ناول، دل کا مسلمان ہونا ، ۔آمینہ یونس
قسط 12
ارین نے اپنے لیے کافی بنائی اور کافی کے کپ کے ساتھ لاونج میں آ گیا۔ لاونج میں بیٹھ کر کافی کا ہلکا ہلکا سیپ لیتے ہوئے وہ سامنے بلی کو بغور دیکھ رہا تھا۔ بلی بھی کبھی ارین کو دیکھتی اور کبھی سر جھکا کر پیالے میں ڈالے دودھ کو پی رہی تھی۔۔غزل بیگم نے خانساماں کو سر شام ہدایت دینا شروع کیں “آج ماہم بی بی نے جانا ہے۔ رات کا کھانا ماہم کی پسند کے مطابق بنائیں اور کچھ اضافی پکوان بھی تیار کریں۔” خانساماں نے تابعداری دکھاتے ہوئے کہا، “جی بیگم صاحبہ، جی بیگم صاحبہ۔” ماہم پُرسکون لاونج میں کرسی پر بیٹھے موبائل کو اوپر نیچے کر رہی تھی۔ کہیں جانا ہے، یہ سوچ انسان کو وقت سے پہلے ذہنی طور پر تیار رکھتی ہے۔ ماہم بھی ایسی ہی کیفیت میں تھی۔ ۔۔۔ارین نے کافی پیتے سوچا“کل پرسوں سے پھر یونیورسٹی جانا ہے، تو کچھ کپڑے خرید لوں اور کچھ چھوٹی موٹی ضروری چیزیں تاکہ بار بار خریدنے کی الجھن سے بچ سکوں۔” وہ تیار ہو کر گھر سے نکلا اور بائیسکل لے کر چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔ ماہم کے بھائی نے صبح آفس جاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دیر سے آئیں گے اور بھابھی شاید اپنے میکے گئی تھی، مگر اشفاق صاحب جلدی آ گئے تھے تو گھر میں کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔ بیگم سے پوچھا تو کہا، “بھائی لوگ بھی آنا ہیں، اس لیے کھانا تیار کروا رہی ہوں۔” دس بجے تک وہ لوگ بھی پہنچ گئے اور ملازم ٹیبل پر کھانا لگانے لگے۔ سب کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ماہم نے اتنے سارے کھانے دیکھ کر ممی سے کہا، “ممی، یہ سب؟” ممی مسکرا کر بولیں، “بس، سب تمہاری پسند کے مطابق بنایا ہے۔” کھانے کے دوران ہلکی پھلکی گفتگو بھی جاری رہی۔ عاصم بار بار ماہم کو دیکھ رہا تھا، مگر ماہم نے کوئی توجہ نہیں کی، کیونکہ اسے عاصم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ یہ تو غزل بیگم، ممانی اور عاصم کی خواہش تھی کہ ماہم عاصم کی بیوی بنے۔ اسی لیے آج ماہم کو الوداع کرنے وقت پر پہنچے تھے۔ ارین رات گئے گھر واپس آیا تو خلاف معمول گھر کے تالے نہیں تھے۔ ممی اتنی جلدی اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ ممی لاونج میں بیٹھی تھیں، تھکی تھکی سی مگر محبت بھری۔ ارین نے قدم بڑھا کر کہا، “ممی، آپ اس وقت خیریت سے ہیں؟” جولین نے محبت بھری نظر ڈال کر کہا، “جی بیٹا، آج طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی، اس لیے جلدی آگئی ہوں۔” ارین بیٹھ گیا اور پوچھا، “کیا ہوا؟ ڈاکٹر کو دکھایا؟” جولین نے کہا، “کچھ دنوں سے طبیعت تھوڑی کمزور تھی۔ آج تو ڈیوٹی دینا بھی مشکل لگ رہا تھا، تو چھٹی لے کر گھر آ گئی ہوں۔ ڈاکٹر کو نہیں دکھایا، شاید دن رات کی ڈیوٹی کی وجہ سے اعصاب تھک گئے ہیں۔” ارین نے کہا، “پھر بھی آپ ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔ صحت کے معاملے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔” جولین بیٹے کی توجہ پر نہال ہو گئیں اور محبت سے کہا، “میرا ڈاکٹر تو میرا بیٹا ہے، جس کے دو لفظ کہنے پر میری دنیا بدل جاتی ہے۔” ارین ان کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ جہاز کا وقت رات بارہ بجے کا تھا، مگر ٹکٹ پر ایک گھنٹہ پہلے پہنچنے کا لکھا ہوا تھا، اس لیے ماہم گیارہ بجے گھر سے نکلی۔ اشفاق صاحب کی گاڑی میں بیٹھتے ہی عاصم نے کہا، “ماہم، تم میری گاڑی میں بیٹھو، وہاں بزرگوار بیٹھیں گے۔” ماہم کو غصہ آیا مگر اس وقت جھگڑا نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے وہ ایک نظر ممی کو دیکھ کر عاصم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ راستے میں ارم اور مہوش بھی ملے۔ یوں تین چار گاڑیوں کا قافلہ ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ عاصم نے ماہم سے کہا، “تمہیں معلوم ہے، میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں؟ اور مجھے امید ہے کہ تم میرے لیے واپس آؤ گی۔” ماہم نے رخ پھیر کر شیشے سے باہر دیکھنا شروع کر دیا۔ ایئرپورٹ پہنچ کر جب ماہم گاڑی سے اترنے لگی تو عاصم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ماہم نے چاہا کہ ہاتھ چھوڑ دے مگر گرفت مضبوط تھی۔ عاصم نے جیب سے ایک مخملی ڈبی نکالی اور جگمگاتی ہیرے کی انگوٹھی ماہم کی انگلی میں ڈال دی، کہا، “میں تمہیں اپنا پابند کر کے بھیج رہا ہوں تاکہ تمہیں واپسی کا راستہ یاد رہے۔” ماہم نے آنکھوں میں غصہ لیے انگوٹھی پھینک دی اور کہا، “تمہیں معلوم ہونا چاہیے، میں اپنی زندگی میں کسی کی زبردستی پسند نہیں کرتی۔ جہاں چاہو شادی کر لو، مگر میرا انتظار مت کرنا۔” مہوش اور ارم نے ماہم کو گاڑی سے نکلتے دیکھا، رک کر اسے گلے لگایا۔ اشفاق صاحب اور غزل بیگم نے خوب پیار کیا، خدا حافظ کہہ کر ماہم بریف کیس کے ساتھ اندر بڑھ گئی۔۔۔۔
جولین نے نم آنکھوں سے جاتے بیٹے کو دیکھا، ایک آہ بھری اور صوفے کی پشت پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہاں ایک اور دنیا آباد تھی جس میں وہ اور ارین اپنی سادہ مگر بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ مگر خزاں کی مانند وہ بہار جلد ختم ہو گئی۔ ارین دن بدن جولین سے دور ہوتے گئے، اور چاہ کر بھی جولین خود کو اس برائی سے نہیں چھڑا پا رہی تھیں۔ وہ ارین کی محبت حاصل کرنے کی ہر کوشش کرتی رہیں، مگر ارین کا دل جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور جولین نے سوچا، “کل ہسپتال جا کر ٹیسٹ کرواؤں۔ اتنی کمزوری پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔” ۔۔۔ماہم جب لاونج میں پہنچی تو لوگ پہلے ہی پہنچے ہوئے تھے۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور موبائل نکال کر ایک سیلفی لی۔ اتنے میں لاونج میں ایک خوشگوار آواز گونجی: “نیدرلینڈز جانے والے مسافر توجہ فرمائیں، آپ کی پرواز روانگی کے لیے تیار ہے۔
جاری ہے ۔
کراچی، مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے برآمد 4 لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس آگئیں
تاریخ کے عام لوگ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان




