column urdu news Same Community Targeted Every Time 0

نشانہ ہر دفعہ ایک ہی برادری کیوں؟
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کہیں خود کش دھماکہ یا سانحہ ہوا ہے وہاں پر حادثے کا رخ ایک ہی طرف رہا ہے اور اس کا اکثر وہ لوگ نشانہ بنے جن کا جرم صرف ان کی شناخت تھا۔ ترلائی اسلام اباد میں پیش آنے والا دلخراش سانحہ بھی کوئی نئی نہیں بلکہ اس طویل سلسلے کی کڑی ہے جس میں مخصوص طبقے کو ان کی شناخت کی بنا پر منظم انداز میں نشانہ بناتا رہا ہیں۔
اس سے پہلے نومبر 2025 میں اسلام اباد کے جی ٹین سیکٹر میں سیشن کورٹ کے باہر خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں 12 افراد جان کے بازی ہار گئے تھے اور یوں تین مہینے کے اندر یہ دوسرا خودکش دھماکہ ہونا اور وہ بھی پاکستان کے دارالحکومت میں ، جسے پاکستان کے محفوظ ترین شہر سمجھا جاتا ہے لمحہ فکریہ ہے، اگر یہاں یہ حال ہے تو دوسرے شہروں کی سکیورٹی کا کیا حال ہوگا؟
اگرچہ لوگ اس پہ مختلف رائے رکھتے ہیں ،کچھ لوگ اسے اٹھ فروری کے ہڑتال میں خلل ڈالنے کی سازش کہ رہے ہیں، تو کچھ اسے اداروں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کئی اس سے بیرونی سازش قرار دیتے ہیں ،تاہم ابھی تک کوئی تحقیقات سامنے نہیں آئی۔ حکومتی موقف کے مطابق یاسر نامی دہشتگرد جس نے یہ عمل سرانجام دیا تھا پاکستانی ہے اور افغانستان سے ٹریننگ لے چکا ہے اور اس واقعے کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ بتایا جا رہا ہے. عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہیں ہیں کہ پاکستان کی ایجنسیاں جس کا شمار دنیا کے بہترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے ،کیا وہ اپنے دامن میں پلنے والے اتنے بڑے پلان سے بے خبر تھے یا جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا؟؟؟
یہاں پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ہر بار ایک مخصوص گروہ کو نشانہ بنانا، خواہ وہ 2010 میں ہونے والا کوئٹہ بم دھماکہ ہو، 2012چلاس میں بسوں سے اتار کر شناخت معلوم کر کے قتل کرنے کا واقعہ ہو، 2024 میں ضلع کروم پاراچنار کے بازار پر ہونے والا حملہ ہو یا ترلائی اسلام اباد میں پیش آنے والے دلخراش واقعہ ہو،ان سب سانحات میں کسی ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانا عقل کی پہنچ سے باہر ہے
اب حکومت بھی اظہار افسوس اور مذمت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرے،واقعے کےمجرموں اور ماسٹر مائنڈ کو جلد سے جلد قانون کے کٹھیرے میں لایا جائے. علماء کرام بھی ایک دوسرے کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے واقعے پر مضبوط موئقف اپنائے تاکہ بہتّر کے ماننے والوں کے مزید لہو بہنے سے بچ جائے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے.

column urdu news Same Community Targeted Every Time

50% LikesVS
50% Dislikes

نشانہ ہر دفعہ ایک ہی برادری کیوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں