دیدہ بینا۔بینائی سے بصیرت تک. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کچھ آنکھیں ہوتی ہیں جو صرف دیکھتی ہیں، اور کچھ آنکھیں وہ ہوتی ہیں جو دیکھ کر ٹھہر جاتی ہیں۔ یہی ٹھہراؤ دراصل بصیرت کی پہلی سیڑھی ہے۔ دیدہ بینا ہونا محض بینائی کا کمال نہیں، یہ دل و دماغ کے باہمی مکالمے کا نام ہے، جہاں منظر خاموش نہیں رہتا بلکہ معنی میں ڈھلنے لگتا ہے۔
ہمارا عہد آئینوں سے بھرا ہوا ہے، مگر عکس بے جان ہیں۔ ہر طرف چمک ہے، مگر روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے رفتار کو ترقی سمجھ لیا ہے اور ٹھہراؤ کو زوال، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہمیشہ ٹھہر کر جنم لیتی ہے۔ دیدہ بینا وہی ہے جو ہجوم میں بھی تنہائی کا مفہوم سمجھ لے اور خاموشی میں بھی صداؤں کو سن لے۔
شہر بولتے ہیں، دیواریں گواہی دیتی ہیں، مگر ہم نے سننا چھوڑ دیا ہے۔ فٹ پاتھ پر سویا ہوا بچہ، قطار میں کھڑا بے چہرہ آدمی، اور خبروں کی سرخیوں میں دفن سچ، یہ سب ہمارے سامنے ہیں، مگر ہماری نظر ان سے کتراتی رہتی ہے۔ شاید اس لیے کہ سچ دیکھنے کے لیے آنکھ سے زیادہ حوصلہ درکار ہوتا ہے۔
ہم لفظ بہت استعمال کرتے ہیں، مگر معنی کم۔ گفتگو شور بن چکی ہے اور خاموشی نایاب۔ سوشل میڈیا کے آئینے میں ہر چہرہ اپنی ہی تعریف میں محو ہے، کوئی دوسرے کی شکستگی پڑھنے کو تیار نہیں۔ دیدہ بینا وہ ہے جو اپنی آواز دھیمی رکھ کر دوسرے کے دل کی دھڑکن سن لے۔
تعلیم نے ہمیں حرف تو سکھائے، مگر بین السطور پڑھنے کا ہنر بھلا دیا۔ ہم کتاب کھولتے ہیں، مگر خود کو بند رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذہن آباد ہیں، دل ویران۔ ادراک کی وہ آنکھ جو سوال سے روشن ہوتی ہے، رفتہ رفتہ دھندلا رہی ہے۔
میڈیا بھی اس کہانی کا ایک کردار ہے، کبھی راوی، کبھی تماش بین۔ خبر اب اطلاع نہیں رہی، ایک منظر بن چکی ہے، جہاں سچ اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتا ہے۔ دیدہ بینا قاری وہ ہے جو لفظوں کے میک اپ سے دھوکا نہ کھائے اور مفہوم کے خدوخال پہچان لے۔
آخرکار، دیدہ بینا ہونا ایک مسلسل سفر ہے۔ یہ آنکھوں کو نہیں، انسان کو بدلتا ہے۔ جب نظر میں سوال اتر آئے اور دل میں ذمہ داری جاگ اٹھے، تب سمجھ لیجیے کہ بینائی بصیرت میں بدلنے لگی ہے۔ کیونکہ جو لوگ دیکھ کر سوچتے ہیں، وہی آنے والے وقت کا چہرہ پڑھ سکتے ہیں۔
column in urdu Vision to Insight




