صحافت پر قدغن: بین الاقوامی قوانین اور مقامی حقوق کی پامالی، صحافی عدنان راوت کو گرفتار کیا گیا
رپورٹ، 5 سی این نیوز
صحافت پر قدغن: بین الاقوامی قوانین اور مقامی حقوق کی پامالی، صحافی عدنان راوت کو گرفتار کیا گیا
صحافی عدنان راوٹ کے خلاف حالیہ کارروائی نہ صرف آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہے، بلکہ یہ ان بین الاقوامی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن کا پاسداری کا دعویٰ ریاست کرتی رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) کے آرٹیکل 19 کے تحت:
”ہر انسان کو اپنی رائے رکھنے اور بلا خوف و خطر اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کسی بھی ذریعے سے معلومات اور نظریات کو تلاش کرے، حاصل کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔”
عدنان راوٹ نے صرف ایک ایسی لسٹ شیئر کی جو عوامی تحفظ سے متعلق تھی اور جس کا ماخذ سرکاری (فورس کمانڈر آفس) تھا۔ اسے “دہشت گردی” قرار دینا عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اگرچہ جی بی میں مکمل آئینی حقوق میسر نہیں، لیکن گلگت بلتستان آرڈر 2018 اور دیگر انتظامی احکامات کے تحت بھی بنیادی انسانی حقوق (Fundamental Rights) کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔
کسی صحافی کو صرف اس لیے نشانہ بنانا کہ اس نے “عوامی اہمیت” کی لسٹ جاری کی، مقامی انتظامیہ کے اپنے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔
اگر معلومات غلط تھیں تو اس کی تردید کی جا سکتی تھی، لیکن براہِ راست اے ٹی اے (ATA) کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ مقصد انصاف نہیں بلکہ “آواز دبانا” ہے۔
دہشت گردی ایکٹ کا غیر قانونی استعمال:
انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کسی عمل سے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا مقصود ہو۔ ایک لسٹ شیئر کرنا جس میں مبینہ حملہ آوروں کے نام ہوں، دراصل عوام کو باخبر کرنا اور سیکیورٹی اداروں کی شفافیت کو جانچنا ہے۔ اسے دہشت گردی میں بدل دینا قانون کا سنگین مذاق ہے۔
ہم اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین اور مقامی عدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ عدنان راوٹ کے خلاف درج انتقامی مقدمات کا نوٹس لیا جائے اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کا یہ سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
urdu news update Restrictions on Journalism
ایران کی اسٹریٹیجک ڈیفنس پالیسی. محمد شبیر چمن آبادی
سیاسی جیرہ دستی۔جب سوال جرم ٹھہرا. یاسمین اختر طوبیٰ. ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




