column in urdu Where Is Our Society Heading 0

ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے؟ یاسر دانیال صابری
کبھی کبھی دل عجیب سی گھٹن محسوس کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب کسی دوڑ میں شامل ہیں، مگر یہ بھی نہیں جانتے کہ منزل کہاں ہے۔ کل ایک تصویر دیکھی، ایک منظر دیکھا، اور وہی پرانا سوال پھر ذہن میں جاگا کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی آگے بڑھ رہے ہیں یا اپنی بنیادیں کھو بیٹھے ہیں؟
لباس ہمیشہ سے ہماری پہچان رہا ہے۔ ہمارے بزرگوں کو دیکھیں تو سادگی، وقار اور حیا ان کے لباس سے جھلکتی تھی۔ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، مگر انہیں یہ خوب معلوم تھا کہ کہاں کیا پہننا ہے اور کس موقع پر کس طرح پیش آنا ہے۔ آج ہم خود کو جدید کہتے ہیں، تعلیم یافتہ کہتے ہیں، مگر بعض اوقات بنیادی باتیں بھی بھول جاتے ہیں۔
خاص طور پر جب کوئی شخص کسی بڑے پلیٹ فارم پر ہو، دنیا اسے دیکھ رہی ہو، وہ صرف اپنی نمائندگی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ پورے ملک، پوری قوم اور ایک سوچ کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر لباس ایسا ہو جو سنجیدگی کے بجائے عجیب سا تاثر دے، تو سوال اٹھنا فطری بات ہے۔ یہ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی، یہ ایک فطری ردعمل ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب رویہ پروان چڑھ رہا ہے۔ جیسے ہی کوئی بات کی جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ “یہ میرا ذاتی معاملہ ہے”۔ ٹھیک ہے، ذاتی معاملہ اپنی جگہ، مگر جب آپ ایک عوامی شخصیت ہوں، کیمرے کے سامنے ہوں، لوگوں کے لیے ایک مثال بنے ہوئے ہوں، تو پھر ہر چیز ذاتی نہیں رہتی۔ پھر آپ کا ہر قدم، ہر لفظ اور ہر لباس دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ ہم نے خود اپنے لیے کوئی واضح اصول نہیں بنائے۔ خاص طور پر میڈیا جیسے سنجیدہ شعبے میں، جہاں ہر لمحہ قوم کی نمائندگی ہو رہی ہوتی ہے، وہاں ایک باقاعدہ ڈریس کوڈ ہونا چاہیے۔ ایسا لباس جو نہ صرف مہذب ہو بلکہ ہماری تہذیب، ہماری شناخت اور ہمارے مذہبی پس منظر کی جھلک بھی پیش کرے۔
آج کل جو رنگ اور ڈیزائن دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ زیادہ تر توجہ حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ وقار دکھانے کے لیے۔ شوخ رنگ، عجیب و غریب ڈیزائن، اور ایسا انداز جو سنجیدگی کے بجائے ہلکا پن ظاہر کرے، یہ سب چیزیں کسی بڑے فورم کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔ سادہ رنگ، صاف ستھرا ڈیزائن، اور ایک متوازن انداز ہی اصل خوبصورتی ہے۔
ہمارا مذہب بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ اسلام نے کبھی خوبصورتی سے نہیں روکا، بلکہ اس نے اسے وقار کے ساتھ جوڑ دیا۔ حیا، سادگی اور توازن — یہ وہ اصول ہیں جو ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں نظر آنے چاہئیں، خاص طور پر اس وقت جب ہم دوسروں کے سامنے ہوں۔
ایک بات اور بھی ہے جو شاید کچھ لوگوں کو سخت لگے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر ہم خود اپنی حدود کا خیال نہ رکھیں تو پھر دوسروں کی باتوں پر اعتراض بھی نہیں کر سکتے۔ دنیا ہمیشہ دیکھتی ہے، پرکھتی ہے اور پھر رائے قائم کرتی ہے۔ اگر ہم خود اپنی پہچان کو سنبھال کر نہیں رکھیں گے تو دوسروں سے کیا توقع رکھیں گے؟
کل ایک غیر ملکی اینکر کو دیکھا جو یہاں آ کر ہماری روایت کا خیال رکھتے ہوئے رپورٹنگ کر رہی تھی، اور ساتھ ہی ایک اپنا شخص تھا جو شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ جدید ہونا ہی سب کچھ ہے۔ یہی تضاد دل کو چبھتا ہے۔ ہم دوسروں کے سامنے اپنی اصل کیوں چھپاتے ہیں؟ کیوں ہمیں اپنی ثقافت بوجھ لگنے لگتی ہے؟
اصل مسئلہ لباس کا نہیں، سوچ کا ہے۔ جب سوچ بدلتی ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو یہ سکھا دیا کہ پہچان کی کوئی اہمیت نہیں، تو پھر آنے والے وقت میں ہم خود کو پہچان نہیں پائیں گے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو حدود کو سمجھتے ہیں، جو جانتے ہیں کہ کہاں رکنا ہے، اور یہی لوگ اصل میں ہمارے معاشرے کی امید ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی تعداد بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں؟
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کو کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جو اپنی جڑوں سے جڑا ہوا ہے، یا ایک ایسا ہجوم جو دوسروں کی نقالی میں اپنی شناخت کھو چکا ہے؟
بات صرف ایک شخص کی نہیں، ایک واقعے کی نہیں، یہ ایک رویہ ہے جو آہستہ آہستہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آج ہم نے اس پر غور نہ کیا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ آزادی بہت خوبصورت چیز ہے، مگر جب اس کے ساتھ ذمہ داری نہ ہو تو وہ بگاڑ بن جاتی ہے۔ ہمیں آزادی بھی چاہیے اور اپنی پہچان بھی۔ ہمیں جدید بھی بننا ہے مگر اپنی بنیادوں کو چھوڑے بغیر۔
سوچنے کی بات یہ ہے…
ہم واقعی آگے بڑھ رہے ہیں… یا صرف بہہ رہے ہیں؟

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Where Is Our Society

کامران مغل: فکری شعور، تخلیقی صداقت اور ہمہ جہت شخصیت کا استعارہ ۔یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے؟ یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں