column in urdu Courage, Determination and Character 0

ہمت، عزم اور کردار: مضبوط نوجوان کی تعمیر. منظور نظرؔ (افکارِ بلتستان)
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمت، عزم اور اعلیٰ کردار سے مالا مال نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا کچھ انجام دے سکتے ہیں؟ بلاشبہ کسی بھی قوم کی نوجوان نسل اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور یہی نوجوان ہر قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر بحیثیتِ قوم ہم اپنے نوجوانوں کے اذہان اور قلوب میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کر دیں تو یقیناً ان میں موجود بے پناہ صلاحیتیں دنیا کے سامنے نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہی وہ نسل ہے جو ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور جس کی بلندیِ پرواز سے مہ و انجم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔
کائنات کے نظام کا عمیق مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب کسی قوم کے نوجوان ہم خیال، ہم قدم اور باہم متحد ہو جائیں تو کوئی طوفان، کوئی طلاطم انہیں بہا نہیں سکتا۔ ان نوجوانوں کی انتھک محنت، مسلسل جدوجہد اور باہمی ہم آہنگی ہی کسی بھی قوم کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ جب انسان شباب کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو وہ جذبوں، امنگوں اور دنیا کو مسخر کرنے کی خواہش سے سرشار ہوتا ہے۔ اس کے عزم و ہمت کے سامنے کوہِ گراں بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اور وہ کام جو زندگی کے دیگر مراحل میں دشوار معلوم ہوتے ہیں، عالمِ شباب میں نہایت مہارت سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کی ہمت، عزم اور کردار نہ صرف ان کی ذاتی شناخت بنتے ہیں بلکہ پوری قوم کی پہچان بھی انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اقوام کی ترقی اور تنزلی کا دارومدار بھی انہی نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ جب شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال کے شاہین عزمِ پرواز کرتے ہیں تو نہ آندھی انہیں روک سکتی ہے اور نہ طوفان۔ ان کے عزم و ہمت کی بلندیوں کو دیکھ کر خود فلک بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر آج کے نوجوانوں کو درست رہنمائی میسر آ جائے تو وہ بنجر زمین کو گلستان میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے تو وہ کامیابی کے وہ سنگِ میل عبور کر سکتے ہیں جن کا خواب مفکرِ پاکستان نے دیکھا تھا۔
بدقسمتی سے زوال پذیر اقوام کو سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں کی حوصلہ شکنی سے ہوتا ہے۔ الفاظ میں زندگی اور موت دونوں کی تاثیر ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی صلاحیتوں کو سراہیں اور ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کا ساتھ دیں تو ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ ذات پات اور تعصب سے بالاتر ہو کر اگر ہم ان کے دست و بازو بن جائیں تو ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہ سکتی۔
ایک مضبوط نوجوان کے اندر بے شمار صلاحیتیں ہوتی ہیں، مگر عزم و ہمت وہ نایاب جوہر ہیں جو ناکامی کو شکست دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کی درست کردار سازی اور مثبت تربیت کی جائے تو یہی نوجوان اس وطنِ عزیز کو ترقی و خوشحالی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ ان کا عزم و حوصلہ ہی دراصل ہماری تقدیر بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Courage, Determination and Character

ضلع شگر میں تاریخی عظمتِ شہداء کانفرنس کا انعقاد، تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام، عمائدین اور عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت

محنت کی عظمت. آمینہ یونس ،بلتستانی

50% LikesVS
50% Dislikes

ہمت، عزم اور کردار: مضبوط نوجوان کی تعمیر. منظور نظرؔ (افکارِ بلتستان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں