column in urdu, Wept Was at My Mother’s Grave 0

آخری بار اپنی ماں کے قبر پر جا کر رویا تھا، میں روتا نہیں ہوں، شہزاد سلطان بلوچ
آخری بار اپنی ماں کے قبر پر جا کر رویا تھا، میں روتا نہیں ہوں، سال لگتا ہے، دو سال لگ جاتے ہیں، مگر جب روتا ہوں تو بغیر آواز کے، بغیر آنسوؤں کے، گھنٹوں روتا ہوں۔
شاید آنسوؤں کو آنکھوں سے نہیں دل کے نہاں خانوں سے دل ہی دل میں بہانا سیکھ گیا ہوں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

مجھے زندگی میں جو دو ایک چیزیں شدت سے چاہیے ہوتے ہیں ان میں سے ایک رونا ہے، آنسوؤں کے ساتھ رونا اور بھرپور رونا۔

اپنی ماں کے انتقال تک میں بہت بند قسم کا انسان تھا، میری ماں کے علاوہ میرے چہرے کے تاثرات آج تک کسی نے نہیں پڑھے، انتقال کے بعد چھوٹا ہوتے ہوئے مجھے بڑا ہونا پڑا تھا، سب کو دلاسہ دینا پڑ گیا تھا، مجھے رونے کے لیے وقت ملا نہ کندھا، نتیجتاً میرے دل ناتواں نے بھی غموں کا اتنا ہی بوجھ خود پر اٹھا لیا جتنا میں نے ذمہ داریوں اور تکلفات کا اٹھایا تھا، یا شاید اس سے بھی زیادہ.!

پھر ایک دن میں کھنچا کھنچا اپنی ماں کی آخری آرام گاہ پہنچ گیا، اس بار کچھ کہہ نہیں پایا، آنکھیں مجھ سے بازی لے گئیں اور انہوں نے بہت کچھ کہا، گھنٹوں تک کہا، ضرورت پڑنے پر دل نے ایک دو سسکیوں اور ایک آدھ آہ سے آنکھوں کا ساتھ دیا۔

دل سبک ہوگیا تھا مگر جسم پر ذمہ داریوں اور روح پر احساسات کا بوجھ سوار ہی تھا اور ہے۔

سالوں گزرے، دل میں مستقل ڈیرہ ڈالے غموں کی وجہ سے میرے چہرے کی عمر مجھ سے بڑا ہوگیا جس پر میرا ایک براہوئی شعر ہے
نما غم خاخر است ئٹ لگفے تو
کنا چہرہ کنا عمر آن بھلن مس

زندگی نے ایک موڑ لیا، میرے قلم سے گرتے میرے آنسوؤں نے ایک کتابی شکل اختیار کی اور مجھے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاؤس میں پہنچا دیا، یہاں پہنچ کر میں سالوں بعد بچہ بنا، تکلفات کا بوجھ کندھے سے اتار پھینکا، روح پر سے احساسات کے بوجھ کے کمرے کے ٹیبل پر اوندھے منہ پڑے بیک پیک کے اندر بند کر کے گرادیا اور کچھ ہی لمحے زندگی کو دوبارہ جیا۔

آج یہ مرحلہ بھی اختتام کو پہنچا ہے، میں خانہ بدوش قبیلہ کا فرزند ہوں، مجھے زمین پر پڑاؤ ڈالے ہر جگہ سے عشق ہوتا ہے، وہاں یادیں رہتی ہیں، وہاں روح کا تعلق جڑتا ہے، یہاں بھی جڑا ہے، لیکن میری قسمت مجھے اتنا ستاتی ہے کہ میرے سارے دوست ایک ایک کر کے رخصت ہوئے مگر میں بوجھل دل کے ساتھ ابھی بھی موجود ہوں، شاید سب کو رخصت کر کے، سب سے جدائی کا صدمہ سہہ کے میں جاؤں گا۔

رائٹرز ہاؤس نے بڑے بڑے لوگ دیکھے ہوں گے، ان کے تعبیر غم کا اسلوب دیکھا ہوگا، ان کی شاموں کی گواہی دل میں بسایا ہوگا لیکن آج رائٹرز ہاؤس بہت اداس ہے، جیسے کونج قطاروں میں رخصت ہوئے ہوں، ان کی ایک آخری بکھری نسل ایک کر کے اڑی جا رہی ہو۔

جیسے کسی کو اپنا وطن چھوڑ کر جانا پڑے اور اسے وہاں کے ہر ہر چیز سے انسیت ہو، ٹیبل اور کرسیوں سے بھی اور ان کے اوپر لگے قہقہوں کی گونج سے بھی۔

جیسے خزاں کا ستم رسیدہ موسم پھل دینے والے درختوں کے پتے اتار پھینکے اور ہر گزرتی ہوا ان میں سرسراہٹ پیدا کر کے لطف اٹھاتی ہو۔

آج میرا وجود منظم مگر روح بکھری پڑی ہے، ایک کندھا تلاش کر رہا ہوں جس پر سر رکھ کر روؤں اور بہت سارا روؤں،
کیوں کہ یہ موقع بھی اگر ہاتھ سے جانے دیا پھر نجانے کب جی بھر کر رونے کا موقع ملے۔

اگر چہ کرنا نہیں چاہ رہا مگر بند مزاج ہونے کی وجہ سے دماغ دل پر حاوی ہوچکا ہے اور دیواروں سے سرگوشی کرتے ہوئے فی الحال آنکھوں کو باور کرا چکا ہوں کہ تھوڑی دیر رکنا ہے، خود کو قابو میں رکھنا ہے، جب دل کے بس سے بات نکلے گی تو آنکھیں مجبور ہوں گی، تب دماغ شکست کھائے گا اور میں جیت جاؤں گا۔

فی الحال تو اداسیوں کے بیچ صحرائے تکلا مکاں کا منظر پیش کرتے رائٹرز ہاؤس میں میری مجھ سے لڑائی جاری ہے، میں اس منظر کا ہمیشہ کی طرح تماشائی ہوں۔

column in urdu, Wept Was at My Mother’s Grave

سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کا صدر پریس کلب شگر عابد شگری سے تعزیتی رابطہ، والدہ کے انتقال پر دلی افسوس

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فائرنگ اور دھماکے: دو پولیس اہلکار جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

100% LikesVS
0% Dislikes

آخری بار اپنی ماں کے قبر پر جا کر رویا تھا، میں روتا نہیں ہوں، شہزاد سلطان بلوچ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں