“انسانیت کا کیمو فلاج”پارس کیانی ساہیوال، پاگستان
ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں سب سے زیادہ جو چیز بک رہی ہے وہ سچ نہیں، تاثر ہے۔ یہاں نیت سے زیادہ نعرہ، کردار سے زیادہ چہرہ، اور عمل سے زیادہ اعلان معتبر مانا جاتا ہے۔ انسان کے لفظ نرم ہوتے جا رہے ہیں مگر رویے سخت، زبان شائستہ ہوتی جا رہی ہے مگر دل تنگ۔ بظاہر سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے، مگر ذرا سا کھرچنے پر اندر سے کچھ اور ہی نکل آتا ہے۔
ہر انسان خود کو بہتر ثابت کرنے کی ایک مسلسل کوشش میں ہے۔ کوئی اخلاق کا سہارا لیتا ہے، کوئی تہذیب کا، کوئی مذہب کا، کوئی نظریے کا۔ مگر یہ سب اکثر اس لیے نہیں کہ وہ واقعی بہتر بننا چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سوال سے بچ سکے۔ سوال اگر اٹھ جائے تو چہرے اترنے لگتے ہیں، اس لیے انسان نے خود کو اتنا آراستہ کر لیا ہے کہ کوئی اس کے اندر جھانکنے کی جسارت ہی نہ کرے۔
ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر صرف وہاں جہاں ہمارا نقصان نہ ہو۔ ہم انسانیت کے گیت گاتے ہیں مگر صرف اپنے جیسے انسانوں کے لیے۔ ہم برابری کا درس دیتے ہیں مگر اپنی برتری کو خاموشی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ہمیں اصول بہت عزیز ہیں، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اصول اگر مفاد سے ٹکرا جائیں تو ہم اصول کی نئی تشریح گھڑ لیتے ہیں۔
یہ رویہ کسی ایک معاشرے، کسی ایک قوم یا کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ طاقت جہاں بھی ہو، اس کے چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دلیلیں بدل جاتی ہیں، زبان بدل جاتی ہے، مگر جواز وہی رہتا ہے۔ کہیں اسے تہذیب کہا جاتا ہے، کہیں سلامتی، کہیں ترقی، کہیں روایت۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پردہ ہوتا ہے۔
جدید دنیا نے اس عمل کو مزید نفیس بنا دیا ہے۔ اب انسان صرف وہ نہیں چھپاتا جو وہ کرتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ اسے کیا دکھانا ہے۔ دکھ بانٹنا نہیں، دکھ پیش کرنا اہم ہو گیا ہے۔ ہمدردی ایک کیفیت نہیں، ایک اظہار بن گئی ہے۔ خاموشی اب احساس نہیں، ایک حکمتِ عملی ہے۔ اور بےحسی کو مصروفیت کا نام دے کر قبول کر لیا گیا ہے۔
نسل، رنگ اور مذہب کے نام پر جو خلیجیں ہیں، وہ بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ ہر گروہ خود کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھتا ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنی برتری کا کوئی نہ کوئی اخلاقی یا تاریخی جواز ہے۔ کوئی بھی خود کو آئینے میں دیکھنے پر آمادہ نہیں، کیونکہ آئینہ سوال کرتا ہے، اور سوال ہمیں ننگا کر دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو خوبیوں کا لباس پہنا دیتا ہے۔ وہ ظلم کو مجبوری، مفاد کو دانائی، اور بےحسی کو حقیقت پسندی کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ یوں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے اور انسان مطمئن، حالانکہ کچھ بھی درست نہیں ہوتا۔
اگر انسان واقعی بدلنا چاہے تو اسے کسی انقلاب، کسی نعرے یا کسی بڑے دعوے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنی ہمت چاہیے کہ وہ خود کو بغیر آرائش کے دیکھ سکے۔ وہ مان سکے کہ وہ جیسا دکھتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ وہ تسلیم کر سکے کہ جو پردے اس نے اوڑھ رکھے ہیں، وہ دوسروں کے لیے نہیں، خود اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔ انسان شاید اس لیے بھی اس دوہرے پن کا عادی ہو چکا ہے کہ سچ کے ساتھ جینا آسان نہیں۔ سچ قربانی مانگتا ہے، قیمت وصول کرتا ہے، اور آئینہ دکھاتا ہے۔ جبکہ دکھاوا سہولت دیتا ہے، قبولیت دلاتا ہے اور سوال سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے ہم نے آہستہ آہستہ اصل ہونے کے بجائے موزوں ہونا سیکھ لیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب بولنا ہے، کہاں آنسو دکھانے ہیں اور کہاں مسکراہٹ سجانی ہے۔ یوں ہم خود بھی نہیں جان پاتے کہ ہمارے اندر جو رہ گیا ہے، وہ حقیقت ہے یا برسوں کی مشق سے تیار کیا گیا کوئی محفوظ چہرہ۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اپنا نام ظاہر کرتی ہے۔
یہ جو اخلاق، تہذیب، انسانیت اور اصولوں کی خوبصورت تہیں ہم نے خود پر چڑھا رکھی ہیں، یہ سب دراصل انسانیت کا “کیموفلاج” ہیں۔
column in urdu, Camouflage of Humanity
پاکستان میں تعلیمی مسائل: تعلیم ایک کاروبار اور ڈگری یافتہ بے روزگار نوجوان، یاسر دانیال صابری




