ویلنٹائن ڈے کی اصل تاریخ اور ہمارے لڑکے لڑکیاں ۔ طہ علی تابشٓ بلتستانی
14 February, 2026
بہت عرصہ پہلے ، روم شہر میں ایک ظالم بادشاہ کلاڈیوس دوم حکومت رہتا تھا۔ اس نے ایک عجیب سا حکم جاری کردیا کہ کوئی سپاہی شادی نہیں کر ینگے. اس کا خیال تھا کہ شادی شدہ سپاہی کمزور ہو جاتے ہیں اور جنگ نہیں لڑ سکتے۔
اس شہر میں ایک نیک دل پادری رہتا تھا جس کا نام پادری ویلنٹائن تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ نوجوان سپاہی اور ان کی محبوب کس طرح بادشاہ کے حکم کی وجہ سے تڑپ رہے ہوتے ہیں لہذا اس نے چپکے چپکے محبت کرنے والے تمام جوڑوں کی شادیاں کرانا شروع کر دیں۔
ایک رات، پادری ویلنٹائن ایک نوجوان جوڑے کی شادی کرا رہا تھا کہ سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا۔
سپاہیوں نے اسے جیل میں ڈال دیا اور سزائے موت سنا دی۔ جیل میں پادری ویلنٹائن عرصہ دراز تک قید رہا ۔ لیکن دوسری طرف پادری ویلنٹائن کو قید خانے پر موجود سپاہی کی اندھی بیٹی سے محبت ہوگئے وہ اسے دنیا کے بارے میں بتاتا اور اس کی آنکھوں کے بجائے انہیں دل سے دیکھنا سکھاتا۔
جب پادری کو سزائے موت سنائی تو پھانسی سے ایک رات پہلے، پادری ویلنٹائن نے اس لڑکی کو ایک خط لکھا۔ اس میں اس نے بتایا کہ وہ اسے کتنا اچھا دوست مانتا اور کتنا۔محبت کرتا ہے۔
اور خدا سے اس کی آنکھوں کی شفا کی دعا کرتا ہے۔ دکھ بھری داستان کے بعد خط کے آخر میں اس نے لکھا: ” میں ہوں تمہارا مظلوم ویلنٹائن”
صبح جب ویلنٹائن کو پھانسی دی گئی، تو لڑکی کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے پہلی بار دنیا دیکھی اور جب وہ اٹھ چکی تھی تو دروازے پر ایک خط پڑا تھا ۔
خط کے باہر بہت خوبصورت الفاظ میں لکھا تھا کہ ” شاید یہ میری آخری خط ہو ”
اور اسی 14 فروری کو سر عام محبت کرنے کی جرم میں پادری ویلنٹائن کو پھانسی دی گئی ۔
اسی دن کی مناسبت سے لوگ 14 فروری کو محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان خطوط کو “ویلنٹائن” کہتے ہیں جو دل سے لکھے جائیں۔
لیکن آج کل لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام پر ڈیٹ پر جاتے ہیں یعنی وہ لوگ بند کمرے میں اپنی ہوس پوری کرتے ہیں اور ایک دفعہ پھر محبت کے پاک رشتے کو زنا جیسے غلیظ کام کا حصہ بناتا ہے ۔
میں ویلنٹائن ڈے کا مخالفت نہیں کرتا بلکہ میں اس دن ہونے والے “یوم ازنا ” سے مسئلہ ہے ۔ ہوس پوری کرنے کے لیے ڈیٹ پر جانے سے بہتر ہے کہ گھر والوں کو منا کر نکاح کریں ۔
ایسے کتنی لڑکیوں کی زندگی جہنم بن چکی ہے جس نے ڈیٹ ایک دفعہ انجوائے کرنے کے بعد تاحیات ذلالت ، رسوائی اور گھر میں محسور ہو کر رہ گئے ۔
ایسے کتنی لڑکیاں ہے جن کو ٹیشو پیپرز کی طرف لڑکوں نے استعمال کر کے ڈسٹ بن میں پھینک کر اگلے ویلنٹائن ڈے کسی اور لڑکی کے ساتھ منائے ۔
ایسے کتنی لڑکیاں ہے جو ڈیٹ کے نام پر ننگی ہو کر ان کی ویڈیوز پورن ہب پر اپلوڈ ہو چکی ہے ۔
بیشک ،
محبت کریں ، پسند کریں لیکن نکاح سے پہلے اپنی حدود پار نہ کریں ۔ بہت ساری لڑکیاں اس لیے تباہ ہوچکی ہے کہ وہ یہ سوچتی تھی کہ ” میرا والا ایسا نہیں ہو سکتا ” اور ہوا وہی جو سب کے ساتھ ہوتا ہے ۔
خدارا !!
اپنی جذبات پر قابو رکھیں ، نکاح کریں اور عمر بھر ویلنٹائن ڈے منائیں ورنہ آپ تو عمر بھر کنواری مر جائے گی لیکن ساتھ میں اپنے بہنوں کو بھی کنواری بوڑھی کر دے گی ۔
کیونکہ یہ معاشرہ گندی ذہنیت کا معاشرہ ہے ، جہاں ایک غلطی کی سزا پوری خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
وسلام ۔
تحریر نگار
طہ علی تابشٓ بلتستانی
اگر آپ کسی کو سمجھا نہیں سکتے تو اسے یہ تحریر بھیج کر بچا سکتی ہے
urdu news update History of Valentine’s Day
لاہور میں جشنِ آزادی شگر کی پروقار تقریب، گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر زور
GB زمینی عناصر کی صلاحیت ، محسن علی شگری
اسٹیٹ سبجیکٹ رول (State Subject Rule) منور شگری
ملالہ یوسُفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے اسکالرشپ کا اعلان




