پسماندہ علاقوں سے عالمی افق تک چھوربٹ کی طالبات کی محنت کا فلسفہ اور تعلیمی کامیابی کی اہمیت. جی ایم ایڈوکیٹ
گلگت بلتستان کے دور دراز اور جغرافیائی طور پر دشوار گزار علاقے چھوربٹ سے تعلق رکھنے والی ساتویں کلاس کی طالبہ ہیرا فرمان نے گولڈ میڈل جبکہ پانچویں کلاس کی طالبہ معصومہ ابراہیم نے سلور میڈل 2025 American Mathematics Olympiad میں حاصل کر کے نہ صرف قائد ملت پبلک اسکول امیرآباد چھوربٹ بلکہ پورے گلگت بلتستان اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک تعلیمی اعزاز نہیں بلکہ ایک سماجی، فکری اور قومی سطح کا اہم واقعہ ہے، کیونکہ ریاضی جیسے دقیق، تجریدی اور ذہنی مشقت طلب مضمون میں عالمی سطح کا مقابلہ جیتنا ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والی طالبات کے لیے جہاں بجلی، انٹرنیٹ اور جدید تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں، بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ انسانی عزم اور مسلسل محنت اکثر ناممکن کو ممکن میں بدل دیتی ہے۔ راقم کو اس خطے کے حالات کا نہ صرف علمی بلکہ ذاتی مشاہدہ بھی حاصل ہے، کیونکہ نوّے کی دہائی میں تقریباً پانچ سے چھ برس تک اسی علاقے میں قیام کا موقع ملا۔ اس دوران سرد موسم، دشوار گزار راستے، محدود تعلیمی وسائل اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ چھوربٹ کے سرحدی گاوں فرانو پرائمری اسکول میں اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے راقم اور حوالدار نزیر صاحب نے وہاں بچوں کو سال 1992 میں رضاکارانہ طور پر پڑھاتے رہے ہیں، جس سے اس خطے کے تعلیمی چیلنجز کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ اس پس منظر میں ہیرا فرمان اور معصومہ ابراہیم کی کامیابی کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں تعلیمی تسلسل برقرار رکھنا ہی ایک چیلنج ہوتا ہے، چہ جائیکہ عالمی سطح پر AMO جیسے عظیم پلیٹ فارم سے Mathematics کے مقابلے میں نمایاں مقام حاصل کرنا۔ راقم کی اپنی زندگی بھی مسلسل محنت، محدود وسائل اور جدوجہد سے عبارت رہی ہے، اس لیے کم سہولیات کے ساتھ تعلیمی اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کی دشواریوں کا بخوبی ادراک ہے۔ ٹوٹے ہوئے پروں سے فلک چومنے کی آس. کیسی رہی اڑان کوئی ہم سے پوچھتا کے مصداق میرا ذاتی تجربہ اس تحریر کے پس منظر میں کارفرما ہے کہ ان بچیوں کا ٹیلنٹ کسی طور ضائع نہ ہو اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں میں خصوصی طور پر وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سکریٹری گلگت بلتستان، سیکریٹری تعلیم گلگت بلتستان اور سرحدی علاقہ ہونے کی نسبت خاص طور پر FCNA کمانڈر صاحب سے بھی گزارش کرونگا کہ وہ ان بچیوں کے تعلیمی اخراجات اعلیٰ تعلیم تک سرکاری خرچے سے کرانے میں کردار ادا کریں۔ عمومی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستان کے پسماندہ ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے اور چھوربٹ گلگت بلتستان کے اندر بھی انتہائی پسماندہ اور وسائل سے محروم ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دو کم سن طالبات کی عالمی سطح پر کامیابی انسانی عزم، استقامت اور محنت کی عظمت کا عملی اظہار ہے۔ اگر محنت کے فلسفے کو تاریخی اور نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو قرآن مجید کا اصول “لَیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ” واضح کرتا ہے کہ انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ مغربی مفکر Max Weber نے اپنی معروف تصنیف The Protestant Ethic and the Spirit of Capitalism میں محنت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو معاشی و سماجی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ جدید نفسیات میں Angela Duckworth کی Grit Theory کے مطابق طویل المدتی اہداف کے حصول میں مستقل مزاجی اور جذبۂ استقامت ذہانت سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ Carol Dweck کی Growth Mindset Theory بتاتی ہے کہ وہ افراد جو اپنی صلاحیتوں کو محنت اور سیکھنے کے ذریعے بہتر بنانے پر یقین رکھتے ہیں، مشکلات کے باوجود کامیابی کی منازل طے کرتے ہیں۔ ان نظریات کی روشنی میں ہیرا فرمان اور معصومہ کی کامیابی ایک عملی “Growth Mindset” اور غیر متزلزل استقامت کی عکاس ہے۔ معاشی و سماجی علوم میں Human Capital Theory یہ واضح کرتی ہے کہ تعلیم میں سرمایہ کاری کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ لہٰذا اگر ریاست ایسے باصلاحیت بچوں کی سرپرستی کرے تو وہ مستقبل میں قومی ترقی کے محرک بن سکتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ گلگت بلتستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان ہونہار طالبات کو اعزازات، وظائف اور اعلیٰ تعلیم تک مکمل مالی معاونت فراہم کرے تاکہ ان کی صلاحیتیں مزید نکھر سکیں، اور ان کے اساتذہ، اسکول اور والدین کی خدمات کا بھی باضابطہ اعتراف کیا جائے کیونکہ تعلیمی کامیابی ایک اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ بچیاں نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے خطے کے بچوں کے لیے رول ماڈل ہیں اور انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا اور محنت کا کوئی متبادل نہیں۔ قومی ترقی صرف بڑے شہری مراکز سے وابستہ نہیں بلکہ دور افتادہ علاقوں کے یہ باصلاحیت بچے ہھی اصل قومی سرمایہ ہیں۔ ہیرا فرمان اور معصومہ ابراہیم کی کامیابی اس ابدی سچ کی توثیق ہے کہ محنت میں عظمت ہے اور علم ہی انسان کو بلند کر کے عالمی افق تک پہنچاتا ہے۔ دل کی گہرائیوں سے ان طالبات، ان کے اساتذہ، والدین اور اہلِ چھوربٹ کو مبارک باد پیش کی جاتی ہے. یاد رہے ہیرا فرمان اور معصومہ ابراہیم کی کامیابی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ محدود وسائل اور پسماندہ ماحول بھی عزم، محنت اور مستقل مزاجی کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ یہ صرف ایک تعلیمی اعزاز نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے بچوں کے لیے رول ماڈل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ علم، محنت اور لگن انسان کو جغرافیائی، سماجی اور معاشی حدود سے آزاد کر کے عالمی سطح پر پہنچا سکتے ہیں. گلگت بلتستان کے تمام بچوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور سیکھنے کا جذبہ کبھی ترک نہ کریں۔ چاہے وسائل محدود ہوں یا راستے دشوار گزار، علم اور عزم کی طاقت آپ کو کامیابی کے بلند ترین درجات تک پہنچا سکتی ہے۔ اپنے علاقے کے حالات کو بہانہ نہ بنائیں، بلکہ ہیرا فرمان اور معصومہ ابراہیم کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں اور ہر دن کچھ نیا سیکھنے اور بہتر کرنے کی کوشش کریں. یقین رکھیں کہ آپ کی محنت نہ صرف آپ کی ذاتی ترقی بلکہ پورے علاقے اور قوم کے لیے فخر اور سرمایہ بن سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے ہر طالب علم کو چاہیے کہ تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائے، مشکلات کو حوصلہ افزائی میں بدل دے اور محنت کے ذریعے اپنے اور علاقے کے روشن مستقبل کا راستہ خود ہموار کرے۔ یہی عزم اور محنت کا فلسفہ ہے جو چھوٹے گاؤں سے عالمی افق تک رسائی کی بنیاد بنتا ہے۔
جی ایم ایڈووکیٹ
urdu news update Hard Work to Global Horizons
نمازی بچہ نمازی حالت میں شہید. سید مظاہر حسین کاظمی
بین الصوبائی اقامتی منصوبہ 2026 از اکادمی ادبیات پاکستان. شہزین فراز




