سفید کوٹ، خون اور خاموش فریاد. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ پاکستان
کوہاٹ کی 22 فروری 2026 کی سنسان رات میں، ایک روشنی بجھ گئی۔ 36 سالہ ڈاکٹر مہوش حسنین، جو دن بھر مریضوں کے درد میں شریک رہتی تھیں، افطار کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں کہ ایک نامعلوم قاتل کی گولی نے ان کا دل و جان تار تار کر دیا۔ سفید کوٹ، جو خدمت، علم اور شفقت کی علامت تھا، سرخ لہو میں تر ہو گیا۔ ہر قطرہ، ہر جراحت، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدمت کے راستے کتنے نازک اور خطرناک ہیں۔
دن کے وقت ہسپتال میں معمول کا رش تھا۔ مریضوں کی فریادیں، والدین کی پریشانی، اور امید سے بھرے آنکھوں کے جلوے۔ ایک مریضہ اپنے ساتھ ایک مرد لائی۔ ڈاکٹر مہوش نے اپنی پیشہ ورانہ نزاکت کے مطابق کہا کہ انتظار کریں، معائنہ کے بعد آپ کی باری آئے گی۔ بس اتنا ہی۔ مگر یہ معمولی سا لمحہ قاتل کے منصوبے کا بہانہ بن گیا، اور چند سیکنڈ میں زندگی کی ہر مسکان، ہر امید، اور ہر خواب پر گہرا سانس بند کر دیا گیا۔
پولیس مقدمہ درج کرنے کے باوجود قاتل ابھی تک آزاد ہے، اور ہسپتال میں عملہ سراپا احتجاج ہے۔ ایمرجنسی بند، او پی ڈی معطل، یہ صرف سروسز کا بند ہونا نہیں، یہ ایک چیخ ہے، ایک فریاد ہے جو ہر سفید کوٹ والے کے دل سے نکل رہی ہے:
“ہم بھی انسان ہیں، ہماری زندگی بھی قیمتی ہے۔”
ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ، جنوبی خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ہسپتال، جہاں ہر روز لاکھوں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، آج ایک سنسان اور افسردہ جگہ لگ رہا ہے۔ ڈاکٹر مہوش کی کمی، ان کی مسکراہٹ، ان کی شفقت کا خلا ہر کونے میں محسوس ہوتا ہے۔ وہ جو ہر درد میں شریک ہوتی تھیں، آج صرف یادوں میں زندہ ہیں۔ مریضوں کی فریاد، ہسپتال کے خاموش ہال، اور سفید کوٹ کا خالی کمرہ، سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خدمت کی راہوں پر بھی خطرات گھوم رہے ہیں۔
یہ سانحہ محض ایک قتل نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ وقار، انسانی جان اور تحفظ کی ضرورت پر ایک دردناک سوال ہے۔ قاتل کی فوری گرفتاری، ہسپتال میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات، اور ڈاکٹروں کے لیے محفوظ ماحول اب انتخاب نہیں، بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ ہیں۔
ڈاکٹر مہوش حسنین کی شہادت ایک خاموش فریاد ہے، ایک درد بھرا پیغام کہ
“ہمیں محفوظ رہنے دو، تاکہ ہم آپ کی خدمت کر سکیں۔”
سرخ لہو میں تر سفید کوٹ کی یہ یاد، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم خاموش نہ بیٹھیں، انصاف کے لیے کھڑے ہوں، اور محبت، خدمت اور انسانیت کے چراغ کو دوبارہ روشن کریں۔
آج جب ہم ان کی مسکان کو یاد کرتے ہیں، ان کی شفقت کے لمحے یاد کرتے ہیں، تو ایک سوال ہمارے دل پر بیٹھ جاتا ہے کہ، آخر ہم کب تک ان سفید کوٹوں کو خوف میں رہنے دیں گے؟ کب تک علم اور خدمت کی روشنی کو اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا؟ یہ لمحہ صبر، انصاف اور حفاظت کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔
column in urdu Blood, and a Silent Cry
آئی سی سی ٹی 20 ، پہلی بار ایشین ٹیموں کے ورلڈ کپ سیمی فائنل سے باہر ہونے کا خدشہ
یہ کہانی صرف نوجوان لڑکیوں کے لیے ہے۔کچھ غلطیوں کی سزا عمر بھر بھگتنی پڑتی ہے۔




