تشدد. آمینہ یونس ،بلتستانی
جب بھی ہم “تشدد” کا لفظ سنتے ہیں تو ہمارا ذہن فوراً میاں بیوی کے رشتے کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ ہم عموماً تشدد کو شوہر کا اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانا سمجھتے ہیں۔ مگر دیکھا جائے تو تشدد کی اور بھی بے شمار صورتیں ہیں جن کی طرف ہماری توجہ کم ہی جاتی ہے، یا جاتی ہی نہیں۔ مثلاً والدین کا اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دینا، بچوں پر بلا وجہ سختی کرنا، دوستوں کے درمیان کسی ایک کو نظرانداز کرنا، رشتہ داروں میں مال و دولت کی بنیاد پر عزت دینا یا کم حیثیت والوں کو اہمیت نہ دینا، دوسروں کے سامنے اپنے بچوں پر ضرورت سے زیادہ محبت ظاہر کرنا، اسکول میں طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا، یا دفتر میں ناانصافی برتنا۔۔۔۔یہ سب بھی تشدد کی ہی شکلیں ہیں۔ یہ بظاہرچھوٹی چھوٹی باتیں لگتی ہیں مگر یہی رویے انسانی ذہن میں ایک گہرا خلا پیدا کر دیتے ہیں جس کا علاج دواؤں سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر ہم انسان ان معمولی نظر آنے والی باتوں کا خیال رکھیں تو بہت سی زندگیاں ذہنی تشدد کا شکار ہونے سے بچ سکتی ہیں اور کئی لوگ خود کو بے وقعت سمجھنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا احتساب کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں ہمارا اندازِ عمل کسی کے دکھ، کسی کی محرومی کو حسرت میں بدلنے کا سبب تو نہیں بن رہا، کیونکہ بعض اوقات لفظوں اور رویّوں کے زخم جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
column in urdu Violence
ضلع شگر میں تین روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا




