column in urdu Unity of the Ummah 0

اتحاد امت ، وقت کی ضرورت . یحیی ابراہیم شگری
واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو ۔
” اور سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو ” القرآن
اللّٰہ پاک قرآن میں تفرقہ بازی کی ممانعت کرتا ہے ، رسول خدا ص کا فرمان ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے ، ایک اور جگہے پر فرماتے ہیں کہ “مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے ” اس احادیث کی رو سے ایک مسلمان کو چاہئے کہ دوسرے مسلمان کے دکھ سکھ کو سمجھے ان کے ساتھ بھلائی کریں ۔ لیکن افسوس ہے آج کل کے مسلمان اللّٰہ پاک کے فرمان کو بھی ٹال دیتا رسول خدا ص کی احادیث کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا اور آپس میں تفرقہ بازیاں کر کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس ذمانے میں سوائے چند لوگوں کے کوئی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہلاتا ، کوئی شیعہ بنا ہوا ہے ،تو کوئی سنی ، کوئی حنفی بنا ہوا ہے تو کوئی بریلوی شافعی فلانہ فلانہ ۔ آج کل کے مسلمان یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دین ہم سب کا اسلام ہے اور کوئی بھی شخص کلمہ طیبہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں آجاتا ہے تو وہ ہمارا بھائی ہے ۔ بہت ہی افسوس ہوتا ہے آج کل کے مسلمانوں کی ذہنیت دیکھ کر چند مہینوں سے نوٹ کر رہا ہوں گلگت بلتستان میں چند شدت پسند افراد ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کرنے میں مگن ہے ایسے میں کوئی ایک بھی فرد ان کو سمجھانے کے لئے آگے نہیں آیا حکومت بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی حالانکہ یہ فرقہ واریت اور شدت پسندی ماضی میں بھی بہت سنگین حالات کا سبب بنی ہے اور آگے بھی ہمارے امن و سکون کو اس شدت پسندی سے خطرات لاحق ہیں ۔ چند دن پہلے ایک شخص کا کمینٹ دیکھا وہ بارہ اماموں کی شان میں بدترین گستاخی کر رہا ہے جن میں حضرت علی ع سے لے کر امام مہدی زمان ع تک شامل ہیں ۔ ارے بھئی تم ہوتے کون ہو اہل بیت علیہم السلام و بارہ اماموں کی توہین کرنے والے ؟ کیا حیثیت ہے تمہاری ؟ جو منہ اٹھا کے ان ہستیوں کی توہین کرتے ہو جو اہل بیت محمد ص میں سے ہے ۔ قرآن پاک میں اللّٰہ نے ان کی شان میں آیہ تطہیر نازل کی ہے ، رسول اللّٰہ ص کی سینکڑوں احادیث ان کے بارے میں ہے ۔ دوسری طرف سے چند شدت پسندوں کی طرف سے صحابہ کرام رض و خلفاء راشدین رض کی شان میں گستاخی کی جا رہی ہے ارے بھئی ہماری اتنی حیثیت نہیں ہے کہ ان پر بات کی جائے تو کیوں ان کی شان میں گستاخی کئے جا رہے ہو ؟
جہاں تک میں نے نوٹ کیا ہے کہ شیعہ سنی فسادات کا تفرقہ بازی کا سب سے بڑا سبب امامت و خلافت کا مسئلہ ہے ۔ کوئی شیعہ نماز نہ پڑھے تو کسی سنی کو اعتراض نہیں ، کوئی سنی نماز نہ پڑھے تو کسی شیعہ کو مسئلہ نہیں ، کوئی شیعہ زکوٰۃ نہ دے تو سنی کو مسئلہ نہیں کوئی سنی زکوٰۃ نہ دے شیعہ کو مسئلہ نہیں الغرض یہ کہ باقی سارے عقائد و اعمال پر ایک دوسرے سے کوئی اختلاف نہیں ایک دوسرے پر اعتراض نہیں اور امامت ، خلافت پر آ کر دونوں الجھ پڑتے ہیں ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے اور یہ اختلافات بڑھ کر یہاں تک پہنچ جاتی کہ لوگ بارہ اماموں علیہم السلام و خلفاء راشدین رض کی توہین کرنے لگ جاتے ہیں ۔ میرے بھائیو بات یہ ہے کہ امامت اور خلافت دو الگ منصب ہیں ان کا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں ۔ اگر میں حضرت علی علیہ السلام کو ولیوں کا سردار اور پہلا امام مانتا ہوں تو اس کے لئے خلفاء راشدین رض کی خلافت سے اختلاف رکھنے کی ضرورت نہیں ، اور میں خلفاء راشدین کی خلافت کو مانتا ہوں ، صحابہ کرام کی رسول اللّٰہ ص اور دین کے لئے کی گئی خدمات پر ان کی تعریفیں کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں امامت کو نہیں مانتا ۔ ان باتوں پر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی ، لعن طعن کرنے کی ، گستاخیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پیغمبر اکرم ص کے بعد اہل بیت علیہم السلام و بارہ امام بھی رض ہمارے ہیں ، خلفاء راشدین رض و صحابہ کرام رض بھی ہمارے ہیں ۔ آج کل کے مسلمانوں نے ان عظیم ہستیوں کو بھی بانٹا ہوا ہے ۔ وہ بھی سراسر جہالت و شدت پسندی ہے ۔ کہاں لکھا ہوا ہے کہ حضرت علی ع و بارہ امام صرف شیعوں کے ہیں ؟ اور کہاں لکھا ہوا ہے کہ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام نے سنی مسلک کے لئے خدمات کی اور جنگیں لڑیں ؟ کیوں ان ہستیوں کو اپنے حساب سے لیبل لگا کر تفرقہ بازی کرتے ہو ، یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ پیغمبر اکرم ص ، اہل بیت علیہم السلام ، بارہ امام ، خلفاء راشدین رض اور صحابہ کرام رض نے اگر کسی چیز کے لئے اپنا تن من دھن قربان کیا ہے تو وہ صرف دین اسلام ہے تمہارے فرقے نہیں یہ فرقے تم لوگوں کے بعد کی ایجادات ہے اس وقت کی نہیں جن ہستیوں کے نام پر تم لوگوں نے عجیب و غریب نام دے کر سینکڑوں فرقے بنائے ہوئے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں و بزرگوں سے درخواست کرتا ہوں خدارا خدارا تفرقہ بازی چھوڑ دو اپنے اپنے حساب سے عبادات کریں ۔ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور دوسروں کا چھیڑو نہیں ، یہ ہماری آپس کی ناچاقیاں ہماری پستی کا سبب بن رہی ہے دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے اور ہمارے پاس نہ کہیں جانے کے لئے محفوظ روڈ ہے نہ علاج کے ہسپتال ہیں نہ تعلیم کے لئے کوئی اچھی یونیورسٹی و کالجز کہنے کا مطلب یہ کہ ہمیں کوئی بھی اپنا حق نہیں مل رہا ہمارے حقوق ہڑپ کئے جارہے ہیں اور ہمیں منظم سازش کے تحت آپس میں الجھایا ہوا ہے ۔ جہاں ہم لوگ آسانی سے الجھ سکتے ہیں وہ ہے فرقہ واریت کی جال ادھر ہمارے حقوق کی ایسی کی تیسی ہورہی اور ہم لوگ نکلے ہوئے ہیں اہل بیت ع و صحابہ رض کو حق دلانے ۔ بھئی پہلے اپنے آپ کو تو پہچانیں اہل بیت ع و صحابہ کرام رض کو تمہاری ٹکے کی ضرورت نہیں ہے یہ جو آپ لوگ کر رہے ہو انہی حرکات پہ وہ بھی تم لوگوں پہ لعنت کریں گے ۔ خدارا خود کا سوچیں خود کے لئے کچھ نہیں کر پایا تو آنے والی نسلوں کا سوچ کر کچھ بہتری کا کام کر لیا کریں ۔ شیعہ ، سنی ، نوربخشی ، اسماعیلی متحد ہو جائیں یہ جو چند دو ٹکے کے ٹک ٹاکرز جن کو ناچ گانا کر کے ویوز نہیں ملے تو مذہبی معاملات پر بات کر کے ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین کر کے سوشل میڈیا کی زینت بننا چاہتے ہیں ان کا بائیکاٹ کریں ، بدقسمتی سے ہم لوگوں نے ان ٹک ٹاکرز کو سر پہ چڑھایا ہوا ہے جن کو دین کے بارے میں ا ب کا بھی نہیں پتہ ہوتا وہ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے مسائل کو چھیڑ رہے ہوتے ہیں عظیم ہستیوں کی توہین کر رہے ہوتے ہیں اس کے جواب میں نہ عوامی رد عمل آتی ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جو بھی سوشل میڈیا پر منافرت پھیلائے تفرقہ بازی کرے ان کو میڈیا پہ لائیو سزا دیا جائے تاکہ دوسرے لوگ جو شہرت کی خاطر مذہبی عقائد کو چھیڑنے کا سوچ رہے ہیں وہ باز آ جائے ۔ ہماری اجتماعی بدقسمتی ایک یہ بھی ہے کہ کوئی حکومت ایسی نہیں بنی جو گلگت بلتستان کے عوام کا مخلص ہو ، مختلف جگہوں سے مختلف نظریات لے کر لوگ اسمبلی میں آجاتے اپنے اپنے حلقے کے لئے ایک دو کروڑ کا کام نکلوا کر اگلے الیکشن کے لئے ووٹ بینک بنانے کا سوچتے اور یہاں گلگت بلتستان تباہ شدہ ہے نہ یہاں کوئی روزگار ہے ، نہ علاج کی سہولیات ہے نہ تعلیمی ادارے ، بس ہے تو چند برین واش کئے ہوئے مولوی صاحبان جن کی سوچ و ذہنیت ایک گاؤں و محلے کی حد تک محدود ہے وہ عوام کو یہ سمجھا رہے ہوتے کہ ہماری تنزلی ہماری اقدار کی بقا ہے ، غربت امتحان ہے ، ماڈرنزم کو کفر سمجھتے ، اپنے اپنے مرضی سے مختلف قسم کے فتویٰ صادر کر رہے ہوتے ۔ چند ایک کے سوا سارے مذہب پرست ہیں ۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک عالم اٹھے اور بولے بھئی سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے مل جل کے رہو محبتیں بانٹو ، نفرتیں ختم کرو لیکن افسوس اس بات کا کہ ایسا کوئی نہیں سارے مذہب پرست ہیں منبر رسول ص پر بیٹھ کر دین کی بجائے فرقے سکھاتا ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دین سکھایا جائے ، وحدت سکھائی جائے ، اتحاد و اتفاق کی باتیں کی جائے ، امن و محبت کا درس دیا جائے نہ کہ نفرت و عداوت اور بغض و دشمنی کا ۔ آخر میں ایک بار پھر نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں خدارا تھوڑا سا ٹائم نکال کے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچیں ماضی میں ہم نے فرقہ واریت کو ہوا دے کر کیا حاصل کیا تھا آگے اس فرقہ واریت سے ہمیں کیا حاصل ہونے والا اس کے کیا نتائج نکلیں گے ۔ میں نے از حد کوشش کی ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو پھر بھی بعض جگہوں پہ سخت الفاظ کا چناؤ کیا ہے اس سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معزرت چاہتا ہوں ۔ میرا تعلق نہ فقہ جعفریہ سے ہے نہ حنفیہ سے ۔ ہم تک جن شخصیات نے دین پہنچائی ان کا نام میر سید علی ہمدانی رح اور شاہ سید محمد نوربخش رح ہیں ان کے تعلیمات پر عمل کرتا ہوں ۔ شاہ سید محمد نوربخش نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اتحاد امت کا نعرہ بلند کرتا رہا وہ اتحاد امت کا ایک داعی تھا آج بھی ان کے پیروکار جو نوربخشی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ سب مسلمانوں کو بھائی سمجھتے ہیں ، شیعہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی الغرض جہاں کہیں کسی مسلمان کے ہاں نماز با جماعت پڑھ رہے ہوں یا کوئی محفل مجالس ہو وہ بلا جھجھک و اعتراض کے ان میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ ان کے عقائد ایسے ہیں کہ جس پر کسی دوسرے مسلمان کو اعتراض نہیں اور ان کے ہاں ایسا کوئی عقیدہ یا عمل نہیں جس پر کسی بھی دوسرے فرقے کو اختلاف ہو یا ان کی دل آزاری ہوتی ہو ۔ آخر میں دعاگو ہے اللّٰہ پاک تمام مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت و الفت پیدا کریں ، نوجوان نسل کو غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہم سب کو مل جل کر امن و محبت کو برقرار رکھ کر ہمارے معاشرے کی ترقی کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا فرما آمین ۔ ایک شعر آپ تمام کی خدمت میں عرض کرکے اختتام کرنا چاہوں گا جو کہ میرے آرٹیکل سے ریلیٹڈ ہے ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Unity of the Ummah

افسانہ: تارِ عنکبوت، منظور نظرؔ (سکردو)

چمن سے لاہور تک: المیے کی بازگشت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

خیبر: فائرنگ سے پولیس اہلکار 7 سالہ بیٹے سمیت جاں بحق، بنوں سے 2 پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد

50% LikesVS
50% Dislikes

اتحاد امت ، وقت کی ضرورت . یحیی ابراہیم شگری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں