news خبر خبریں نیوز landscape 1770780675883 0

یہ ناانصافی نہیں، ریاستی جرم ہے! یاور عباس عرف دیوانہ
ترلائی اسلام آباد میں مسجدِ خدیجۃُ الکبریٰ کے المناک واقعے کے بعد حکومت کی مجرمانہ خاموشی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ریاست میں خون کی قیمت کچھ بھی نہیں۔
اللہ کے گھر میں بے گناہ نمازی شہید ہو گئے، درجنوں شہری زخمی ہیں، مگر آج تک حکومت کی جانب سے نہ کوئی معاوضے کا اعلان ہوا، نہ کوئی عملی اقدامات اٹھایا گیا، نہ ہی کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار!
پمز اسپتال میں مجروحین بے سروسامانی کی حالت میں پڑے ہیں، جبکہ حکمران اپنی ترجیحات میں مگن ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

دوسری طرف گل پلازہ کے واقعے میں فوری طور پر فی کس ایک ایک کروڑ روپے تقسیم کر دیے گئے۔

یہ کیسا انصاف ہے؟
یہ کیسی ریاست ہے؟
کیا ترلائی کے شہری پاکستانی نہیں؟
کیا مسجد میں شہید ہونے والوں کا خون سستا ہے؟

یہ امتیازی سلوک، یہ دوہرا معیار اور یہ بے حسی ناقابلِ برداشت ہے۔
حکومت کی یہ روش محض نااہلی نہیں بلکہ دانستہ ظلم اور کھلا فاشزم ہے۔

ہم وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کو خبردار کرتے ہیں کہ:
• مسجدِ خدیجۃُ الکبریٰ کے شہداء کے لواحقین کے لیے فوری طور پر واضح اور بھرپور معاوضے کا اعلان کیا جائے
• تمام مجروحین کے مکمل، معیاری اور مفت علاج کی ذمہ داری ریاست خود اٹھائے
• اس مجرمانہ غفلت پر ذمہ داران کی جواب دہی یقینی بنائی جائے

اگر اب بھی حکومت نے آنکھیں بند رکھیں تو یہ بات کھل کر واضح ہو جائے گی کہ یہ نظام صرف طاقتوروں کے لیے ہے، مظلوموں کے لیے نہیں۔

یاد رکھیں!
خاموشی بھی ظلم ہے، اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا حق نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے۔

یاور عباس عرف دیوانہ
سابق نائب صدر
پی وائی او بلتستان ڈویژن
Column in Urdu Beyond Injustice

50% LikesVS
50% Dislikes

یہ ناانصافی نہیں، ریاستی جرم ہے! یاور عباس عرف دیوانہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں