آمینہ یونس کا افسانہ ”تقدیر کا کھیل: فنی و فکری. مطالعہ رحمت عزیز خان چترالی
(ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
rachitrali@gmail.com
آمینہ یونس کا افسانہ، “تقدیر کا کھیل” ایک گاؤں سے منتقل ہونے کے بعد شہر میں مرکزی کردار کے تجربات کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی بنیادی طور پر گلناز نامی معروف lhv کے ساتھ مرکزی کردار کی بات چیت اور اس کی زندگی میں مقدر کے غیر متوقع موڑ پر مرکوز ہے۔ آمینہ یونس اپنی کہانی کا آغاز یوں کرتی ہیں کہ ” میرا تعلق گاؤں سے ہے لیکن میں رہتی شہر میں ہوں ، گاؤں سے شہر آنے کا ایک نقصان یہ بھی ہے ۔ کہ گاؤں سے جو بھی کسی بھی کام کے واسطے شہر آتا ہے تو شامت شہر میں رہنے والے کی آتی ہے ۔۔۔۔ہاہاہاہا…….گاؤں سے آنے والوں کو ہسپتال لے جاؤ، شاپنگ پر لے چلو، غرض چکی بنی رہو،، ہاہاہاہا۔۔۔۔اسی لیے مجھے بار بار گل ناز کی کلینک پر جانا پڑتا ، کم بختوں کو اس پر اعتماد ہی اتنا تھا ۔کہ کہیں اور جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔۔میں جب بھی گل ناز کی کلینک پر جاتی ،میری نظر اس کے حسین سنگِ مرمر جیسے سراپے سے ہٹتی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔جتنی دیر میں اس کی کلینک میں بیٹھتی میری نظریں اس کی ہرحرکات کا طواف کرتیں ،وہ تھی بھی اتنی حسین کہ اس سے نظریں ہٹانے کو دل نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔میں ہمیشہ کسی نہ کسی مریض کے ساتھ کلینک پر جاتی تھی ۔اور اس سے خوب ساری باتیں بھی کرتیں ، میں کوئی لڑکا نہیں تھی نہ وہ ، پر گل ناز اتنی پرکشش اور خوبصورت شخصیت کی ملکہ تھی, جو بھی دیکھتا کچھ دیر کے لیے رک ہی جاتا ،اس کے لفظوں سے پھول جھڑتے اور اس کے ہاتھوں میں ایسی شفاء۔۔۔۔۔۔ کہ دس/بیس سالوں کی بانجھ عورتوں کا بھی علاج ہو جاتا ،یہاں گل ناز کے نام کا چرچا تھا ۔۔۔۔دور دراز سے خواتین ان کے پاس آتیں ،اس نے( MBBS) ڈاکٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔میرے خیال سے کچھ لوگ ان کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہوجاتے ہوں گے ۔۔۔۔پر وہ شادی شدہ نہیں تھی ،میں ہمیشہ اِسی الجھن میں رہتی ،اس کے لیے کتنے رشتے آئے ہوں گے ۔۔۔لیکن اس نے پتہ نہیں شادی کیوں نہیں ابھی تک۔۔۔۔لیکن اس سے کبھی پوچھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔۔۔”
کہانی کا مرکزی موضوع تقدیر کی غیر متوقع حالت اور ناگزیریت ہے۔ افسانہ نگار اس بات کی کھوج کرتی ہے کہ لوگ کس طرح زندگی میں پیش آنے والے موڑ اور سخت حالات سے نمٹتے ہیں، کسی کی کوششوں کے باوجود تقدیر ان کے سفر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کہانی کا بیانیہ معاشرتی توقعات، ذاتی انتخاب، اور ان کے درمیان نازک توازن کو نیویگیٹ کرنے کے نتائج کی پیچیدگیوں کو بیان کرتا ہے۔ آمینہ یونس رقمطراز ہیں کہ ” لیکن آج کل اڑتی اڑتی یہ بات سنے میں آرہی تھی کہ گل ناز نے خفیہ شادی کر رکھی ہے۔ اپنے باس سے ،یہ سن کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ دکھ بھی بہت ہوا ،ان کا باس تو چھ بچوں کے باپ تھا۔ اور ان کے ساتھ گل ناز کی شادی ! یہ ہضم ہونے والی بات تو نہیں تھی ۔۔۔۔۔ اپنی الجھن کو ایک دن میں نے زبان دے دی ،باجی ایک بات پوچھوں ؟ ڈرتے ڈرتے میں نے آخر سوال کر ہی دیا ،کیونکہ کسی کی زندگی کے بارے میں سوال کرنا بہت مشکل اور ذلیل کروانے والی بات ہے نا۔۔۔۔لیکن باجی گلناز نے اپنی ازلی نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا ہاں پوچھیے ارم کیا بات پوچھنی ہے؟ آپ صاحبِ جائیداد ہیں۔ خوبصورت ہیں۔ ان کے ہاتھوں اور کانوں میں کروڑوں کا سونا ہوتا۔۔۔اتنا عرصہ آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ اور اب سنا ہے آپ نے شادی کر لی ہے۔اور وہ بھی چھ بچوں کی باپ سے ،کیا یہ سچ ہے؟ میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے،پر وہ ناراض نہیں ہوئی ،بس مسکراتی رہی اتنا تجسس کیوں ؟ تم کو میرے بارے میں ۔بس ہو گیا کیا کروں؟ اچھا ویسے میں کسی کو اتنے سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہوں ،میرے بہت قریبی لوگ بھی صرف اندازہ ہی لگا رہے ہیں ۔۔۔۔”
داستان کی ساخت میں کہانی بھی ہے اور سبق بھی ہے، جس سے قارئین کو گلناز کے بارے میں مرکزی کردار کے ابھرتے ہوئے تاثرات اور سامنے آنے والے واقعات کا پتہ لگانے کا موقع ملتا ہے۔ تقدیر کا تھیم بغیر کسی رکاوٹ کے کہانی کی لکیر میں بُنا گیا ہے جو کہ ناگزیریت کا احساس پیدا کرتا ہے جو کرداروں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ دیہی-شہری متحرک روائتی ماحول سے شہری ماحول میں منتقل ہونے والوں کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہوئے بیانیہ میں گہرائی کا اضافہ کرتا ہے۔ آمینہ یوسف لکھتی ہیں کہ ” پر دل چاہتا ہے تمہارا تجسس دور کر ہی دوں، ہاں میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے مجھے کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے ۔۔اور میرے والدین بہن بھائی سب چاہتے تھے میں اپنا گھر بساؤں ،پر یہ جو ہم لوگ کہتے ہے نا سب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم چاہے تو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم خود نہیں چاہتے اس لیے ہم پیچھے رہ جاتے ہیں ترقی نہیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔لیکن جہاں تک میرا تجربہ ہے جو کچھ تقدیر میں لکھ دیا جاتا ہے ہمیں وہی ملتا ہے ۔کبھی آپ کے پاس وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی تقدیر کے سامنے انسان بے بس ہو جاتا ہے ۔۔۔۔جیسے میں میرے پاس نہ حسن کی کمی تھی نہ مال و زر کی اور نہ رشتوں کی ، سب میرے والدین کی منتیں کرتے تھے ۔۔۔۔ اور ہر والدین کی خواہش ہوتی کہ میں ان کی بہو بنوں ،اور میں انکار پہ انکار کرتی گئی ۔۔۔ پھر مجھے اپنے باس جس کے چھ بچے ہیں انھوں نے اپنا رشتہ دیا تو میں انکار نہیں کر سکی کیونکہ وہ مجھے پسند آگئے تھے۔ یوں میری اور ان کی شادی ہو گئی ۔۔۔۔ شادی تو میں نے کر لی لیکن مجھے شوہر آدھے سے بھی آدھا مل گیا۔۔ ایک تو اپنے گھر والوں سے چھپ کے, دوسرا ان کے گھر والوں سے, تیسرا دنیا سے بس ایک بندھن میں بندھنا میں نے منظور کیا۔۔۔ لیکن میں تو خسارے میں رہ گئی ہوں, نہ میں ان کے ساتھ شاپنگ پر کہیں جا سکتی ہوں,نہ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتی ہوں ،ہمیشہ یہی دھڑکا کہیں کوئی دیکھ نہ لے، اب تم خوش ہو گئی ہو کیا ؟گل ناز نے مجھ سے پوچھا۔ نہیں میں بہت زیادہ دکھی ہو گئی ہوں، یہ خوشی سے زیادہ دکھ کی بات ہے اتنی خوبصورت ہو آپ آپ کے ساتھ تو یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔ اب کیا کیا جا سکتا ہے ؟اب تو ہو گیا ہے لڑکی یہ سب تقدیر کا کھیل ہے اور تقدیر کے ساتھ تو ہم لڑ نہیں سکتے نا۔۔۔۔۔”
امینہ یونس داستان کے جذباتی اثر کو بڑھانے کے لیے ادبی آلات کو مہارت سے استعمال کرتی ہیں۔ خوبصورتی کی بار بار آنے والی شکل گلناز کے لیے مرکزی کردار کی تعریف کی علامت کے طور پر کام کرتی ہے جس کے ذریعے معاشرتی اصولوں اور ذاتی جدوجہد کی کھوج کی جاتی ہے۔ مکالمے کا استعمال خاص طور پر مرکزی کردار کے استفسار پر گلناز کا جواب کرداروں کی نازک تہوں اور تقدیر کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔
کہانی کی طاقت گلناز کی غیر روایتی زندگی کے انتخاب کی تصویر کشی میں پنہاں ہے۔ چھ بچوں والے مرد سے اس کی غیر روایتی شادی کے ساتھ اس کی پیشہ ورانہ کامیابی کا جوڑ سماجی توقعات کو چیلنج کرتا ہے۔ گلناز کے کردار کے ذریعے بیانیہ ان سماجی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا لوگوں کو شادی، خوبصورتی اور معاشرتی اصولوں کے حوالے سے ہوتا ہے۔
مرکزی کردار کا تجسس اور گلناز کے ساتھ اس کے بعد کی گفتگو مصنف کے لیے تقدیر اور انفرادی شناخت کی پیچیدگیوں کو جاننے کے لیے ایک کتاب کا کام کرتی ہے۔ سماجی فیصلوں کے باوجود گلناز کا اپنے حالات کو قبول کرنا اس کے کردار میں لچک اور حکمت کی ایک تہہ ڈالتا ہے۔
یہ بیانیہ نہ صرف گلناز کے ساتھ مرکزی کردار کے ابتدائی حالات کو تلاش کرتا ہے بلکہ خواتین پر معاشرتی توقعات کے وسیع تر مضمرات کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ جذباتی اثر میں مزید اضافہ ہوتا ہے کیونکہ قارئین گلناز کو درپیش اندرونی کشمکش کا مشاہدہ کرتے ہیں، جو اپنی انفرادیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے سماجی اصولوں سے جڑ جاتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ “تقدیر کا کھیل” تقدیر، سماجی توقعات، اور انفرادی انتخاب اور معاشرتی اصولوں کے درمیان پیچیدہ تعامل کی ایک پُرجوش تحقیق ہے۔ آمینہ یونس کی کہانی کہنے کی صلاحیت اس وقت چمکتی ہے جب وہ حساسیت اور گہرائی کے ساتھ انسانی جذبات اور معاشرتی حرکیات کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرتی ہے، کہانی کا بیانیہ قارئین کو اس پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
تقدیر کی پیچیدگیاں اور زندگی کے اکثر مشکل اور غیر متوقع سفر کو نیویگیٹ کرنے میں آمینہ یونس کا افسانہ “تقدیر کا کھیل” ایک فکر انگیز ٹکڑا کے طور پر ہمارے سامنے ہے جو نہ صرف قارئین کو تفریح مہیا کرتا ہے بلکہ ان پیچیدہ دھاگوں پر غور و فکر بھی کرتا ہے جو ہماری تقدیر کے تانے بانے بنتے ہیں۔
٭ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی اردو، انگریزی اور کھوار زبان میں لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
fiction The Game of Fate
خواب سے خواہش تک: ایک فکری و عملی سفر. سلیم خان
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




