حالاتِ حاضرہ: عہدِ آشوب کا ادبی مرقع.سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
یہ زمانہ عجب ہنگاموں کا زمانہ ہے۔ افقِ عالم پر پھیلی ہوئی سرخی کسی طلوعِ سحر کی نوید کم اور کسی نہاں آتشِ فتنہ کی جھلک زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ ہوا کے دوش پر چلتی خبریں، بکھرتی صدائیں، اور بدلتے منظرنامے، سب مل کر ایک ایسا مرقع تشکیل دیتے ہیں جس میں اضطراب بھی ہے، امید کی مدھم کرن بھی، اور بے یقینی کا ایک گہرا سایہ بھی۔ عالمی سیاست گویا ایک شطرنج کی بساط بن چکی ہے، جہاں مہرے اپنی چالیں چل رہے ہیں، مگر کھیل کا انجام ابھی اوجھل ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی برتری کے خمار میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑی ہیں، اور چھوٹے ممالک اس کشمکش کے بیچ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کہیں سفارت کاری کے نام پر خاموش سودے ہو رہے ہیں، تو کہیں جنگ کے شعلے انسانی بستیوں کو نگل رہے ہیں۔ امن، جو کبھی انسان کا خواب تھا، اب ایک نایاب شے بن کر رہ گیا ہے۔
معیشت کا حال بھی کسی شکستہ کشتی کی مانند ہے جو طوفانی لہروں کے رحم و کرم پر ہے۔ مہنگائی کی آگ نے عام انسان کے چولہے کی حرارت کو سرد کر دیا ہے، اور بیروزگاری نے ہاتھوں کی محنت کو بے معنی بنا دیا ہے۔ زر کی چمک دمک کے پیچھے چھپی ہوئی غربت کی کہانیاں دل دہلا دیتی ہیں۔ دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے، جبکہ اکثریت محرومی کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔ سماجی سطح پر انسان ایک عجیب دوئی کا شکار ہے۔ ایک طرف معلومات کا سیلاب ہے، تو دوسری طرف شعور کی پیاس بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ سوشل میڈیا کی دنیا نے فاصلے مٹا دیے ہیں، مگر دلوں کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی آواز بلند کر رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ سچ اور جھوٹ کی تمیز دھندلا چکی ہے، اور حقیقت ایک معمہ بن گئی ہے۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہے، آج ایک کشمکش میں مبتلا ہے۔ ان کے خواب بلند ہیں، مگر راستے دھندلے۔ ان کے اندر توانائی کی کمی نہیں، مگر رہنمائی کا فقدان ہے۔ وہ ایک ایسے مستقبل کی تلاش میں ہیں جو انہیں استحکام، عزت اور مواقع فراہم کرے، مگر حالات کی سختیاں ان کے حوصلوں کو آزمائش میں ڈال رہی ہیں۔
ماحولیاتی منظر بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ فطرت، جسے انسان نے صدیوں تک اپنا تابع سمجھا، آج اپنے انتقام کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ بدلتے موسم، بے قابو بارشیں، خشک ہوتی ندیاں، اور پگھلتے گلیشیئرز، یہ سب انسان کو خبردار کر رہے ہیں کہ اب بھی وقت ہے سنبھلنے کا، ورنہ داستانِ حیات ایک المیہ بن سکتی ہے۔
اگر ہم اپنے وطن کی طرف نگاہ ڈالیں تو یہاں کی فضا بھی انہی تضادات سے معمور نظر آتی ہے۔ سیاسی افق پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور عوام ان بادلوں کے سائے میں ایک بہتر کل کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ معیشت کی کمزور نبض، مہنگائی کا بوجھ، اور روزگار کی کمی نے زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد بنا دیا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس سرزمین میں امید کے چراغ بجھنے نہیں پائے۔ یہ قوم، جو بارہا آزمائشوں سے گزری ہے، اب بھی اپنے اندر ایک نئی صبح کی جستجو رکھتی ہے۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں چمکتے خواب، محنت کشوں کے پسینے کی خوشبو، اور دانشوروں کے قلم کی روشنی، یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تاریکی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، روشنی کا سفر جاری رہتا ہے۔ حالاتِ حاضرہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ وقت کبھی یکساں نہیں رہتا۔ تبدیلی اس کائنات کا اٹل اصول ہے۔ جو قومیں اس اصول کو سمجھ لیتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے میں اپنا مقام بنا لیتی ہیں، اور جو غفلت کا شکار ہو جائیں، وہ ماضی کے صفحات میں کھو جاتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض حالات کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے، ان کا ادراک کریں، ان سے سیکھیں، اور اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کریں جو ہمیں ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنائے۔ کیونکہ یہی عہدِ آشوب، اگر درست سمت اختیار کر لے، تو ایک روشن مستقبل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
urdu news update Contemporary Conditions
یوم پاکستان 23 مارچ کے موقع پر ڈویژنل کمپلیکس سکردو میں خواتین کی ایک پروقار تقریب
روایت و جدت کے سنگم پر نسائی وقار کی صدا: نفیسہ حیا . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان




