شگر ۔ جن حکمرانوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے افواج بھیجنے کے دعوے کیے، وہ اپنے ہی ملک میں امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں،
رپورٹ 5 سی این نیوز
شگر علماۓ امامیہ شگر کے صدر سید طہ شمس الدین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اندرونی سہولت کاروں کو جڑ سے ختم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ترلائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ جن حکمرانوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے افواج بھیجنے کے دعوے کیے، وہ اپنے ہی ملک میں امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ سید طہ شمس الدین نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ قربانیاں گلگت بلتستان کے عوام نے دی ہیں۔ سانحہ ترلائی میں بھی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ٹاپ کلاس پولیس افسر بہادر علی سمیت دیگر بے گناہ شہریوں کا خون ناحق بہایا گیا، جس سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ بالخصوص بلتستان ڈویژن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان معصوم شہداء کا خون ایک دن انقلاب کی بنیاد بنے گا۔ صدر علماۓ امامیہ شگر نے کہا کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے میں تو مکمل ناکام رہی ہے، تاہم لاشیں بھیجنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کی قربانیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ ترلائی میں ملوث مبینہ ملزمان اور ان کے نیٹ ورک کی نشاندہی بظاہر خوش آئند ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اصل سہولت کاروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
Urdu news update Gilgit baltistan news




