urdu poetry 0

ہو خوابِ ہجر یا ہووے کسی وصال کا خواب
اساسِ عشق سے اٹھتا ہے ہر کمال کا خواب

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

عدوئے حق، میں کہوں بھی تو کس طرح تم سے
کہ کس قدر تھا بھیانک تمہارے حال کا خواب

وطن میں روز جو ہوتا ہے ارد گرد مرے
وبالِ خواب ہے یا ہے کسی وبال کا خواب

ہِلال دیکھ رہے ہیں جو دوربینوں سے
وہ بھول کر بھی نہیں دیکھتے حلال کا خواب

دکھائی دیتا ہے پر کس طرح بیان کروں
بڑا عجب ہے فیوچر کے خدوخال کا خواب

مرے ودود مجھے تُو یمین میں رکھنا
کہ خواب میں بھی نہ آئے کبھی شمال کا خواب

نئے افُق ہیں نئی کہکشائیں ہیں عامر
الگ ہوں میں کہ الگ ہے ہر ایک سال کا خواب

شاعر: ڈاکٹر محمد عامر خان
یکم مارچ 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقد و تبصرہ۔۔۔یاسمین اختر طوبیٰ
ریسرچ اسکالر
گوجرہ، پاکستان

ڈاکٹر محمد عامر خان
کی یہ غزل اپنے مرکزی استعارے “خواب” کے گرد ایک ایسی فکری اور جمالیاتی فضا قائم کرتی ہے جس میں فرد کی داخلی کیفیات اور عہدِ حاضر کی اجتماعی پیچیدگیاں باہم پیوست نظر آتی ہیں۔ مطلع ہی میں عشق کو ہر کمال کی اساس قرار دے کر شاعر نہ صرف کلاسیکی روایت سے اپنا رشتہ استوار کرتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیتا ہے کہ اس کے نزدیک خواب محض نیند کی رو نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور وجودی عمل ہے۔ اس فکری سمت میں ہمیں Mir Taqi Mir کی داخلیت اور Allama Iqbal کی ارتقائی فکر کی ہلکی بازگشت سنائی دیتی ہے، تاہم شاعر کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ وہ عشق کو محض واردات نہیں بلکہ انسانی کمال کی بنیاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔

غزل آگے بڑھتی ہے تو خواب کی معنویت وسعت اختیار کرتی جاتی ہے۔ “عدوئے حق” اور “تمہارے حال کا خواب” جیسے مصرعے مکالماتی انداز میں ایک اخلاقی و سماجی تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں شاعر کا لہجہ صرف شکوہ نہیں بلکہ ایک فکری احتساب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ “وطن” اور “وبال” سے متعلق شعر میں اجتماعی زندگی کا اضطراب شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے، خواب یہاں امید کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت بن جاتا ہے جس میں حقیقت اور فریب کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کا اسلوب ہمیں Faiz Ahmed Faiz کی اس روایت سے قریب لے جاتا ہے جس میں ذاتی احساس اجتماعی شعور میں ڈھل جاتا ہے، اگرچہ ڈاکٹر عامر خان کا لہجہ نسبتاً براہِ راست اور علامتی ہے۔

فنی سطح پر غزل میں ردیف “کا خواب” کا التزام بڑی خوبی سے نبھایا گیا ہے، جس سے آہنگ میں تسلسل اور معنوی ربط پیدا ہوا ہے۔ قوافی کی ہم آہنگی شاعر کی عروضی مہارت کا پتہ دیتی ہے اور اشعار میں وزن کی روانی برقرار رہتی ہے۔ “ہلال” اور “حلال” کا شعر صنعتِ تجنیس کی کامیاب مثال ہے، یہاں لفظی مماثلت محض آرائش نہیں بلکہ ایک گہرا طنز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو مذہبی علامت اور عملی اخلاقیات کے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح “یمین” اور “شمال” کی علامت خیر و شر، نجات و محرومی اور روشنی و تاریکی کی تہذیبی تقسیم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جس سے شعر میں روحانی فضا پیدا ہوتی ہے اور دعا کا تاثر ابھرتا ہے۔

“فیوچر کے خدوخال” والا شعر جدید حسیت کا آئینہ دار ہے۔ انگریزی لفظ کا استعمال ایک طرف لسانی فضا میں خفیف سا اجنبیت کا احساس پیدا کرتا ہے، دوسری طرف عہدِ جدید کی ذہنی ساخت اور عالمی تناظر کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اگر اسے شعوری لسانی تجربہ سمجھا جائے تو یہ غزل کو معاصر فکری سیاق سے جوڑ دیتا ہے۔ مقطع میں نئے افق اور نئی کہکشاؤں کا ذکر امید اور امکانات کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ “ہر ایک سال کا خواب” وقت کے تغیر اور انسانی خواہشات کی مسلسل تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یوں غزل ایک دائرے کی صورت مکمل ہوتی ہے جہاں ابتدا عشق سے ہوتی ہے اور انتہا امکانات کی نئی وسعتوں پر۔

مجموعی طور پر یہ تخلیق روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہے۔ شاعر نے خواب کو کبھی جذبے، کبھی تنقید، کبھی اضطراب اور کبھی دعا کے استعارے کے طور پر برت کر اس میں معنوی تہہ داری پیدا کی ہے۔ اگر بعض مقامات پر اسلوبی ثقالت اور لسانی آمیزش کو قدرے ہموار کر دیا جائے تو اثر انگیزی مزید بڑھ سکتی ہے، تاہم موجودہ صورت میں بھی یہ غزل فکری سنجیدگی، علامتی وسعت اور فنی ضبط کے باعث قابلِ قدر ادبی کاوش کے طور پر سامنے آتی ہے۔
urdu poetry

50% LikesVS
50% Dislikes

ہو خوابِ ہجر یا ہووے کسی وصال کا خواب.. اساسِ عشق سے اٹھتا ہے ہر کمال کا خواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں