urdu news update Political Arrogance 0

سیاسی جیرہ دستی۔جب سوال جرم ٹھہرا. یاسمین اختر طوبیٰ. ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
سیاسی جبر کوئی اچانک نازل ہونے والا حادثہ نہیں، یہ آہستہ آہستہ تیار کی جانے والی فضا ہے، ایسی فضا جس میں آوازیں موجود تو ہوتی ہیں مگر وزن کھو بیٹھتی ہیں، اور سچ بولنے والا بولنے سے پہلے اپنے انجام کا اندازہ لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ وہ سناٹا ہے جو امن کے نام پر مسلط کیا جاتا ہے، وہ “نظم” جس میں سانسوں کو گنا جاتا ہے، اور وہ سکون جس کی قیمت سوال کی موت ہوتی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حالاتِ حاضرہ میں سیاسی جبر نے سخت وردی اتار کر مہذب لباس پہن لیا ہے۔ اب یہ قید خانوں سے زیادہ ضابطوں میں بستا ہے، کوڑوں سے زیادہ فائلوں میں بولتا ہے، اور بندوق سے زیادہ بیانیے پر قابض ہے۔ اب گرفتاری خبر کم اور وارننگ زیادہ ہوتی ہے، اور سنسرشپ اتنی نفیس ہو چکی ہے کہ دکھائی ہی نہیں دیتی۔ اختلاف کو بغاوت، سوال کو بدنیتی، اور تنقید کو انتشار قرار دے کر جبر کو حب الوطنی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

سیاسی جبر کی اصل کامیابی قید خانوں کی گنتی میں نہیں، بلکہ اس خوف میں ہے جو ذہنوں میں گھر کر لے۔ جب قلم لکھنے سے پہلے اجازت تلاش کرے، جب زبان بولنے سے پہلے ترازو میں تولی جائے، اور جب سوچ خود پر پہرا بٹھا لے، تو سمجھ لیجیے کہ جبر اپنی آخری منزل کے قریب ہے۔ اس مرحلے پر آمریت کو اعلان کی حاجت نہیں رہتی، معاشرہ خود اس کا اعلامیہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی جبر اب صرف ریاستی ایوانوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کے رضاکار ہر دور میں پیدا ہو جاتے ہیں، گلیوں میں، اسکرینوں پر، اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز میں۔۔۔۔ کردارکشی، ٹرولنگ، اور “ہم بمقابلہ وہ” کی سیاست اختلاف کو کچلنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہتا کہ بات درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کہنے والا کس صف میں کھڑا ہے۔

تاریخ مگر اس سارے کھیل کی خاموش تماشائی نہیں۔ وہ صاف لفظوں میں بتاتی ہے کہ سیاسی جبر وقتی سکون تو فراہم کر سکتا ہے، مگر پائیدار استحکام کبھی نہیں۔ طاقت خاموشی خرید سکتی ہے، رضامندی نہیں۔ مسائل کو دبایا جا سکتا ہے، حل نہیں کیا جا سکتا۔ جب مکالمہ ممنوع ہو جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، اور انصاف کی تاخیر جیسے مسائل دفن تو ہو جاتے ہیں، مگر دفن شدہ سچ ایک دن بدبو بن کر ضرور ابھرتا ہے۔

اس گھٹن زدہ ماحول میں بھی امید مکمل طور پر دم نہیں توڑتی۔ ہر عہد میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ خاموشی بھی ایک موقف ہے اور اکثر ظالم کے حق میں۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچ سہولت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ یہی لوگ یاد دلاتے ہیں کہ آئین محض کاغذوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی عہد ہے، کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ عوام سے مکالمے کا نام ہے، اور یہ کہ ریاست کی اصل طاقت اس کی برداشت، اس کی سماعت، اور اس کی جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

سیاسی جبر کا توڑ ہنگامے میں نہیں، حوصلے میں ہے۔ شور میں نہیں، استقامت میں ہے۔ گالی میں نہیں، دلیل میں ہے۔ نفرت میں نہیں، سوال میں ہے۔ مضبوط ریاستیں اختلاف سے نہیں گھبراتیں، وہ اس خاموشی سے ڈرتی ہیں جو سچ کو نگل جائے اور قوم کو اندر سے کھوکھلا کر دے۔

آخرکار سوال وہی ہے جو ہر دور میں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا رہتا ہے۔ کیا ہم بولنے کی اجازت پر قناعت کریں گے، یا بولنے کے حق پر اصرار کریں گے؟ انتخاب ہمارے سامنے ہے، یا تو ہم خاموشیوں کی اس سیاست کو قبول کر لیں، یا پھر اپنے سوالوں، اپنے لفظوں اور اپنے ضمیر کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کریں، کیونکہ قومیں ڈنڈے سے نہیں، سچ سے زندہ رہتی ہیں۔

urdu news update Political Arrogance

شگر انجمن امامیہ شگر کے ضلعی صدر کے انتخاب کیلئے اہم اجلاس، سید عباس الموسوی متفقہ طور پر صدر منتخب،

خونِ رہبر اور وحدتِ امت مسلمہ . محمد بشیر حیدری

50% LikesVS
50% Dislikes

سیاسی جیرہ دستی۔جب سوال جرم ٹھہرا. یاسمین اختر طوبیٰ. ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں