urdu news update Chaman to Lahore 0

چمن سے لاہور تک: المیے کی بازگشت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
چمن کی ایک خاموش شام اچانک قیامت کے شور میں بدل گئی جب گھر کے اندر گیس سلنڈر کے دھماکے نے سات بچوں کی جان نگل لی اور سترہ افراد کو زخمی کر دیا۔ ابھی اس سانحے کی گرد بیٹھی بھی نہ تھی کہ لاہور کے ایک نجی ہاسٹل میں دھماکے کی خبر آ گئی، جہاں ایک طالب علم زندگی کی بازی ہار گیا۔ دو شہر، دو مقامات، مگر کہانی ایک ہی۔۔غفلت، بے احتیاطی اور کمزور نگرانی کی کہانی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

یہ حادثات محض اتفاقی واقعات نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا عکس ہیں۔ گیس سلنڈر جو سہولت کا نشان ہونا چاہیے تھا، اکثر لاعلمی اور غیر معیاری سازوسامان کے باعث موت کا پیغام بن جاتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ سلنڈر کی معیاد دیکھتے ہیں؟ کتنے ریگولیٹر کی حالت پر غور کرتے ہیں یا گیس کی معمولی سی بو کو سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ ارزانی کی خواہش میں ہم معیار کو قربان کر دیتے ہیں، اور پھر ایک چنگاری پورے آشیانے کو راکھ کر دیتی ہے۔

لاہور کے ہاسٹل کا المیہ ایک اور پہلو نمایاں کرتا ہے۔ ہمارے شہروں میں طلبہ کی رہائش گاہیں بظاہر آباد مگر باطن میں غیر محفوظ ہیں۔ آگ بجھانے کے آلات محض دیواروں کی زینت بنے رہتے ہیں، ہنگامی راستے مقفل یا سامان سے اَٹے ہوتے ہیں، اور گیس و بجلی کی تنصیبات عارضی مرمتوں کے سہارے چلتی رہتی ہیں۔ نفع کی دوڑ میں احتیاط پیچھے رہ جاتی ہے اور نگرانی کے ادارے رسمی معائنوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ یوں ایک لمحے کی غفلت کسی ماں کی گود اجاڑ دیتی ہے، کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ دھماکہ کیوں ہوا، سوال یہ ہے کہ ہم کب سنبھلیں گے؟ جب تک غیر معیاری سلنڈرز اور ناقص آلات کے خلاف سخت اقدام نہیں ہوگا، جب تک رہائشی عمارتوں اور ہاسٹلز کا باقاعدہ اور دیانت دارانہ حفاظتی جائزہ نہیں لیا جائے گا، اور جب تک عوامی سطح پر آگاہی کو سنجیدگی سے فروغ نہیں دیا جائے گا، ایسے سانحات ہمارے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے۔ احتیاط محض ایک نصیحت نہیں، زندہ رہنے کی شرط ہے۔

چمن کی راکھ اور لاہور کی خاموشی ہمیں پکار رہی ہے۔ ہر دھماکہ ایک سوال ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی تو آنے والی خبریں بھی ایسی ہی ہوں گی،کسی اور شہر کا نام، کسی اور گھر کا ملبہ، کسی اور ماں کی آہ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حادثوں پر آنسو بہانے کے بجائے ان کے اسباب کا راستہ روکیں، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور یہ دھماکے ہماری بے حسی کی گونج بن کر ہمیشہ سنائی دیتے رہیں گے

urdu news update Chaman to Lahore

خیبر: فائرنگ سے پولیس اہلکار 7 سالہ بیٹے سمیت جاں بحق، بنوں سے 2 پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد

شگر سرفہ رنگا کے ایک ٹیلے سے نوجوان کی لاش برآمد, ریسکیو 1122 شگر نے لاش کو شگر ہسپتال منتقل کر دیا

شگر اسوہ ایجوکیشنل سسٹم شگر کا احسن اقدام، اخیار ٹرسٹ کے تعاون سے طلبہ میں سائیکلیں تقسیم، اسوہ ایجوکیشنل سسٹم شگر نے اخیار ٹرسٹ کے تعاون سے سائیکلز تقسیم

50% LikesVS
50% Dislikes

چمن سے لاہور تک: المیے کی بازگشت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں