ولادتِ باسعادت امام حسینؑ اور پیغامِ حریت، شبیر حسین
۳ شعبان المعظم اسلامی تاریخ کا ایک نہایت عظیم، بابرکت اور یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن نواسۂ رسول ﷺ، فرزندِ علیؑ و فاطمہؑ، جگر گوشۂ رسولِ خدا ﷺ، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس دن نے تاریخِ اسلام کو وہ ہستی عطا کی جس کی قربانی نے دینِ محمدی ﷺ کو ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ کر دیا۔
حضرت امام حسینؑ کی ولادت ۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ رسول اکرم ﷺ نے خود آپؑ کا نام حسین رکھا، آپ کے کان میں اذان و اقامت کہی، اور آپؑ سے بے پناہ محبت کا اظہار فرمایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
“حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں”
یہ حدیث امام حسینؑ کے مقام، عظمت اور دین سے ان کے گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے۔
امام حسینؑ صرف ایک عظیم شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر ہیں۔ آپؑ کی زندگی ہمیں حق، صداقت، عدل، صبر، قربانی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا عملی درس دیتی ہے۔ واقعۂ کربلا میں امام حسینؑ نے ظالم نظام کے سامنے سر جھکا نے کے بجائے اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں سمیت قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کے لیے قربانی دی جا سکتی ہے مگر باطل سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
۳ شعبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور بیدار نظامِ حیات ہے۔ امام حسینؑ کی ولادت کی خوشی مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں حسینی کردار کو اپنائیں گے، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے، حق کا ساتھ دیں گے اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے کوشش کریں گے۔
آج کے پُرآشوب دور میں امام حسینؑ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ حسینی فکر کو اپنا لے تو ظلم، ناانصافی، فرقہ واریت اور اخلاقی زوال کا خاتمہ ممکن ہے۔
۳ شعبان صرف جشن کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم حسینیؑ بن کر جئیں اور حق کی راہ میں ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔
Blessed Birth of Imam Hussain (AS) and the Message of Freedom
کراچی گل پلازہ میں ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افرادکی تعداد 61 ہوگئی




