گھر کیسے چلے گا !! طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
حکومت وقت نے عام عوام پر وہ ایٹم بم گرایا ہے جس میں لوگ بس تڑپ تڑپ کر مر جائیں گے ۔ لوگ اب ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے ۔ یہ بات مزاح نہیں ہے کہ ہر چیز عام عوام کی دسترس سے کوسوں دور چلے گئے ہیں ۔ ایک ماہ پہلے جو گیس سلینڈر تین ہزار روپے میں ملتا تھا اب چھے ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔ گھر میں استعمال ہونے والی ماچس سے لے کر بھینس کی گوبر تک حکومت نے ٹیکس لگا دی ہے ۔
اور مزے کی بات ، حکومت چور ہوا تو تاجر برادری اس بھی گر چکا ہے ۔ خاص کر وادی اسکردو میں چائے وہ گیس ہو ، تیل ہو یا گھریلو ساز و سامان ، تاجر برادری پرانی سٹاک کو بھی دگنی کر کے بھیج رہے ہیں ۔
پھر وہی لوگ اسلام اسلام ، مسلمان ، ایران کر کے ڈرامے بازیاں لگائی جاتی ہے ۔ اور عوام ، بھوک سے مر رہے ، گھر کا گھر تباہ ہو رہے ہیں ، بچے بھوک سے مر رہے ہیں ، اسکولوں میں بچوں کو بھیجنے کی حیثیت ختم ہو رہی ہیں ۔
لیکن ہم ایک دوسرے کو کافر ، مشرک ، منکر ، ایک دوسرے کی مقدسات کو لے کر لڑ رہا ہوتا ہے ۔ تم ایک دوسرے سے مذہب کے نام پر لڑتے رہو ، جبکہ یہ مافیاز تمہارے نسلیں تباہ کر رہے ہیں۔
اسکولوں میں پرایئوٹ اسکول کے مالکان نے بیس فیصد فیسوں میں اضافہ کیا ہے ۔ لیکن ان سکولوں کے سستے ملازمین ( اساتذہ ) آج بھی بیس سال پہلے والی تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں ۔ استادوں کے نام پر جمع کرنے والی فیس ، اُستادوں کو نہیں مل رہے ۔
یہ ملک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ، ہر شخص اپنی لاٹھی کے حساب سے بھینس کو پیٹ رہا ہے ۔ اور وہ بھینس ہے عام عوام ۔
عزیز دوستو !!
فرقہ پرستی سے نکل آؤ ، کسی سیاسی پارٹی کے لیے اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کرو ، یہ سب کتے ہیں ۔ بس اپنی مفاد کے لیے ہی لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جو 78 سالوں سے آپ کی بنیادی ضرورتیں پوری نہ کر پائیں وہ خاک آپ کے لیے لڑیں گے ۔
ایک عام آدمی ذہنی مریض بن چکا ہے ۔ ہر چیز کے لیے قیمتیں بڑھ گئی ہے لیکن ایک مزدور کی مزدوری نہیں بڑی ۔ وہ آج بھی وہی ایک ہزار سے بارہ سو روپیہ میں کام کر رہا ہے ۔
اب اس مشکل وقت آپ کو کیا کرنا چاہئے ؟؟ اب آپ صرف اپنے گھر کو بچائیں ، اپنی گھر کی حفاظت کریں ۔ آپ اسی سے اندازہ لگائیں کہ جنگ آپ کی ملک میں نہیں ہو رہی ، جنگ ایران اور امریکہ کے درمیان ہے لیکن قحط سالی آپ کے ملک میں پھیل رہا ہے ۔ آپ کے ملک ایک ماہ بھی اپنے عوام کو نہیں پال سکتے ۔
آپ اس مشکل گھڑی میں کچھ ایسے کام کر سکتے ہیں جن سے آپ کے گھر کا چولہا جلتے رہے ۔
1۔ آپ اپنی جتنی بھی بنجر زمینیں ہے ، انہیں آباد کریں ، اس پر محنت کریں ۔ کوشش کریں گھر میں زیادہ سے زیادہ چیزیں اگانے کی کوشش کریں ۔ اگر آپ کے پاس زمینیں نہیں ہے تو آپ گھر میں شاپر میں بھی مٹی ڈال کر چیزیں اگا سکتی ہے ۔ کوشش کریں دکانوں سے ادھار کم سے کم لیں کیونکہ یہ دکانیں اب ایک کا چھے گننا منافع کھا رہے ہیں ۔
2۔ اپنی نفس پر قابو رکھیں ، فلحال اپنی خواہشات کو دفن کرکے اپنی ضروریات پر توجہ دیں ۔ نئے کپڑے خریدنا بند کریں ، شاپنگ پر اپنا پیسہ ضائع نہ کریں۔ شادی ہے تو بہت سادہ کریں۔ اپنی شادی میں اخراجات کم کریں ، غیر ضروری رسومات ادا کرنے سے گریز کریں ۔
3۔ اگر آپ کا بچہ کسی پرائیویٹ ادارے میں پڑھ رہا ہے تو کوشش کریں کہ انہیں گورنمنٹ اسکولوں میں داخل کروائیں ، گھر پر بچوں پر توجہ دیں۔ اور اپنے پیسوں کو زیادہ سے زیادہ بچائیں ۔ آپ کے پیسے مظلوم اساتذہ پر نہیں بلکہ مالکان کو امیر بنا رہے ہیں ۔ خیر نقطہ یہ ہے کہ بچوں کو تعلیم دیں اور اب ماشاءاللہ سے گورنمنٹ سکولوں میں بہترین اساتذہ ہے تو بہتر سے بہترین تعلیم مل جاتی ہے بس آپ کوشش کریں گھر میں توجہ دیں ۔
4 ۔ فضول خرچ نہ کریں ۔ بے جا پارٹیوں میں اپنا پیسہ ضائع نہ کریں ۔ یونیورسٹی اور کالجز میں ممی ڈیڈی بچّوں کی کہنے پر طرح طرح کی پارٹی نہ کریں ۔ انہیں فرق نہیں پڑتا لیکن آپ کو بہت فرق پڑے گا ۔ گھومنے پھرنے کے لیے ضرور جائیں لیکن چیزیں یا خود پکائیں یا پکا کر لے جائیں تاکہ آپ کا پیسہ بچ سکے ۔
عزیز دوستو !!
آپ ذرا سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کو گزریں ، یہ لوگ کیا کہیں گے والی تھیوری سے نکل جائیں ، ورنہ سڑک پر آ جائے گا۔ آپ حقیقت سے دور نہیں بھاگ سکتے ۔
گلگت بلتستان میں تقریباً 99 فیصد لوگ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ حکومت کا ایٹم بم صرف مڈل کلاس کے اوپر گرے ہیں ۔۔ تو کوشش کریں ، فلحال آپ اپنی محدود وسائل کا عقلمندی سے استعمال کرتے ہوئے زندہ رہے اور خوش رہیں ۔
جزاکم اللہ
تحریر نگار:
طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
06 اپریل 2026
نوٹ !
یہ تحریر صرف مڈل کلاس لوگوں کے لیے ہیں ۔
urdu news update How Will the Household Survive
بہت اہم تحریر ہے خود تک محدود نہ رکھیں صدقہ جاریہ سمجھ کر اسے ہر مڈل کلاس کے لوگوں تک پہنچائیں ۔
شگر انجمن امامیہ سکردو اور انجمن امامیہ شگر نے برطرف پولیس اہلکاروں کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا۔
ہمت، عزم اور کردار: مضبوط نوجوان کی تعمیر. منظور نظرؔ (افکارِ بلتستان)




