شگر اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف ضلع شگر میں شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
شگر اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف ضلع شگر میں شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے دہشتگردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واقعے کو انسانیت، امن اور مذہبی ہم آہنگی پر حملہ قرار دیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور دیگر مقررین نے کہا کہ اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش دھماکہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کھلی ناکامی کا ثبوت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت شیعیانِ حیدرِ کرارؑ کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام میں شدید عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت شہریوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو یہ ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ تکفیری گروہ کھلم کھلا شیعہ برادری کو دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایسے عناصر کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے میں ملوث تمام افراد، سہولت کاروں اور مبینہ ماسٹر مائنڈ کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور عبرتناک سزا دی جائے۔ احتجاج کے دوران شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی، فرقہ وارانہ نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور عوام اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن آواز بلند کرتے رہیں گے۔
urdu news update Massive Protest Against Islamabad Suicide Bombing
اسلام آباد خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت : حملہ آور کے 2 بھائی اور ایک خاتون گرفتار
ایپسٹین فائلز اور ٹرمپ کے ممکنہ مواخذہ کی آئینی و سیاسی بحث، جی ایم ایڈوکیٹ




