urdu poetry Colors of Eid with My Beloved 0

عید کے رنگ پیا کے سنگ” . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

“عید کے رنگ پیا کے سنگ”

جب ماہِ نو نے افقِ شب کی زلفِ سیاہ میں
نقرئی کنگھی پھیری
اور فلک کی پیشانی پہ
ہلال نے خامشی کا نازک سا بوسہ رکھا
تب دل کے محراب میں
تکبیر کی پہلی صدا نے چراغ جلایا
کہ عید آن پہنچی

نسیمِ سحر نے جب
گلاب کے لب چومے
اور شفق نے اپنے آنچل میں
زرّیں دھاگے پروئے
تب شہر کے کوچہ و بازار
عطرِ شادمانی سے مہک اٹھے
مگر میرے آنگن میں
ایک ہی آرزو کا دیا روشن تھا:
“عید کے رنگ پیا کے سنگ”

شبِ ہجراں کی سلگتی ساعتوں میں
میں نے یاد کی تسبیح تھامی
ہر دانہ ایک دعا
ہر سانس ایک صدا
کہ اے ہم نفسِ جاں!
تو آئے تو عید ہو

گھر کی دہلیز پہ
امید کے دیے رکھے
مہندی کی لکیروں میں
تیرا نام مخفی کیا
چوڑیوں کی جھنکار کو
تیری ہنسی کا استعارہ جانا
اور آئینۂ دل میں
تیری صورت سنواری

مسجد کی سمت جب
قدموں کی روانی بڑھی
سفید جبّوں میں ملبوس
ایمان کی تازہ کرنیں
صف بہ صف جب بندگی نے
آسمان سے رشتہ جوڑا
میں نے بھی سجدۂ شکر میں
تیری آمد کی التجا رکھی

لوگ گلے ملے
رنجشیں ریت کے مانند بکھر گئیں
لبوں پہ تبسم کے پھول کھلے
دستاروں میں وقار کی خوشبو تھی
مگر میرے ہجومِ شادماں میں
ایک خلا کی بازگشت تھی:
کہ تُو نہیں

سویّوں کی مٹھاس میں
میں نے تیرے لہجے کی شیرینی ڈھونڈی
عیدی کے سکّوں کی چھنکار میں
تیری ہنسی کا آہنگ سنا
ہر رنگ میں تیری جھلک
ہر نغمے میں تیرا عکس
جیسے کائنات کی ہر شے
تیرے نام کی تفسیر ہو

اے جانِ جاں!
اگر تُو اس ساعت میرے روبرو ہوتا
تو عید کی پیشانی پہ
چار چاند لگ جاتے
میری پلکوں کی چمک
چراغاں ہو جاتی
اور دل کی ویران بستی
گلزارِ نشاط بن جاتی

ہم چھت پہ جا کر
فلکِ نیلگوں سے راز کرتے
چاند کو اپنی محبت کا گواہ ٹھہراتے
اور تو مسکرا کر کہتا
“دیکھو، ہلال کی یہ خمیدگی
ہماری بندگی کی طرح ہے
اور اس کی تکمیل
ہماری وفا کے مانند۔”

عید کے رنگ پیا کے سنگ
یہ فقط تمنّا نہیں
یہ ازل سے لکھی ہوئی
روح کی تحریر ہے
یہ وہ نغمہ ہے
جو دل کے تاروں میں
مدّتوں سے مرتعش ہے

شامِ عید جب
سنہری شفق میں تحلیل ہوئی
اور ستاروں نے
فلک پہ چراغاں کیا
میں نے تنہائی کے حجرے میں
دعا کا در وا کیا
کہ آئندہ جب چاند رات سجے
تو فاصلے قصۂ پارینہ ہوں

اگلی عید
تیری ہتھیلی میری ہتھیلی میں
دعا کی آمین ایک ساتھ
نظر کی عید ایک ساتھ
دل کی تکبیر ایک ساتھ
اور زندگی کی کتاب میں
کوئی ورق ادھورا نہ رہے

کہ عید تبھی عید ہے
جب رنگ بھی ہوں اور سنگ بھی
ورنہ خوشیوں کا ہجوم بھی
تنہائی کا نوحہ بن جاتا ہے

سو اے ہمرازِ وفا!
جہاں کہیں بھی ہے تیرا دیار
میری دعا کی روشنی
وہاں تک پہنچے
اور جب اگلا ہلال ابھرے
تو یہ فاصلہ مٹ جائے
اور عید کے سب رنگ
ہم دونوں کے سنگ ٹھہریں

urdu poetry Colors of Eid with My Beloved

50% LikesVS
50% Dislikes

عید کے رنگ پیا کے سنگ” . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں