column in urdu Conflict Between Iran with United States 0

ایران اور امریکہ کی اصل دشمنی کیا ہے . کیا ثقافت مذہب سے الگ ہے ؟ طہٰ علی تابش بلتستانی
عزیز دوستو !
آج ہم ایران اور امریکہ کے درمیان موجود اس گہری دشمنی کے اصل عوامل پر بات کریں گے۔ یہ تنازع صرف سیاسی یا اقتصادی نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ثقافت، مذہب اور تاریخ میں پیوست ہیں۔ ثقافت اور دین کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اور ایران- امریکہ تصادم کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے اوراق پلٹنے ہوں گے ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

ایران اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ نہیں تھے۔ اس دشمنی کی بنیاد 19 اگست 1953 کو رکھی گئی، جب امریکہ اور برطانیہ نے مل کر ایران کے منتخب وزیراعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔ مصدق نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا، جو برطانوی مفادات کے خلاف تھا۔ اس بغاوت کو امریکہ میں “آپریشن ایجیکس” اور برطانیہ میں “آپریشن بوٹ” کا نام دیا گیا ۔

سی آئی اے کی 2013 میں جاری کردہ دستاویزات میں پہلی بار باضابطہ اعتراف کیا گیا کہ ” ایران میں فوجی بغاوت سی آئی اے کی ہدایت پر کی گئی تھی، امریکی خارجہ پالیسی کے ایک عمل کے طور پر” ۔ اس بغاوت کے نتیجے میں شاہ ایران محمد رضا پہلوی کی آمرانہ حکومت کو مضبوط کیا گیا، جو امریکہ کا وفادار اتحادی بن کر رہ گیا۔

شاہ ایران نے امریکہ کے اشاروں پر رقص کرتے ہوئے ایران کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی پالیسیوں کا مقصد ایران کو مکمل طور پر مغربی کلچر پر ڈھالنا تھا ۔

شاہ ایران نے پہلی بار اسلامی کلچر کو دفن کرنے کی مہم چلائی۔ ان کے دور حکومت میں:

سرکاری سطح پر بے حیائی کو فروغ دیا گیا ، شاہ نے اپنی ہی بیٹی اور بیوی کو ایک سینہ بند اور شارٹ لباس میں ٹی وی پر پیش کیا گیا۔ اس سرعام اعلان کیا گیا کہ “آج سے ایران کا کلچر ویسٹرن ہوگا ۔ جو خواتین چادر پہنتی تھیں، ان سے زبردستی چادریں چھین لی گئیں۔
اگر کوئی خاتون چادر پہنے رکھتی تو شاہ ایران اسے سر عام کوڑے مارتا تھا۔

یہ صورتحال صرف شاہ محمد رضا کے دور کی نہیں تھی، بلکہ اس کی بنیاد ان کے والد رضا شاہ پہلوی کے دور میں رکھی گئی تھی۔ رضا شاہ نے 1930 کی دہائی میں مذہبی طبقے میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی ۔

اس مغرب نواز پالیسی کے نتیجے میں ایران کا معاشرہ تیزی سے بگاڑ کا شکار ہوا:
شراب و کباب عام ہو گئے ، دنیا کے امیر ممالک کے امیر ترین لوگ اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے ایران آنے لگے۔ تہران، ایران کا دارالحکومت، ایک فحش اڈہ بن گیا

مشہد میں مقیم علمائے کرام کا کہنا ہے کہ ایران میں جوان لڑکیاں جتنی خوبصورت جوان ہوتی تھیں، ان کا لباس اتنا ہی شارٹ ہوتا تھا۔ کچھ خدا پرست خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنی چادریں کبھی نہیں اتاریں اور گھر کی چار دیواری میں ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔

ایران کی سڑکوں پر خواتین اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہا تھا — دونوں ننگی ہوتی تھیں۔

1979 میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، جنہیں شاہ ایران نے جلا وطن کر دیا تھا، واپس آئے۔ ان کی قیادت میں ایرانی عوام نے اٹھ کھڑے ہوئے اور شاہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

16 جنوری 1979 کو شاہ ایران محمد رضا پہلوی اپنی حکومت کے خلاف کئی ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد ایران چھوڑ گئے ۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگ شہید ہو گئے، اور دوبارہ ایران میں اسلام کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔

رضا شاہ پہلوی، جو امریکہ کا پالا ہوا کتا تھا، ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس کے ساتھ وہی ہوا جو عموماً سب کے ساتھ امریکہ کے استعمال شدہ اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کرتا ہے ۔

ایک وقت ایسا تھا کہ شاہ ایران امریکہ کی آنکھ کا تارا تھا ۔ وہ خطے میں امریکی مفادات کے نگہبان سمجھے جاتے تھے لیکن جب انہیں ضرورت پڑی تو جس امریکہ کی آنکھ کا وہ تارا تھے، اس نے انہیں پناہ نہیں دی ۔

شاہ نے پہلے مصر، پھر مراکش، پھر بہاماس اور آخر میں میکسیکو میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔
بلا آخر وہ شدید بیمار ہو گئے، انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی مگر امریکی صدر جمی کارٹر نے شاہ کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی ۔ آخر کار ان کی ایک بیوی مصر سے تعلق رکھتی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے داماد ہونے کی وجہ سے اسے پناہ دی۔ وہ وہیں فوت ہو گیا اور آج بھی قاہرہ کے کسی کونے میں وہ دفن ہے۔

امام خمینی کے واپس آنے کے بعد سے آج تک امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔ امریکہ کو ایران کے اسلامی کلچر سے بڑی نفرت ہے۔ وہ دیگر ممالک کی طرح اپنی زبان کے ساتھ اپنا ننگا کلچر بھی ایران پر مسلط کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔

یہ کوئی مسلکی جنگ نہیں ہے بلکہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ عرب ممالک نے اپنی ہی جوان بیٹیوں کو ٹرپ کے سامنے ننگی ناچنے دیا، تو ٹرمپ کا عرب ممالک سے کوئی دشمنی ہی نہیں ۔

ایران نے اسلامی اقدار کی حفاظت کی، اسی لیے وہ نشانہ بنا۔ یہ وہی کشمکش ہے جو صدیوں سے جاری ہے — حق اور باطل کی جنگ۔

آج ایران دو سپر پاور ممالک ( امریکہ اور اسرائیل ) سے اکیلا لڑ رہا ہے:

70 سے زائد ایرانی رہنما شہید ہو چکے ہیں۔ اگر یہ ایک مسلکی جنگ تھی تو فلسطین میں ایک بھی شیعہ نہیں تھا لیکن غزہ میں جب ڈیڑھ لاکھ مظلوم بچوں، خواتین اور مردوں کو شہید کیا جا رہا تھا تو صرف ایران ہی ان یہودیوں سے لڑتا رہا۔

جبکہ 56 اسلامی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے غلام بنے سر جھکائے بیٹھے رہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت اور مذہب کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ کبھی بھی عزت سے نہیں جی سکتیں۔ ایران نے اسلام کی حفاظت کی، اسی لیے وہ آج عزت سے جی رہا ہے، چاہے پوری دنیا اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ہمیں بھی اپنی ثقافت قائم رکھنے کی ضرورت ہے ۔
یعنی ہمارا ثقافت اسلام ہے ، ویسٹرن نہیں ۔

تحریر نگار:
طہٰ علی تابش بلتستانی

column in urdu Conflict Between Iran with United States

>نامہ.بنام غالب.برجواب نامۂ یاسمین اختر طوبیٰ. ۔ڈاکٹر ارشاد خان

>لوڈ شیڈنگ ۔روزے ختم ہونے والے مگر اندھیرا باقی . یاسر دانیال صابری

50% LikesVS
50% Dislikes

ایران اور امریکہ کی اصل دشمنی کیا ہے . کیا ثقافت مذہب سے الگ ہے ؟ طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں