امریکہ، ایران، اسرائیل کشیدگی, ممکنہ جنگ یا محدود تصادم ، جی ، ایم ایڈوکیٹ
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، جب ایران نے امریکہ نواز شاہی نظام کا خاتمہ کر کے ایک انقلابی اسلامی ریاست قائم کی۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات عدم اعتماد، پابندیوں، خفیہ جنگ، پراکسی محاذ آرائی اور محدود تصادمات پر مشتمل رہے ہیں۔ ایران۔عراق جنگ، خلیج میں ٹینکر وار، افغانستان اور عراق میں بالواسطہ محاذ آرائی، 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، اور 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری یہ سب اسی طویل تصادماتی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔ اس پورے پس منظر میں ایک حقیقت مستقل رہی ہے کہ دونوں فریق براہِ راست ہمہ گیر جنگ سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم دباؤ، دھمکی اور طاقت کے مظاہرے کو سفارت کاری کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو غیر معمولی بنانے والے تین عوامل بیک وقت متحرک ہیں۔ پہلا، ایران کا جوہری پروگرام، جسے امریکہ اور اسرائیل ایک وجودی خطرہ تصور کرتے ہیں۔ دوسرا، اسرائیل کی داخلی اور علاقائی کمزوریاں اور اس کا یہ احساس کہ وقت اس کے خلاف جا رہا ہے۔ تیسرا، امریکی داخلی سیاست، جہاں صدر ٹرمپ کی قیادت میں طاقت کے استعمال کو ایک مؤثر سیاسی اور تزویراتی آلہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب اسے “Deterrence” یا “امن بذریعہ طاقت” کے بیانیے میں پیش کیا جائے۔ اسی تناظر میں امریکہ کے ایران سے ممکنہ مطالبات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ واشنگٹن چاہے گا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محدود یا منجمد کرے، یورینیم افزودگی کی سطح کم کرے اور بین الاقوامی معائنہ نظام کو بغیر کسی رکاوٹ کے قبول کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغن، خطے میں مسلح گروہوں جیسے حزب اللہ، حوثی اور دیگر ملیشیاز کی حمایت ختم کرنا، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ ان مطالبات کے پیچھے امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا، اسرائیل اور خلیجی اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنانا، توانائی کی عالمی سپلائی کو محفوظ رکھنا، اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اپنے حق میں برقرار رکھنا ہے وہ بھی براہِ راست بڑی جنگ کے بغیر. اب دیکھتے ہیں کہ موجودہ ممکنہ جنگی ماحول میں خطے میں فضائی آپریشنز کی معطلی محض ایک تکنیکی یا احتیاطی اقدام نہیں، بلکہ جدید دور میں جنگ کے ابتدائی اشاروں میں شمار ہوتی ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1991 کی خلیجی جنگ، 2003 کی عراق جنگ، اور حتیٰ کہ 2022 میں یوکرین جنگ سے قبل بھی عالمی ایئرلائنز نے اسی نوعیت کے اقدامات کیے تھے۔ جب یورپی اور مغربی ممالک بیک وقت مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے خود کو الگ کرنے لگیں، تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ ریاستی اور عسکری انٹیلی جنس ادارے ممکنہ بڑے تصادم کے امکانات کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں. اسی دوران امریکہ نے بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 40 ہزار امریکی اہلکار تعینات ہیں، جن میں بحری، فضائی اور زمینی دستے شامل ہیں، جبکہ USS Abraham Lincoln طیارہ بردار جہاز گروپ اور دیگر جنگی اثاثے بھی خطے میں موجود ہیں۔ تین امریکی ڈسٹرائرز، جن میں ٹوماہاک کروز میزائل نصب ہیں، اور Iron Clad Force کے تحت فوری ردِعمل کی صلاحیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔ تاہم تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی تعیناتیاں اکثر نفسیاتی دباؤ، مذاکراتی برتری اور تزویراتی پیغام رسانی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں، جیسا کہ شمالی کوریا کے معاملے میں دیکھا گیا۔ اس بحران میں اسرائیل کا کردار سب سے زیادہ حساس ہے۔ اس کا اسٹریٹجک کلچر پیش بندی (Pre-emption) پر مبنی رہا ہے، جیسا کہ 1967 کی جنگ، 1981 میں عراقی جوہری ری ایکٹر پر حملہ، اور 2007 میں شام کی مبینہ جوہری تنصیب پر کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اگر ایران جوہری پروگرام میں کسی “ناقابلِ واپسی مرحلے” میں داخل ہو گیا تو عسکری کارروائی بے معنی ہو جائے گی۔ تاہم ایران پر براہِ راست حملہ محدود نہیں رہے گا، کیونکہ حزب اللہ، حماس، حوثی اور دیگر علاقائی محاذ فوری طور پر متحرک ہو سکتے ہیں۔ ایران کی عسکری حکمتِ عملی بظاہر دفاعی، مگر عملی طور پر جارحانہ ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔ اس کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جن کی رینج 300 سے 2000 کلومیٹر تک ہے، جیسے شہاب-3، قدر-110 اور ظفر۔ فضائی قوت میں ایف-14، ایف-4، ایف-5 اور مقامی طور پر تیار کردہ طیارے شامل ہیں، جبکہ ڈرون اور UAV ٹیکنالوجی میں بھی ایران نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ بحری محاذ پر فاسٹ اٹیک کرافٹ (Fast Attack Craft)، آبدوزیں اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں ایران کو آبنائے ہرمز میں غیر متوازن مگر مؤثر طاقت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ان تمام صلاحیتوں کے باوجود، اگر ایران امریکی مطالبات مان لیتا ہے تو اسے اپنی خودمختاری اور دفاعی حکمتِ عملی پر بڑا سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ جوہری اور میزائل پروگرام پر پابندیاں ایران کی نظر میں اس کی ڈیٹرنس کو کمزور کر دیں گی، جسے وہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابل توازن کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ دوسری طرف، انکار کی صورت میں ایران کو سخت معاشی پابندیوں، سفارتی تنہائی، اندرونی دباؤ اور محدود فوجی تصادم کا سامنا رہتا ہے۔ یوں ایرانی قیادت کے لیے انقلابی بیانیے، عوامی توقعات اور ریاستی سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نہایت مشکل عمل بن جاتا ہے۔ ایران اور امریکہ کی کشیدگی میں چین اور روس کا کردار بھی اہم ہے۔ چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ روس دفاعی اور تکنیکی تعاون فراہم کرتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک ایران کی کھلی عسکری مدد کے بجائے سایہ دار تزویراتی حمایت تک محدود رہیں گے، جو ایران کو سفارتی اور مذاکراتی اعتماد تو دے سکتی ہے، مگر براہِ راست جنگ میں شمولیت کے امکانات کم ہیں. مجموعی طور پر موجودہ صورتحال ایک کنٹرولڈ اسٹریٹجک توازن کی عکاس ہے۔ فوری اور ہمہ گیر امریکہ-ایران-اسرائیل جنگ کے امکانات محدود ضرور ہیں، مگر خطرناک حد تک موجود ہیں۔ زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ ایران کو ممکنہ جنگ ٹالنے اور پابندیاں کم کرانے کے لیے تصادم کے بجائے کنٹرولڈ ڈپلومیسی اختیار کرنا ہوگی، جس میں جوہری پروگرام پر قابلِ تصدیق حدود، آئی اے ای اے کے ساتھ شفاف تعاون، علاقائی اشتعال میں کمی، مرحلہ وار مذاکرات، قیدیوں کے تبادلے اور اعتماد سازی جیسے اقدامات شامل ہوں۔ یہ ایک طویل اور تھکا دینے والی تزویراتی آزمائش ہے، جس میں ایک غلط حساب، ایک حادثہ یا ایک جذباتی فیصلہ پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ یہی نازک توازن آج مشرقِ وسطیٰ کی اصل تصویر ہے، اور اسی نزاکت نے دنیا بھر کی پروازوں کو زمین پر لا کھڑا کیا ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
0



