column in urdu Valentine’s Night 0

داستانِ عشق بہ نامِ پیا : شبِ ویلنٹائن تھی. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
داستانِ عشق بہ نامِ پیا : شبِ ویلنٹائن تھا
فلک پر چاند کسی محزون شاعر کی طرح جھکا ہوا
اور ہوا میں ایک انجانی سی کسک رچی ہوئی تھی

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

میں تنہا نہ تھی
تیری یاد میرے پہلو میں بیٹھی تھی
جیسے کوئی نرم سی دعا

میں نے آسمان سے کہا:
“اے گردشِ وقت! کیا آج میری تقدیر لکھے گا؟”
ستارے لرزے…
اور خاموشی نے اثبات میں سر ہلا دیا

اے پیا!
پہلی بار جب تجھے دیکھا
تو وقت نے اپنی رفتار کھو دی تھی
نگاہوں کے بیچ ایک ایسا عہد ہوا
جسے لفظوں کی حاجت نہ تھی

تیری آنکھوں میں ایک دنیا آباد تھی
اور میں اُس دنیا کی پہلی مسافر۔
تیری ہنسی میں بہاروں کی صدا تھی
اور میرا دل خزاں سے نکل آیا تھا

دن تیرے تصور سے مہکتے
راتیں تیرے خوابوں میں ڈھل جاتیں
یوں لگتا تھا جیسے محبت
ہم دونوں کے نام کا دوسرا عنوان ہو

مگر عشق کی راہوں میں
امتحان کی دھول بھی اڑتی ہے

ایک شام فضا کچھ بدلی بدلی تھی
ہوا نے آہستہ سے خبر دی:
“ہر ملاپ کے پیچھے ہجر کی چاپ چھپی ہوتی ہے…”

میں نے یقین نہ کیا
محبت کو کبھی زوال نہیں سمجھا تھا

پھر وہ لمحہ آیا
جب تیرے لب خاموش ہوئے
اور آنکھوں میں ایک اجنبی سا خوف اترا

“کیا ہوا؟” میں نے پوچھا

تو نے نظریں چرا کر کہا:
“محبت اپنی جگہ سچ ہے…
مگر دنیا کے فیصلے بھی کچھ ہوتے ہیں…”

یہ سن کر
میرے اندر جیسے شیشے ٹوٹ گئے

میں نے تیرا ہاتھ تھامنا چاہا
مگر فاصلے کی ایک ان دیکھی دیوار اٹھ کھڑی ہوئی

رات گہری ہوتی گئی
چاند پیلا پڑنے لگا

تیری پلکوں پہ آنسو تھے
اور میری سانس لرزتی ہوئی

“پیا! کیا ہم ہار جائیں گے؟”
میں نے آخری سوال کیا۔

تو نے آہستہ سے سر جھکا دیا

بس وہی لمحہ تھا
جب میرے دل کی دنیا میں قیامت اتری

تو پلٹا…
اور میں نے محسوس کیا
جیسے میری روح کا آدھا حصہ
تیرے ساتھ جا رہا ہو

میں نے پکارا
مگر آواز آنسوؤں میں ڈوب گئی

زمین پہ بیٹھ کر میں نے آسمان سے کہا:
“اگر یہی عشق کا انجام ہے
تو اسے امر کیوں کہا جاتا ہے؟”

جواب میں صرف سحر کی مدھم روشنی تھی

صبح ہو گئی
مگر میرے اندر رات ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئی

لوگ کہتے ہیں وقت مرہم رکھ دیتا ہے
مگر وہ نہیں جانتے
کچھ زخم دل کی پیشانی پر لکھے جاتے ہیں

اب جب بھی چاند نکلتا ہے
میں مسکرا دیتی ہوں

لوگ سمجھتے ہیں یہ عادت ہے
انہیں کیا خبر
میں اُس رات کو سلام کرتی ہوں
جس میں میرا دل دفن ہوا تھا

اے پیا!
اگر کبھی ہواؤں میں میرا نام سنائی دے
تو سمجھ لینا
میں اب بھی وہیں ہوں
جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا

ایک چراغ کے مانند
جو جلتے جلتے
اپنا سارا وجود راکھ کر دے

مگر بجھتے وقت بھی
دھواں بن کر
صرف تیرا ہی نام لکھے
column in urdu Valentine’s Night

ویلنٹائن ڈے: اخلاقی اقدار کا قاتل. سلیم خان

تعلیم یا تجارت؟ گلگت بلتستان کے نجی سکولوں کا کڑوا سچ. یاسر دانیال صابری

50% LikesVS
50% Dislikes

داستانِ عشق بہ نامِ پیا : شبِ ویلنٹائن تھی یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں