8 مارچ: یومِ خواتین تاریخ، تناظر اور معاشرتی تقاضے ۔یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
دنیا بھر میں ہر سال 8۔مارچ کو یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی دن ہے جس میں تقریبات، سیمینارز، ریلیاں اور پیغامات دیے جاتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ دن ایک طویل سماجی جدوجہد، انسانی حقوق کی تحریک اور معاشرتی شعور کی علامت ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، ان کی سماجی و معاشی حیثیت اور معاشرے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان پر قائم ہے اور خاندان کی بنیاد عورت ہے۔ ماں کی صورت میں وہ نسلوں کی تربیت کرتی ہے، بیٹی کی حیثیت سے گھر کی رونق بنتی ہے، بہن کی صورت میں محبت اور خلوص کی علامت ہوتی ہے اور بیوی کے روپ میں زندگی کے سفر میں شریکِ حیات بنتی ہے۔ گویا عورت نہ صرف خاندان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی تعمیر میں بھی اس کا حصہ نمایاں ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ عورت کو نظر انداز کر کے کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یومِ خواتین کا آغاز دراصل مزدور تحریکوں سے ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں صنعتی معاشروں میں خواتین بڑی تعداد میں فیکٹریوں میں کام کرتی تھیں، مگر ان کے حالات نہایت مشکل تھے۔ انہیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی، کام کے اوقات طویل ہوتے تھے اور سماجی و سیاسی حقوق بھی محدود تھے۔ ان ناانصافیوں کے خلاف خواتین نے منظم انداز میں آواز اٹھائی۔
1908 میں نیویارک کی سڑکوں پر تقریباً پندرہ ہزار خواتین مزدوروں نے بہتر اجرت، کام کے مناسب حالات اور ووٹ کے حق کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج نے عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی تحریک کو ایک نئی سمت دی۔ اس کے بعد 1909 میں امریکہ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر “نیشنل ویمنز ڈے” منایا گیا۔
1910 میں جرمنی کی سماجی کارکن اور رہنما کلارا زیٹکن نے کوپن ہیگن میں ہونے والی سوشلسٹ خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی کہ خواتین کے حقوق کے لیے ہر سال ایک عالمی دن منایا جانا چاہیے۔ اس تجویز کو مختلف ممالک کی نمائندہ خواتین نے متفقہ طور پر قبول کیا۔ نتیجتاً 1911 میں آسٹریا، جرمنی، ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ میں پہلی بار عالمی سطح پر یومِ خواتین منایا گیا۔
بعد ازاں یہ دن بتدریج ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کرتا گیا۔ مختلف ممالک میں خواتین کے سیاسی حقوق، تعلیم، ملازمت اور سماجی تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کی تحریکیں بھی اسی شعور کا نتیجہ تھیں۔ بالآخر 1975 میں اقوامِ متحدہ نے باضابطہ طور پر 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے طور پر تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد سے یہ دن دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور عملی اقدامات کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اگر موجودہ دور کا جائزہ لیا جائے تو خواتین نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ تعلیم، طب، سائنس، سیاست، ادب، صحافت اور کاروبار جیسے میدانوں میں خواتین نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بہت سی خواتین قیادت کے اعلیٰ منصبوں تک بھی پہنچی ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے مختلف معاشروں میں صنفی امتیاز، گھریلو تشدد، معاشی ناہمواری اور تعلیم تک محدود رسائی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کی ترقی کا براہِ راست تعلق تعلیم سے ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتی ہے بلکہ ایک باشعور اور مہذب نسل کی تربیت بھی کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاشرے کو ترقی دینا مقصود ہو تو سب سے پہلے خواتین کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یومِ خواتین دراصل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کے حقوق کا مسئلہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ ایک متوازن اور انصاف پر مبنی معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب مرد اور عورت دونوں کو یکساں مواقع اور احترام حاصل ہو۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی کے میدان میں مناسب نمائندگی دینا ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ یومِ خواتین کو محض ایک رسمی دن کے طور پر منانے کے بجائے اسے عملی اقدامات کا ذریعہ بنایا جائے۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی، تعلیم کے فروغ، قانونی تحفظ اور معاشی خودمختاری کے ذریعے ہی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت زندگی کی تخلیق، محبت کی علامت اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے۔ اس کی عزت، آزادی اور ترقی دراصل پوری انسانیت کی ترقی ہے۔ یومِ خواتین ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ عورت کو اس کا جائز مقام دینا صرف انصاف ہی نہیں بلکہ ایک بہتر اور متوازن معاشرے کی ناگزیر ضرورت بھی ہے
March 8: International Women’s Day
سکردو: امن و امان کی صورتحال پر پیر کو اعلیٰ سطحی اجلاس متوقع، آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں کا بھی امکانhttps://5cntv.com/urdu-news-update-skardu-high-level-meeting/
فسق اور تقویٰ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
تعمیرِ وطن میں خواتین کا کردار ۔ آمینہ یونس بلتستانی




