محنت کی عظمت. آمینہ یونس ،بلتستانی
دریائے شیوک کے کنارے بسے بلتستان کا ایک دور افتادہ علاقہ چھوربٹ کہلاتا ہے۔ وادی چھوربٹ بھی بلتستان کے دیگر علاقوں کی طرح چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ایک حسین وادی ہے۔ یہ علاقہ کل بارہ چھوٹے بڑے گاؤں پر مشتمل ہے۔ بہار میں یہاں کی سر سبز و شاداب زمینیں، جنگلات، دریا، ندی نالے، ٹھنڈا پانی اور خوش گوار ہوائیں اس کے حسن کو نکھارتی ہیں جبکہ سردیوں میں برفباری، انگیٹھی میں جلتی آگ اور اس سے اٹھتا دھواں ایک الگ منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کی مشہور پوشاک میں بھیڑ کے بال سے بنی گرم ٹوپیاں اور شالیں شامل ہیں۔ انہی گاؤں میں سے ایک حسن آباد ہے جہاں کے لوگ نہایت محنتی ہیں، مگر یہ کہانی پورے علاقے کی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی ہے جس نے اپنی محنت، لگن اور شوق سے اپنے گاؤں، علاقے اور پورے بلتستان میں عزت و وقار حاصل کیا۔ محمد یونس کی پیدائش کے دو سال بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور ان کی پرورش ان کی بیوہ ماں نے کی۔ وہ دو بھائیوں اور دو بہنوں میں نسبتاً زیادہ محنتی تھے اور بچپن ہی سے ماں کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ بڑے ہوئے تو مزدوری شروع کردی۔ اس وقت علاقے میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، ایک دور دراز گاؤں میں اسکول تھا مگر مالی مجبوری کے باعث وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے حالانکہ دل میں شدید شوق موجود تھا۔ جوانی میں ان کی شخصیت پرکشش تھی، اسی لیے فوجی افسران اور پولیس اہلکار بھی انہیں ملازمت کی پیشکش کرتے، مگر ماں کی رضا کے باعث انہوں نے ہر بار انکار کیا اور یوں مزدوری ہی ان کا مقدر بنی رہی۔ انہوں نے پسند کی شادی کی۔ وہ مزدوری کے لیے دور دراز علاقوں میں جاتے جبکہ ان کی بیوی گھر، بچوں اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتی۔ بلتستان میں تاپولو یعنی گھوڑے پر پولو کھیلنا مشہور ہے اور ان کے پاس دو گھوڑے بھی تھے۔ ان کی بیوی نہایت صابر اور تعاون کرنے والی تھی مشکلات کے باوجود کبھی شکوہ نہ کیا۔ وہ پاک فوج کے لیے سامان برداری کا کام بھی کرتے اور سیاچن کے بلند مورچوں تک جاتے جہاں برف کے خطرناک شگاف موجود ہوتے، وہاں رسیوں کے سہارے چڑھنا پڑتا اور ذرا سی لغزش انسان کو ان شگافوں میں گرا سکتی تھی، مگر انہوں نے رزق کی خاطر ہر خطرہ مول لیا۔ وقت گزرا تو علاقے میں اسکول قائم ہوئے اور انہوں نے اپنی ادھوری خواہش اپنے بچوں کے ذریعے پوری کی۔ اس دور میں لڑکیوں کی تعلیم عام نہیں تھی مگر انہوں نے بیٹیوں کو بھی تعلیم دلوائی اور بیٹے بیٹی میں فرق نہ رکھا۔ خود ان پڑھ ہونے کے باوجود ان کی ذہانت غیر معمولی تھی، انہوں نے اپنا گھوڑا بیچ کر گیری کا تیل نکالنے والی مشین خریدی اور کاروبار کا آغاز کیا۔ ابتدا ایک مشین سے ہوئی مگر آہستہ آہستہ یہ کام بڑھتا گیا۔ ان کی بیوی روزی بی ہر قدم پر ان کے ساتھ رہی اور کئی مشینیں خود سنبھالتی ہے۔ ان کے گھر میں ہر فرد محنت کرتا ہے اور نظم و ضبط کی وجہ سے وہاں ہمیشہ سکون رہتا ہے۔ اتوار کا دن ان کے لیے خاص ہوتا ہے، وہ اس دن زمینوں پر جا کر درخت لگاتے اور کاٹتے ہیں اور ہر سال سینکڑوں نئے درخت لگاتے ہیں، اسی وجہ سے گاؤں والے اس دن کو “یونس پون کا اتوار” کہتے ہیں۔ انہوں نے نہریں نکال کر زمینوں کو آباد کیا اور زراعت کو بھی فروغ دیا۔ ان کی کامیابی میں ان کی بہترین منصوبہ بندی اور گھر والوں کی محنت شامل ہے۔ آج ان کی اولاد تعلیم یافتہ اور کامیاب ہے، کوئی ملازمت کرتا ہے اور کوئی کاروبار کو آگے بڑھا رہا ہے، مگر سب اپنے والد کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اس گھر میں محبت، عزت اور اتفاق کی اعلیٰ مثال قائم ہے۔ وہ نہایت وسیع دل انسان ہیں، ان کا گھر ہر مہمان کے لیے کھلا رہتا ہے اور وہ دوسروں کی مدد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی انہیں عزت دی جاتی ہے اور لوگ احتراماً ان کے گھر آ کر اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں۔ صوفیاء سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے اور یہ سب اللہ سے مضبوط تعلق، محنت اور باہمی اتفاق کا نتیجہ ہے کہ ایک مزدور آج کامیابی کی بلندیاں چھو رہا ہے۔ وہ خود بھی عبادات اور روحانی محفلوں میں شریک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی صرف دولت یا ذہانت سے نہیں بلکہ محنت، اتحاد، باہمی تعاون اور اللہ کی محبت سے حاصل ہوتی ہے، تب ہی کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔
یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ محنت،صبر اور یقین کی وہ داستان ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کرتی ہے ۔
urdu news update Dignity of Hard Work
سائیکل پر دنیا کی سیر کو نکلا جرمن شہری اسلام آباد پہنچتے ہی لٹ گیا
“لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




