سکردو ، نہ کبھی گالم گلوچ کی سیاست کو فروغ دیا، نہ کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالا، بلکہ سیاسی اختلاف کو ہمیشہ دلیل، تحمل اور احترام کے دائرے میں رکھا۔، سابق رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر خان
سابق رکن گلگت بلتستان اسمبلی کاچو امتیاز حیدر خان نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ ان کی سیاست کی بنیاد ہمیشہ مثبت طرزِ عمل، شائستگی اور جمہوری اقدار پر رہی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے نہ کبھی گالم گلوچ کی سیاست کو فروغ دیا، نہ کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالا، بلکہ سیاسی اختلاف کو ہمیشہ دلیل، تحمل اور احترام کے دائرے میں رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ پیش آنا کمزوری نہیں بلکہ جمہوریت کی اصل طاقت ہے تاہم، کاچو امتیاز حیدر خان اس تلخ حقیقت کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران، بالخصوص ایک مخصوص مذہبی جماعت اور اس کے کارکنوں کی جانب سے، ان کی مسلسل کردار کشی کی جاتی رہی۔ اس کے باوجود انہوں نے ردعمل میں ذاتی حملوں کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اپوزیشن کے کردار کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھتے ہوئے ادا کیا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کا فرض صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں، بلکہ ان اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے جو عوامی مفاد کے خلاف ہوں اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ کاچو امتیاز حیدر خان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سابقہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں بعض فیصلوں اور پالیسیوں پر تنقید کی تو یہ کسی ذاتی عناد کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک منتخب نمائندے کی حیثیت سے ان کا جمہوری حق اور عوام کے سامنے جواب دہی کا تقاضا تھا۔ مثبت سیاست کا یہی مفہوم ہے کہ اختلاف رائے رکھا جائے، مگر احترام کے دائرے کو پامال نہ کیا جائے۔ اسی تناظر میں وہ حلقہ دو میں پی ایس ڈی پی اسکیموں کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی سابق نمائندے نے “تاریخ ساز کام” کیے ہیں، اگر کارکردگی اتنی ہی مضبوط اور ناقابلِ تردید ہے، تو پھر الیکشن کے قریب آتے ہی ایل جی آر ڈی کی سکیموں کے ذریعے لوگوں کے ضمیر اور ووٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ یہ سوال محض ایک فرد یا جماعت سے نہیں، بلکہ مجموعی سیاسی رویّے سے متعلق ہے۔ کیونکہ اگر ووٹ کارکردگی پر ملنے ہیں تو پھر ترقیاتی سکیموں کو انتخابی ہتھیار بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ عوامی خدمت اور انتخابی رشوت کے درمیان لکیر بہت باریک ہوتی ہے، اور یہی وہ لکیر ہے جس پر آج حلقہ دو کی سیاست کھڑی نظر آتی ہے۔آخرکار فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ نعروں، دعوؤں اور وقتی سہولتوں پر یقین کرتے ہیں، یا مستقل مزاجی، شفافیت اور اصولی سیاست کو اپنا معیار بناتے ہیں۔ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے ووٹ کی حرمت ہے، اور اسی حرمت کا تحفظ ہی مثبت سیاست کی اصل پہچان ہے
Urdu news update Gilgit baltistan news




