news خبر خبریں نیوز landscape 1772711723875 0

افسانہ ۔ترجیح۔آمینہ یونس، بلتستانی
سورج ڈھل رہا تھا۔ سنہری کرنیں آسمان پر یوں بکھری تھیں جیسے دن بھر کی تھکن کے بعد آرام کر رہی ہوں۔ پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔ عصر کی اذان کا وقت قریب تھا اور قرب و جوار سے مرغ کی بانگ سنائی دے رہی تھی۔ مہر نے نظر دوڑائی، ابھی بہت سے کام ادھورے تھے۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے بولی، “ہاتھ ذرا جلدی چلاؤ، وقت کم ہے۔” شہزین نے تسلی دی، “امی، فکر نہ کریں، افطاری تک سب تیار ہو جائے گا۔ آپ نے عصر کی نماز پڑھی؟” مہر نے نفی میں سر ہلایا۔ شہزین نے نرمی سے کہا، “تو آپ نماز پڑھ لیں، باقی میں دیکھ لیتی ہوں۔” مہر کچن سے نکلی تو اس کا ذہن عید کے کپڑوں کی طرف چلا گیا۔ عید قریب تھی اور بازار جانے کی فرصت نہیں مل رہی تھی۔ انہی سوچوں میں وہ وضو کرنا بھی بھول گئی۔ شہزین نے آ کر پوچھا، “امی، کیا ہوا؟ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟” مہر چونکی، “سوچوں میں گم تھی، وضو بھی نہیں کیا۔” شہزین نے کہا، “کاموں کو اس حد تک ذہن پر سوار نہ کریں، پہلے نماز پڑھ لیں، وقت نکل رہا ہے۔” اتنے میں دادی تسبیح ہاتھ میں لیے آ گئیں۔ “کیا بات ہے؟” انہوں نے پوچھا۔ شہزین نے جواب دیا، “کچھ نہیں دادی، امی نماز پڑھنے جا رہی ہیں۔” دادی نے پوچھا، “باقی سب کدھر ہیں؟” “بس آتے ہی ہوں گے،” شہزین نے کہا۔ افطاری سے چند منٹ پہلے دادا، دادی، ابا، طاہر اور مظاہر سب آ گئے۔ طاہر نے آواز لگائی، “جلدی دسترخوان بچھاؤ، وقت ہو گیا!” شہزین بولی، “افطاری بناتے وقت تو تم لوگ غائب ہوتے ہو اور اس وقت سب کو جلدی ہوتی ہے۔” مظاہر ہنسا، “تم ہو نا ہر کام کے لیے۔” شہزین نے تیور بدلے، “ہاتھ پاؤں سلامت ہیں، کچھ مدد کر لو۔” مظاہر نے دادی کی طرف دیکھ کر کہا، “یہ لڑکوں کے کام ہیں؟ افطاری بنانا تو لڑکیوں کا کام ہے نا دادی؟” دادی نے تائید کی، “میرے پتر ٹھیک کہتا ہے، لڑکیوں کو سگھڑ ہونا چاہیے۔” شہزین فوراً بولی، “آج کل لڑکوں کو بھی سگھڑ ہونا چاہیے۔ پڑھی لکھی لڑکیاں سب کچھ اکیلے نہیں کرتیں۔” طاہر کچھ کہنے کو بڑھا تو دادی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ بہن بھائی کی نوک جھونک کے ساتھ دسترخوان سج گیا۔ دادا نے دعا کرائی اور سب نے افطار کیا۔ رات کو نماز سے فارغ ہو کر دادی نے کہا، “مہر، کل یا پرسوں ذکیہ اور لیلہ کو بچوں سمیت افطاری پر بلا لیں؟ آخری عشرہ آ جائے گا تو وقت نہیں ملے گا، پھر ذکر و اذکار میں مصروف رہنا ہوتا ہے۔” ساس کی بات سن کر مہر کے ذہن میں عید کے کپڑے، سلائی اور مہمان داری ایک ساتھ گونجنے لگے۔ “کیا ہوا بہو، طبیعت تو ٹھیک ہے؟” دادی نے پوچھا۔ “جی امی، ٹھیک ہوں۔ رات کو مشورہ کر لیتے ہیں، پھر دن طے کر لیں گے،” مہر نے آہستگی سے کہا۔ ساس کے جاتے ہی اس نے لمبی سانس لی۔ ذمہ داریوں کا بوجھ کبھی کبھی سانس لینے کی مہلت بھی نہیں دیتا۔ اگلے دن ماں بیٹی نے صبح سے تیاری شروع کر دی اور بیٹوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔ شام تک پرتکلف افطاری تیار تھی۔ افطاری کے بعد مہر نے سوچا کہ کل بازار جائے گی تاکہ عید کی تیاری مکمل کر سکے، مگر صبح ساس نے کہا، “بہو، ذرا میرے ساتھ چلنا ہے، کچھ چیزیں دو گھروں میں دینی ہیں۔” مہر ایک لمحہ رکی، “امی، میں نے بازار جانا تھا۔” “ہم جلد آ جائیں گے، پھر تم چلی جانا،” ساس نے کہا۔ مہر جانتی تھی اگر ان کی بات کو ترجیح نہ دیتی تو کئی دن ناراضگی سہنی پڑتی، اس لیے خاموشی سے ساتھ ہو لی۔ رات کو اس نے خالد سے کہا، “گھر کی ذمہ داریوں سے فرصت نہیں مل رہی، کپڑے لینے بھی نہیں جا پا رہی۔” خالد نے مسکرا کر کہا، “ہم مرد پرانے کپڑے استری کر کے بھی پہن سکتے ہیں۔” مہر نے سنجیدگی سے جواب دیا، “نہیں، کل ضرور جاؤں گی۔” خالد نے کہا، “تو میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔” صبح وہ بازار گئے۔ گہما گہمی تھی۔ مہر نے پہلے بچوں اور ساس سسر کے لیے کپڑے دیکھنے شروع کیے تو خالد نے نرمی سے کہا، “مہر، پہلے اپنے لیے دیکھو۔ تم ہمیشہ ہمیں ترجیح دیتی ہو، آج خود کو دو۔ کبھی کبھار خود کو بھی پہلے رکھنا چاہیے۔” مہر نے پہلی بار خود کو اس گھر میں صرف خدمت کرنے والی نہیں بلکہ ایک اہم فرد کے طور پر محسوس کیا۔ اسے لگا برسوں سے جو وہ سب کو ترجیح دیتی آئی تھی، آج کسی نے اس قربانی کو ایک جگہ محفوظ کر دی تھی۔اس کی تھکن بخارات بن کر اڑ گئی، کیونکہ کبھی کبھی ایک جملہ عورت کے وجود کو تر و تازہ کر دیتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
50% LikesVS
50% Dislikes

افسانہ ۔ترجیح۔آمینہ یونس، بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں