Commentary on the Manqabat in Praise of Mawla-e-Kainat Hazrat Ali 0

تبصرہ بر منقبت” در شان مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شاعر:
سید عارف لکھنوی (انڈیا)

مخلوق میں چراغ تھے گھی کے، ابو ترابؓ
محسن رہے سدا ہی سبھی کے ابو ترابؓ

مشکل کو دی شکست بنی جب بھی سدِ راہ
از بس! تھے دستِ راست نبیﷺکے ابو تراب

رنجش تو دور کی، کیا خود سے قریب تر
بخشا لقب بھی ساتھ علیؓ کے، ابو ترابؓ

اللہ اور رسولﷺکی طاعت پہ تھے نثار
تابع رہے کبھی نہ کسی کے ابو ترابؓ

فائز ہوئے مقامِ ولایت پہ سر بہ سر
پیکر سلوک و خْلق و خودی کے ابو ترابؓ

یکتا ہیں اپنی شانِ مراتب میں آج بھی
سلطان، اولیاء و سخی کے، ابو ترابؓ

تاریخ بن کے چھا گئی خیبر کی داستان
اک بابِ حق ہیں حرفِ جلی کے ابو ترابؓ

زوجین ہونا انؓ کا ازل میں ہوا تھا طے!
شوہر بنے جو بنتِ نبیﷺکے ابو ترابؓ

دامادِ مصطفٰیﷺوہ، وہ حسنینؓ کے پِدر
ہم زلف بھی تھے شاہ غنیؓ کے ابو تراب

لے کر وسیلہ مانگ لو رب سے جو ہو مراد
عارفؔ! سبب بنیں گے خوشی کے ابو ترابؓ

سید عارفؔ لکھنوی

سید عارفؔ لکھنوی کی یہ منقبت حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی شان میں ایک ہمہ جہت، فکری و فنی شعری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جو محض عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں بلکہ سیرتِ علویؓ کے اخلاقی، روحانی، تاریخی اور نظریاتی پہلوؤں کو ایک مربوط شعری نظام میں سمو دیتی ہے۔ شاعر نے آغاز ہی میں “ابو ترابؓ” کے لقب کو بطور مرکزی علامت منتخب کیا ہے، جو نہایت بامعنی انتخاب ہے۔ “مخلوق میں چراغ تھے گھی کے” جیسی ترکیب حضرت علیؓ کی ہمہ گیر فیاضی، نور افشانی اور عام فہم سخاوت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ یہاں “گھی کا چراغ” عوامی تہذیب کا استعارہ ہے، جو روشنی بھی دیتا ہے اور حرارت بھی، یعنی حضرت علیؓ کی ذات محض روحانی رہنما نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی مخلوق کے لیے سہارا ہے۔ “محسن رہے سدا ہی سبھی کے” میں دوام اور عموم دونوں پہلو موجود ہیں، جو علیؓ کی احسان مندی کو زمانی یا طبقاتی قید سے آزاد کر دیتے ہیں۔
دوسرے شعر میں “مشکل کو دی شکست بنی جب بھی سدِ راہ” ایک نہایت پُراثر اور علامتی مصرع ہے، جس میں حضرت علیؓ کو محض مشکل کشا نہیں بلکہ مشکل کو مغلوب کرنے والی قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ “سدِ راہ” کا لفظی انتخاب نہایت بلیغ ہے، جو رکاوٹ، مزاحمت اور آزمائش کے مفہوم کو سموئے ہوئے ہے۔ “دستِ راست نبیﷺ” کی ترکیب نہ صرف قربِ رسالت کا اعلان ہے بلکہ فکری طور پر یہ بات بھی واضح کرتی ہے کہ علیؓ کی قوت، شجاعت اور فیصلہ سازی نبویؐ حکمت سے جڑی ہوئی ہے، نہ کہ کسی انفرادی غرور سے۔
تیسرے شعر میں شاعر نے حضرت علیؓ کے لقب “ابو تراب” کی اصل روح کو نہایت خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔ “رنجش تو دور کی، کیا خود سے قریب تر” میں نفس کی نفی، انانیت سے ماورا شخصیت اور اعلیٰ اخلاقی مرتبہ نمایاں ہوتا ہے۔ یہاں شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ حضرت علیؓ کی عظمت صرف دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک تک محدود نہیں بلکہ اپنی ذات کے ساتھ بھی وہ کامل توازن اور انکسار رکھتے ہیں۔ “بخشا لقب بھی ساتھ علیؓ کے” میں عطا، قبولیت اور محبوبیت تینوں مفاہیم جمع ہو جاتے ہیں۔
چوتھا شعر اطاعت اور حریتِ فکر کا حسین امتزاج ہے۔ “اللہ اور رسولﷺ کی طاعت پہ تھے نثار” میں مکمل عبودیت کا تصور ہے، جبکہ “تابع رہے کبھی نہ کسی کے” ایک مضبوط نظریاتی اعلان ہے کہ علیؓ کی شخصیت کسی بھی غیر حق قوت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئی۔ یہ شعر حضرت علیؓ کو ایک آزاد، خوددار اور اصولی انسان کے طور پر پیش کرتا ہے، جو صرف حق کے تابع ہے۔
پانچویں شعر میں “مقامِ ولایت” کا ذکر محض صوفیانہ دعویٰ نہیں بلکہ “پیکرِ سلوک و خُلق و خودی” جیسی تراکیب کے ذریعے ولایت کو عملی اخلاقیات، کردار سازی اور خود شناسی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ “خودی” کا لفظ یہاں اقبالؔی معنویت بھی رکھتا ہے، جو علیؓ کی شخصیت کو فکری تسلسل میں لا کھڑا کرتا ہے۔
چھٹے شعر میں شاعر نے حضرت علیؓ کی یکتائی کو نمایاں کیا ہے۔ “شانِ مراتب میں آج بھی” کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ علیؓ کی عظمت کسی مخصوص زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ و مؤثر ہے۔ “سلطان، اولیاء و سخی” کی تثلیث حضرت علیؓ کی ہمہ جہتی صفات کو ایک مصرع میں سمو دیتی ہے۔
خیبر کے حوالے سے شعر منقبت کا تاریخی اور رزمی مرکز ہے۔ “اک بابِ حق ہیں حرفِ جلی”نہایت بلند اور فکری ترکیب ہے، جس میں حضرت علیؓ کو حق کے واضح، غیر مبہم اور ناقابلِ تردید باب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ محض جنگی شجاعت نہیں بلکہ حق و باطل کے بیانیے کی علامت ہے۔
زوجیتِ فاطمہؓ اور دامادیِ رسولﷺ کا ذکر نہایت وقار اور تقدس کے ساتھ کیا گیا ہے۔ “ازل میں ہوا تھا طے” تقدیرِ الٰہی کی طرف اشارہ ہے، جو اس رشتے کو محض سماجی نہیں بلکہ کائناتی فیصلہ بنا دیتا ہے۔ حسنینؓ کی نسبت علیؓ کی روحانی وراثت کو آگے بڑھاتی ہے۔
مقطع میں شاعر نے وسیلہ، معرفت اور عقیدت کو یکجا کیا ہے۔ “عارفؔ! سبب بنیں گے خوشی کے” میں ذاتی عقیدت بھی ہے اور اجتماعی ایمان بھی۔ یہ منقبت اپنے اختتام پر دعا، امید اور یقین کا پیغام دیتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ منقبت فصیح زبان، بلیغ تراکیب، فکری گہرائی اور اعتقادی وقار کا حسین نمونہ ہے۔ سید عارفؔ لکھنوی نے روایت کی پاسداری کے ساتھ تخلیقی تازگی کو برقرار رکھا ہے، اور حضرت علیؓ کی شخصیت کو نہ مبالغہ آمیز بنایا ہے، نہ محدود,بلکہ ایک کامل، متوازن اور زندہ کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ منقبت بلاشبہ بزمِ عقیدت میں بھی معتبر ہے اور بزمِ تنقید میں بھی سرخرو۔

گلگت بلتستان کی اراضیات. مغل و ڈوگرا راج سے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 تک تاریخی و قانونی جائزہ، جی ایم ایڈوکیٹ

خیبرپختونخوا: پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 8 دہشت گرد ہلاک

گانچھے سلترو سیاچن کے عوام نے بجلی بحران کے خاتمے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی

commentary-on-the-manqabat-in-praise-of-mawla-e-kainat-hazrat-ali

50% LikesVS
50% Dislikes

تبصرہ بر منقبت” در شان مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں