IMG 20260211 WA0007 0

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا
رپورٹ 5 سی این نیوز
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا
کولمبو: آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان نے امریکا کو باآسانی 32 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں مسلسل دوسری کامیابی حاصل کرلی۔*

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان نے امریکہ کو آؤٹ کلاس کر دیا
پاکستان گذشتہ ٹی20 ورلڈ کپ میں سپر اوور میں امریکہ سے شکست کھا گیا تھا۔ یہ بڑا اپ سیٹ تھا اور پاکستان کے ورلڈ کپ سے جلد اخراج کا باعث بھی بنا۔
کولمبو میں جاری حالیہ ورلڈ کپ میچ سے قبل بعض مبصرین کا خیال تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم پر امریکی ٹیم سے پچھلے ٹاکرے کے اثرات ہوں گے، ممکن ہے کسی قدر دفاعی مائنڈ سیٹ سے کھیلیں یا محتاط ہوں۔
کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں ایک پاکستانی ٹیم بالکل ہی مختلف نظر آئی۔ جارحانہ، مثبت انداز میں کرکٹ کھیلی اور ابتدا ہی سے اٹیک کیا۔

پاکستانی ٹیم نے بہت اچھا پاور پلے کھیلا اور چھ اوورز میں 56 رنز بنائے۔ پاور پلے کی آخری گیند پر سلمان آغا آوٹ ہوگئے ورنہ چھپن پر ایک وکٹ ہی گری تھی۔
یہ جارحانہ، مثبت، بے خوف انداز پورے میچ میں نظر آیا۔ پاکستان نے عمدہ بیٹنگ کی اور ایک 190 رنز بنا ڈالے اور امریکہ کو 158 پر آوٹ کر کے 32 رنز سے شکست دی۔
اہم بات مگر یہ کہ میچ شروع ہی سے یک طرفہ تھا اور آخر تک رہا۔ پاکستان نے درحقیقت امریکہ کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کر دیا۔
سپن اٹیک کا بھرپور استعمال
امریکہ کے خلاف میچ کی خاص بات پاکستانی ٹیم کی بولڈ پلاننگ تھی۔ پاکستان نے صرف ایک فاسٹ بولر کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا اور پچھلے میچ میں تین وکٹیں حاصل کرنے والے سلمان مرزا کو ڈراپ کر کے مِسٹری سپنر عثمان طارق کو کھلایا گیا۔ یہ بہت عمدہ چال اور دُرست فیصلہ تھا۔
امریکہ کی ٹیم ناتجربہ کار ہے اور عثمان طارق جیسے منفرد سٹائل کے مسٹری سپنر کو سمجھنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ پاکستان نے عثمان کے ساتھ دوسرے مسٹری سپیشلسٹ سپنر ابرار کو کھلایا۔
لیگ سپنر شاداب خان اور لیفٹ آرم سپنر محمد نواز بھی مٹیم میں وجود تھے جبکہ صائم ایوب کی صُورت میں ایک اور آپشن بھی تھی۔
پاکستانی ٹیم نے پانچ سپنرز کے ذریعے امریکی ٹیم کو گھیرنے کا فیصلہ کیا جو کامیاب اور دُرست ثابت ہوا۔ امریکی بلے باز، عثمان طارق، ابرار اور شاداب کی گُھومتی گیندیں سمجھ ہی نہں پائے۔

محمد نواز کی بولنگ بھی بہتر رہی، صائم نے ایک ہی اوور کرایا، قدرے مہنگا، اس کی پھر ضرورت ہی نہیں پڑی۔خاصے عرصے کے بعد پاکستان نے کسی ٹیم کو مدِنظر رکھتے ہوئے جامع اور بولڈ پلان بنایا اور پھر اس پر عُمدگی سے عمل درآمد بھی کر ڈالا۔
عثمان طارق کی مسٹری سپن
عثمان طارق مختلف انداز کے سپنر ہیں۔ اس ورلڈ کپ میں وہ پاکستان کا خفیہ ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا ایکشن عجیب اور منفرد ہے۔
وہ بولنگ کراتے ہوئے ایک لمحے کے لیے رُک جاتے ہیں، حتیٰ کہ بلے باز یہ سمجھنے لگے کہ شاید یہ گیند نہیں کرانا چاہ رہا اور پھر وہ اچانک تیزی سے گیند کرا دیتے ہیں۔
اُن کے بازو میں بھی قدرے خَم ہے۔ ان کے ایکشن پر دو بار اعتراض بھی ہو چکا ہے، مگر وہ بعد میں آئی سی سی کی منظور شدہ لیب سے کلیئر ہو گئے۔
عثمان طارق کی خُوبی صرف ان کا بولنگ ایکشن اور گیند پھینکتے ہوئے پاز لینا نہیں، اُن کی گیندوں میں بھی ورائٹی ہے۔ وہ آف سپنر ہیں مگر کیرم بال بھی کراتے ہیں۔
عثمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ لیگ بریک کیرم بھی کراتے ہیں اور آف سپن بھی۔ وہ خاصا تیز گیند بھی کرا دیتے ہیں اور اسی ایکشن میں سلو گیند بھی۔

امریکہ کے خلاف میچ میں انہوں نے محمد مہدی کو جس گیند پر بولڈ کیا، وہ لیگ بریک ہونے کے ساتھ 100 کلومیٹر تیز تھی۔ سپنرز کے حساب سے یہ خاصی تیز گیند ہے۔ عثمان نے خاصی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رکھی ہے تو وہ بلے باز کو سمجھ داری سے فیلڈنگ کے مطابق بولنگ کراتے ہیں۔
کیرم بال
کیرم بال انگلیوں سے پھینکی جانے والی ایک سپیشل سپن ڈیلیوری ہے۔ کیرم کے مشہور کھیل سے یہ اصطلاح لی گئی کیونکہ بولر اس طرح گیند کو فلک کرتا ہے جیسے کیرم میں سٹرائیکر کو پھینکا جاتا ہے۔
گیند کو انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے درمیان دبایا جاتا ہے اور پھینکتے وقت درمیانی انگلی سے زوردار جھٹکا یعنی فلک دیا جاتا ہے۔ یہ گیند آف بریک، لیگ بریک دونوں طرح سے ہوتی ہے۔
اگر بولر انگلی کو اس طرح فلک کرے کہ گیند ٹپہ کھا کر دائیں ہاتھ کے بلے باز کے اندر آئے، تو یہ آف بریک ہوگی، تاہم زیادہ تر آف سپنر کیرم بال کا استعمال بلے باز کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں تاکہ گیند ٹپہ کھا کر باہر کی طرف نکلے۔ اس صورت میں یہ ایک ’لیگ بریک‘ کی طرح کام کرتی ہے۔
کہتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے ایک آسٹریلوی سپنر نے یہ ڈیلیوری ایجاد کی تھی۔ اسے زیادہ مشہور سری لنکن سابق سپنر اجھنتا مینڈس نے کیا۔
Sports News icc T 20 world cup today match update
انڈیا کے ایشون اور افغانستان کے مجیب الرحمان اس کے ماہر سمجھے جاتے رہے ہیں۔ پاکستانی سپنر ابرار بھی عمدہ کیرم گیند کراتے ہیں۔ عثمان طارق بھی اچھی کیرم گیند کراتے ہیں۔
صاحبزادہ فرحان کی دُھواں دھار بیٹنگ
امریکہ کے خلاف میچ کی خاص بات صاحبزادہ فرحان کی دُھواں دھار بیٹنگ تھی، انہوں نے ابتدا ہی سے جارحانہ شاٹس کھیلے۔ بلند و بالا چھکے، زوردار چوکے اور اس میچ میں تو انہوں نے سنگلز لے کر سٹرائیک بھی روٹیٹ کی۔
صاحبزادہ فرحان نے متاثرکُن ایک 178 کے سٹرائیک ریٹ سے 73 رنز بنائے۔ وہ اگر چاہتے تو سینچری بنا سکتے تھے، مگر انہوں نے ٹیم کے لیے اننگز کھیلی۔
صائم ایوب نے البتہ وکٹ تھرو کی۔ تب رن ریٹ اچھا جا رہا تھا، صائم سیٹ ہو چکے تھے، اُنہیں یوں وکٹ نہیں گنوانا چاہیے تھی۔
اس میچ کی خاص بات بابر اعظم کی بیٹنگ تھی۔ بابر جب آئے تو پاور پلے میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔ انہوں نے ابتدا میں سنگلز لیے اور سیٹ ہونے کی کوشش کی۔
تھوڑا زیادہ سست ہو گئے، 18 گیندوں پر 15 رنز بنائے اور پھر اچانک ہی بابر نے پہلے سے پانچواں گیئر لگا کر امریکی سپنر ہرمیت سنگھ کو دھو ڈالا، ایک چھکا اور دو چوکے جَڑ دیے۔

بابر اعظم نے بعد میں اپنا سٹرائیک ریٹ مناسب کر لیا۔ انہوں نے 32 گیندوں پر 46 رنز بنائے، سٹرائیک ریٹ 143 تھا۔ بابر چاہتے تو آرام سے ففٹی بنا سکتے تھے۔ وہ سنگلز لے سکتے تھے، مگر بابر نے میچ کی سیچوایشن کے مطابق جارحانہ شاٹس کھیلنے کی کوشش کی اور آؤٹ ہوگئے۔
بابر کی یہ اننگز ان کے مداحوں کے لیے امید کا باعث بنے گی۔ انہیں البتہ اس پر دھیان دینا ہوگا کہ اننگز کے ابتدا میں بھی وہ اتنا سست کھیلنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ 18 گیندوں پر 15 یا 13 گیندوں پر 10 رنز ماڈرن ٹی20 میں قابلِ قبول نہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ اگلے میچز میں اُن کی فارم مزید بہتر ہوگی۔
شاداب خان نے اچھی ٹی20 اننگز کھیلی، 250 کے شاندار سٹرائیک ریٹ سے انہوں نے صرف 12 گیندوں پر 30 رنز بنائے۔ شاداب کی بولنگ بھی اچھی رہی۔ اس میچ میں انہوں نے عمدہ آل راؤنڈر پرفارمنس دی۔
آخر میں پاکستانی بیٹنگ کچھ کولیپس کر گئی، شاداب، نواز آؤٹ ہوگئے، فہیم بھی کچھ نہ کر سکے، عثمان خان رن آؤٹ ہوگئے، شاہین شاہ آفریدی نے آخری اوور میں ایک چھکا لگایا ورنہ شاید سکور ایک 182 رہتا۔
کپتان نے نواز کو شاداب سے پہلے بھیجا، یہ تجربہ بُری طرح ناکام رہا۔ نواز کچھ نہ کر سکے، اُلٹا گیندیں ضائع کیں۔ آئندہ شاید یہ غلطی نہ کی جائے۔
اس میچ میں پاکستان کی فیلڈنگ خاصی اچھی رہی، عمدہ کیچز لیے، گراؤنڈ فیلڈنگ سے رنز بھی روکے۔ خواجہ نافع نے البتہ متبادل فیلڈر کے طور پر ایک آسان کیچ چھوڑ دیا۔
ویل ڈن ٹیم پاکستان، اب اگلا چیلنج انڈیا کے خلاف 15 فروری کو ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس روز بھی پاکستان یہی حکمتِ عملی بناتا ہے یا پھر سلمان مرزا کو واپس لایا جائے گا؟ بیسٹ آف لک فار پاکستانی ٹیم۔

Sports News icc T 20 world cup today match update

50% LikesVS
50% Dislikes

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 پاکستان نے با آسانی امریکا کو شکست دیکر پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں