اِدھر ضائع نہیں ہوگا اُدھر ضائع نہیں ہوگا.. کہیں عشقِ محمّد کا اثر ضائع نہیں ہوگا . یاسمین اختر طوبیٰ
ریسرچ اسکالر
شاعر: کاملؔ جنیٹوی (انڈیا)
تبصرہ نگار: یاسمین اختر طوبیٰ
ریسرچ اسکالر
گوجرہ، پاکستان
نعتِ رسولِ ﷺ
اِدھر ضائع نہیں ہوگا اُدھر ضائع نہیں ہوگا
کہیں عشقِ محمّد کا اثر ضائع نہیں ہوگا
دریچوں میں سجا لے گل درودوں اور سلاموں کے
کسی طوفان سے پھر تیرا گھر ضائع نہیں ہوگا
مزیّن کر رسولِ پاک کے ذکر منوّر سے
کوئی بھی لمحۂِ شام و سحر ضائع نہیں ہوگا
خدا کا شکر ہے چوم آیا میں خاکِ درِ اقدس
لبوں سے میرے خوشبو کا سفر ضائع نہیں ہوگا
تصوّر میں تمنّائے مدینہ رکھ کے سو جانا
ترا کوئی بھی خواب اے چشمِ تر ضائع نہیں ہوگا
مساعد یا کہ حالاتِ زمانہ نامساعد ہوں
نبی سے جذبۂِ صادق مگر ضائع نہیں ہوگا
بس اتنی شرط ہے آقا کی سنّت سے ہو وابستہ
عمل کوئی کسی کا ذرّہ بھر ضائع نہیں ہوگا
تو نعتِ سرورِ دیں کہہ رہا ہے اس لیے کاملؔ
یہ تیرا شعر گوئی کا ہنر ضائع نہیں ہوگا
تبصرہ:
یہ کلام چونکہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ ہے، اس لیے اس کا تنقیدی جائزہ محض فنی پیمانوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ نعت کا اصل حوالہ عقیدت، ادب اور عشقِ رسول ﷺ ہے، اور اسی مرکز کو سامنے رکھ کر ہی راقمہ نے اس کلام کا منصفانہ مطالعہ کرنے کی ممکنہ جسارت کی ہے۔
کاملؔ جنیٹوی کی یہ نعت ایک پُرخلوص، سادہ مگر اثر انگیز اظہارِ عشقِ رسول ﷺ ہے۔ شاعر نے نعتیہ روایت کے بنیادی عناصر—محبت، امید، توسل، اتباعِ سنت اور روحانی وابستگی—کو وقار اور فکری تسلسل کے ساتھ نبھایا ہے۔ پورا کلام اس یقین سے لبریز محسوس ہوتا ہے کہ عشقِ محمدی ﷺ کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ حفاظتِ الٰہی میں آ جاتا ہے۔
نعت کا مرکزی تصور یہ ہے کہ جو کچھ رسولِ اکرم ﷺ سے نسبت رکھتا ہے وہ مقبول، محفوظ اور بارآور ہوتا ہے۔
خصوصاً یہ مصرعے۔۔۔
کہیں عشقِ محمّد کا اثر ضائع نہیں ہوگا
نبی سے جذبۂ صادق مگر ضائع نہیں ہوگا
عشق کو محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ نجات، بقا اور دوام کی ضمانت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ تصور اسلامی عقیدے اور صوفیانہ فکر دونوں سے ہم آہنگ ہے، جہاں عشقِ رسول ﷺ ایمان کو حرارت اور عمل کو وزن عطا کرتا ہے۔
زبان سادہ، رواں اور غیر متکلّف ہے، جو نعتیہ شاعری کی ایک بڑی خوبی ہے۔ شاعر نے مشکل استعارات اور غیر ضروری مبالغہ آرائی سے گریز کیا ہے، جس سے اخلاص اور ادب نمایاں ہوتا ہے۔
“درود و سلام کے گل”، “خاکِ درِ اقدس”، “تمنّائے مدینہ” جیسی تراکیب مانوس ہونے کے باوجود معنوی گہرائی رکھتی ہیں اور قاری کے باطن سے رشتہ قائم کرتی ہیں۔
درود و سلام کے گل سجانے کا استعارہ دل و زندگی کو ذکرِ رسول ﷺ سے منوّر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ شام و سحر کا تسلسل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ وقتی کیفیت نہیں بلکہ مستقل شعوری وابستگی ہے۔
خاکِ درِ اقدس کو چومنے اور خوشبو کے سفر کا بیان عشق کی اس معراج کی علامت ہے جہاں جسمانی لمس روحانی دوام میں بدل جاتا ہے۔ مدینہ کی تمنا کے ساتھ نیند کا بندھ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ عاشق کا لاشعور بھی حضور ﷺ کی یاد سے خالی نہیں رہتا۔
ردیف “ضائع نہیں ہوگا” پورے کلام کو فکری وحدت عطا کرتی ہے اور ہر شعر میں امید، یقین اور تحفظ کا احساس برقرار رکھتی ہے۔ بحر اور قافیہ میں روانی ہے، جس کے باعث نعت ترنم اور تاثیر کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے۔
آخری شعر میں تخلّص کا استعمال روایتی مگر محتاط ہے، جہاں خود نمائی کے بجائے نعت کہنے کی نسبت سے قبولیت کی دعا سامنے آتی ہے۔
عملی پیغام اور روحانی نتیجہ:
یہ نعت قاری کو محض وجدانی سرشاری نہیں دیتی بلکہ واضح عملی پیغام بھی دیتی ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا اتباعِ سنت ﷺ ہے۔ شاعر یہ نکتہ اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کے نشیب و فراز ایمان کی حرارت کو کم نہیں کر سکتے، اگر تعلق نبی ﷺ سے مضبوط ہو۔ اسی نسبت کے ذریعے وقت، خواب، عمل اور ہنر سب محفوظ ہو جاتے ہیں۔
تنقیدی نتیجہ (ادب کے ساتھ):
اگرچہ بعض مضامین نعتیہ شاعری میں پہلے سے موجود ہیں، مگر اخلاصِ نیت، فکری تسلسل اور عقیدت کی حرارت اس تکرار کو عیب نہیں بننے دیتی۔ نعت میں جدت سے زیادہ صدقِ جذبہ معتبر ہوتا ہے، اور یہ کلام اس معیار پر پورا اترتا ہے۔
یہ نعت عشقِ رسول ﷺ کی سچی ترجمان ہے،
عقیدت اور ادب کے دائرے میں مکمل طور پر محفوظ ہے
اور قاری کے دل میں محبتِ مصطفی ﷺ کو تازہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ شاعر کے اس نعتیہ جذبے کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں مقبول فرمائے اور راقمہ کی ادنیٰ سعی کو قبول فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔
urdu poetry Devotional Poem in Honor of Prophet Muhammad (PBUH)
سیونگ اکاؤنٹس میں کتنی رقم پر زکوٰۃ کٹے گی؟ رواں سال کا نصاب جاری
رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔
گلگت اہلسنت علما اور عمائدین کا جامعہ امامیہ مسجد کا تاریخی دورہ، اسلام آباد دھماکے کی مذمت




