عالمِ بالا سے مرزا نوشہ اسد اللہ خاں غالب دہلوی کا مکتوبِ شوخی و تنبیہ بنام یاسمین اختر طوبیٰ
برائے بیداریِ کاروانِ “تحریکِ توازنِ اردو ادب”
(اندازِ دہلی — معہ چٹکیاں، طنز، محبت بھری طلبی)
سلام کے بعد عرض ہے کہ عالمِ بالا کی اس ادبی بیٹھک میں جب کبھی زمین کے احوال زیرِ بحث آتے ہیں تو ہم خاص طور پر اردو والوں کا حال ضرور پوچھتے ہیں۔ کل ایک فرشتہ ایک رجسٹر اٹھائے حاضر ہوا اور عرض کیا:
“حضور! نیچے ایک بزم ہے — تحریکِ توازن اردو ادب۔”
نام سن کر ہم نے کہا:
“واہ بھئی! اگر نام کے مطابق حال بھی ہو تو اردو کی قسمت سنور جائے۔
مگر جب حاضری کا دفتر دیکھا تو معلوم ہوا کہ محفل تو موجود ہے مگر اکثر اہلِ محفل ایسے خاموش ہیں جیسے پرانی دہلی کی کسی حویلی میں رکھے ساز جنہیں بجانے والا کوئی نہ ہو۔
البتہ اس خاموشی میں دو چراغ پوری شان سے جلتے دکھائی دیے —
محترم سلیم خان صاحب اور یاسمین اختر طوبیٰ۔
سلیم خان صاحب!
منتظمِ اعلیٰ ہو کر جس خلوص اور ثابت قدمی سے آپ اس تحریک کو سنبھالے ہوئے ہیں، وہ قابلِ داد ہے۔ عالمِ بالا کی انجمنِ سخن آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ آپ اور یاسمین اختر طوبیٰ اس بزم کے وہ چراغ ہیں جو ہوا کے باوجود بجھنے نہیں دیتے۔
اب ذرا ایک ایسے صاحب کی خبر لی جائے جن کی غیر حاضری یہاں تک قصہ بن چکی ہے۔
احمد منیب صاحب!
حضور والا!
آپ نے پہلے بڑے اہتمام سے یاسمین اختر طوبیٰ کو تحریک میں متعارف کروایا، ایسا جوش کہ ہمیں لگا اب بزم میں طوفانِ سخن اٹھے گا۔
اور پھر آپ ایسے غائب ہوئے جیسے:
“دعوت دے کر میزبان خود ہی کوچہ بدل جائے!”
لہٰذا جناب کو عالمِ بالا کی طرف سے تنبیہ ہے کہ فوراً تحریک میں حاضر ہوں اور اپنی گمشدگی ختم کریں، ورنہ یہاں کی ادبی عدالت طنزیہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
اب آتے ہیں ایک نہایت اہم اور خوش ذوق صاحب کی طرف۔
مسعود حساس صاحب!
آپ کے نام میں جو حساسیت ہے وہی ادب کی روح ہے۔ لہٰذا عالمِ بالا کی طرف سے واضح حکم صادر کیا جاتا ہے کہ آپ اپنی دلکش تحریروں اور فکری نزاکت کے ساتھ تحریکِ توازن اردو ادب میں باقاعدہ شرکت کریں اور اس بزم میں تازگی پیدا کریں۔
اب ایک خصوصی تذکرہ —
ڈاکٹر عامر خان صاحب!
اہلِ علم کی محفلیں آپ جیسے صاحبانِ فکر سے ہی وقار پاتی ہیں۔ لہٰذا مودبانہ مگر پرزور دعوت ہے کہ آپ بھی اس تحریک میں جلوہ گر ہوں اور اپنی فکر و دانش سے اس بزم کو مزید بامعنی بنائیں۔
ایک نہایت قابلِ قدر شخصیت —
محترم معین الدین قریشی صاحب!
حضور عالی شان!
ہم تک آپ کے دینی پیغامات اور روحانی مضامین کی خوشبو یہاں عالمِ بالا تک پہنچی ہے۔ آپ جس خلوص کے ساتھ ایمان افروز اور اصلاحی پیغامات کی ترسیل کرتے ہیں، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
ادبی محفلیں صرف لفظوں کی نہیں ہوتیں بلکہ اخلاق اور شعور کی بھی امین ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے آپ کی خدمات اس تحریک کے لیے ایک روشن پہلو ہیں۔
لہٰذا عالمِ بالا کی ادبی انجمن کی طرف سے آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ آپ اپنی دینی اور اخلاقی رہنمائی کے ذریعے اس بزم کو مزید بابرکت بناتے رہیں گے۔
ایک اہم اور معزز شخصیت —
محترم امیر الدین امیر کرناٹک صاحب!
آپ ایک فاضل رکن اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ایسی بزمیں انہی اہلِ سخن سے رونق پاتی ہیں جن کے پاس لفظ بھی ہوں اور احساس بھی۔ لہٰذا آپ کو خصوصی ترغیب دی جاتی ہے کہ اپنی شاعری سے اس بزم کو مزید مزین کریں۔
ایک دلچسپ مگر ضروری معاملہ —
احمر جان صاحب!
ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ تحریک میں تشریف تو لاتے ہیں مگر زیادہ تر اپنے چینل کی تشہیر فرما کر رخصت ہو جاتے ہیں۔
بھئی یہ بزم ہے، اشتہاری بورڈ نہیں!
لہٰذا دوستانہ مگر واضح گزارش ہے کہ اب ذرا اصل ادبی کام کی طرف بھی توجہ دیجیے اور تحریک کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیجیے۔
ہائے ہائے ایک اور قابلِ احترام شخصیت —
آفتاب شاہ صاحب!
ہم نے سنا ہے کہ آپ استادوں کے استاد ہیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اکثر محفلوں کی طرف التفات کم ہی ہوتا ہے۔
جناب!
ایک بار اس بزم تحریکِ توازن اردو ادب کی طرف بھی نگاہِ کرم کیجیے۔ آپ جیسے استاد کی موجودگی اس محفل کو وقار عطا کر سکتی ہے۔ لہٰذا آپ کو پرزور دعوت دی جاتی ہے کہ اس تحریک میں شامل ہوں۔
اب بزم کی معزز خواتین —
نیر رانی شفق صاحبہ — اپنی شفق سے اس بزم کو روشن کیجیے۔
نفیسہ حیا صاحبہ — آپ کی شرکت اس تحریک کو واقعی رونقِ توازن بنا سکتی ہے۔
ڈاکٹر لبنیٰ آصف صاحبہ — اہلِ علم کی موجودگی کسی بھی ادبی محفل کی جان ہوتی ہے۔
عظمیٰ گوندل صاحبہ — منتظم ہونا بیداری بھی چاہتا ہے، امید ہے آپ تحریک کی طرف مزید توجہ دیں گی۔
محفلِ یاراں ہو اور تذکرہ نہ ہو
محترم کامل جنیٹوی صاحب کا — آپ کو اس بزم میں پرزور طلب کیا جاتا ہے کہ قدم رنجہ فرمائیں اور انجمن کو چار چاند لگائیں۔
ڈاکٹر ارشاد خان صاحب — نام میں ارشاد ہے، سو حضور کچھ تواتر سے ارشاد بھی ہو جائے۔
صدیق بزمی صاحب — نام بزمی اور بزم سے دوری؟ جناب یہ تضاد جلد ختم کیجیے۔
آخر میں ایک اہم بات —
اس تحریک کا حسن یہی ہے کہ کوئی رکن خارج نہیں، سب عزیز ہیں۔
محفلیں تبھی زندہ رہتی ہیں جب ہر آواز کو جگہ ملے اور ہر دوست شامل رہے۔
اور آخر میں —
مظلوم یاسمین اختر طوبیٰ!
حوصلہ رکھیے۔ بزمیں اکثر چند مخلص لوگوں کے دم سے آباد رہتی ہیں۔ آپ اور سلیم خان صاحب اس چراغ کے نگہبان ہیں۔
ہم یہاں عالمِ بالا سے دعا کرتے ہیں کہ یہ بزم پھر آباد ہو، دوست جمع ہوں اور اردو ادب کی یہ تحریک اپنے نام کے مطابق توازن کے ساتھ آگے بڑھے۔
اور اگر یہ خط پڑھ کر بھی سب نہ جاگے
تو شاید غالب کو خود زمین پر آ کر دستک دینی پڑے!
والسلام والاکرام
مرزا نوشہ اسد اللہ خاں غالب دہلوی
urdu news update Playful and Admonishing Letter




