا فائدہ؟
یہی مایوسی نوجوانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو جا سکتے ہیں وہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں، اور جو نہیں جا سکتے وہ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کچھ غلط راستے اپنا لیتے ہیں، اور کچھ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں وہی نظام جس سے وہ کل تک نفرت کرتے تھے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ نظام خراب ہے، مگر سچ یہ ہے کہ ہم سب اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ جب ہمیں خود کوئی کام پڑتا ہے تو ہم بھی سفارش ڈھونڈتے ہیں۔ ہم بھی کسی جاننے والے کو فون کرتے ہیں، کسی کا حوالہ دیتے ہیں۔ یوں ہم جانے انجانے میں اسی برائی کو مضبوط کرتے ہیں جس پر ہم تنقید کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سفارش موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسے حق بنا لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس تعلق ہے تو ہمیں لائن میں لگنے کی ضرورت نہیں۔ یہی سوچ معاشرے کو تباہ کر رہی ہے۔
یہ سفارش کا نظام اداروں کو بھی کمزور کرتا ہے۔ جب نااہل لوگ سفارش پر آگے آتے ہیں تو ادارے اپنی کارکردگی کھو دیتے ہیں۔ فیصلے غلط ہوتے ہیں، کام کا معیار گرتا ہے، اور نقصان آخرکار پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔
کیا اس سب کا کوئی حل ہے؟ حل مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ تبدیلی کا آغاز حکومت یا اداروں سے نہیں، ہم سے ہوگا۔ جس دن ہم بغیر سفارش کے کام کروانے اور کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں گے، اسی دن نظام بدلنا شروع ہو جائے گا۔
یہ ماننا پڑے گا کہ سفارش لینا اور دینا دونوں ہی غلط ہیں۔ یہ کسی کا حق مارنے کے برابر ہے۔ جب تک ہم خود اس بات کو نہیں مانیں گے، تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں۔
یہ ملک سفارش سے نہیں، انصاف سے چل سکتا ہے۔ مگر انصاف تب ہی آئے گا جب ہم اسے صرف مانگیں نہیں، بلکہ خود بھی اس پر عمل کریں۔ ورنہ آنے والی نسلیں بھی یہی سوال پوچھتی رہیں گی:
کیا یہاں بغیر سفارش کے بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟
column in urdu, Culture of Favoritism in Our Institutions




