شگر رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر ملتے ہی ضلع شگر سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر آنکھ اشکبار
رپورٹ ۔ عابد شگری 5 سی این
شگر رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر ملتے ہی ضلع شگر سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، مرد، خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے سب غم سے نڈھال دھاڑیں مار کر روتے دکھائی دیے۔ خبر موصول ہوتے ہی خانقاہِ معلیٰ سے اعلانات کیے گئے جس کے ساتھ ہی لوگ روتے ہوئے مساجد اور امام بارگاہوں کی جانب دوڑ پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ضلع کی فضا سوگوار ہو گئی اور علاقے میں غم کی شدید لہر دوڑ گئی۔ جونہی یہ افسوسناک اطلاع شگر پہنچی تو اہالیانِ علاقہ پر گویا قیامتِ صغریٰ برپا ہو گئی۔ ہر جانب آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور فضا مرثیوں اور نوحوں سے گونج اٹھی۔ پہلی بار ضلع شگر میں خواتین بھی بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئیں۔ اشکبار آنکھوں اور بین کرتی ہوئی خواتین سڑکوں پر آ گئیں جنہیں سنبھالنا اہلِ خانہ کے لیے مشکل ہو گیا۔ کئی مقامات پر خواتین نے شدید جذباتی انداز میں احتجاج کیا جبکہ بزرگ خواتین نوحہ و ماتم کرتی رہیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا عوامی ردِعمل اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے سے اظہارِ تعزیت کرتی رہی جبکہ نوجوان، بزرگ اور علمائے کرام جوق در جوق عبادت گاہوں کا رخ کرتے رہے۔ متعدد مقامات پر فوری طور پر مجالسِ عزا منعقد کی گئیں جہاں مقررین نے رہبرِ معظم کی دینی، سیاسی اور عالمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجتماعات میں مرحوم کے درجات کی بلندی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمِ اسلام کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ شہریوں نے سیاہ لباس زیب تن کر کے اپنے غم کا اظہار کیا جبکہ مختلف علاقوں میں اجتماعی دعاؤں اور تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا۔ ضلع شگر میں مجموعی طور پر سوگ کی کیفیت برقرار ہے اور شہری بڑی تعداد میں عبادت گاہوں کا رخ کر رہے ہیں۔
0



