خونِ رہبر اور وحدتِ امت مسلمہ . محمد بشیر حیدری
دنیا اس حقیقت کی انکاری نہیں ہے کہ اتحاد یا وحدت دو گروہوں کے باہمی تگ و دو اور باہمی تعاون سے وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس راہ میں دشواریاں ہوتی ہیں تاہم اتحاد کی رونقوں کے سامنے یہ دشواریاں شیریں ہوجاتی ہیں اور قابل فراموش ہوتی ہیں ۔اتحاد بین المسلمین صرف ایک موضوع نہیں بلکہ یہ وقت کہ اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے اور اس دورِ پر فتن میں میرا نظریہ ہے کہ یہ اتحاد روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورتوں سے بالاتر مقام رکھتا ہے اور اس کی خاطر عملی اقدامات کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اس میں بہت زیادہ کردار ملت کے علماء اور با بصیرت جوانوں کا ہے ،ان دونوں طبقات کو چاہیے کہ بین المسالک جو اختلاف ہیں انکو پس پشت ڈال کے کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کو پیغام دیں کہ ہم ایک ہی خون ہیں اور ایک ہی جان ہیں ، ہم بھائی ہیں اور اس جسد واحد کی طرح ہیں کہ جس کے ایک حصے کو درد ہو تو پورا وجود کرب میں مبتلا ہوتا ہے جیسا کہ کسی شاعر کا مشہور شعر ہے :
اخوت اسکو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پِیر و جواں بے تاب ہوجائے
اور یقیناً اس معاملے میں تشیع کے مجتہدین اور علماء کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے اور انہوں نے باہمی اختلاف کو ہمیشہ بھلانے اور ختم کرنے کہ تلقین کی ہے اور اسے بھائی چارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔
یقیناً اختلاف رائے ہوسکتی ہے مگر اس کی آڑ میں ٹکڑوں میں بٹنا یا اسکے باعث دشمن کو مواقع دینا عقل اور مذہب کے خلاف ہے اور باعث ننگ و عار اور باعث پشیمانی ہے
جیسا کہ امام خمینی نے فرمایا تھا :
” تم ہاتھ کھول کر اور باندھ کر نماز پڑھنے پر لڑ رہے ہو جبکہ دشمن تمہارے ہاتھ کاٹنے پر تلا ہوا ہے۔”
اور شیعہ جوانوں اور علماء سے فرمایا کہ اہلسنت ہمارے بھائی ہیں اور اسلام کے دو بازو ہیں ۔
ہمیشہ سے انکا یہی نظریہ رہا کہ باہمی اختلافات کو ہوا دینے والے عناصر کو موقع نہ دیں کہ وہ آپکے دین کے فیصلے کریں اور انہوں نے اسی ضمن میں فرمایا تھا کہ پورا عالم اسلام مل کر ایک ایک بالٹی پانی ڈالیں گے تو اسرائیل بہہ جائے گا اور صفحہ ہستی سے ہی محو ہوجائے گا ۔
اسی نظریہ کی تائید کرتے ہوئے آیت اللہ سیستانی صاحب نے فرمایا کہ” اہلسنت کو صرف بھائی نہ کہو یہ تو ہماری جان ہیں “.
اور شہید رہبر معظم نے اہلسنت کی مقدسات کی توہین کرنے کو حرام قرادیا اور عالم گیر فتوی جاری کردیا اور پوری دنیا میں اتحاد کی فضا کو معطر کرنے کی پھر پور تگ و دو کہ جس طرح امام خمینی نے اس فضا کو معطر کرنے کیلیے ہفتہ وحدت( 12 ربیع الاول تا 17) قائم کیا ۔
اور اسی لیے اللہ نے انکے پاکیزہ خون کی برکت سے امت کو متحد کردیا۔
چند لفظوں میں دیکھیں کہ رہبر کی شہادت نے بین المسالک وحدت کو کتنا فروغ دیا؟ ۔
گو کہ شہادت پورے عالم اسلام کے شیعہ سنی کیلیے ایک بہت بڑا نقصان ہے مگر اسکے باوجود انکی شہادت کے صدقے میں اللہ نے اتحاد کی فضا کو قائم کیا اور تشیع کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر کیا جس سے بہت سارے شبہات لوگوں کے دلوں سے دور ہوئے ۔
اسلام کے دو بدترین دشمن امریکہ اور اسرائیل جو کہ چاہتے ہیں اسلام ختم ہو اور اس کا واحد حل انکے نزدیک یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے اور یہ ایک دوسرے کو ختم کردیں اور اسکے لیے انہوں نے شر پسند اور تکفیری گروہوں ،درباری علماء نما جہلاء اور نام نہاد سکالرز کو منتخب کیا۔ اور یہ کافی حد تک اپنے منصوبوں میں کامیاب رہے مگر آج دنیائے اسلام میں رہبر عالی قدر کی شہادت نے ایک انقلاب بپا کر دیا اور بابصیرت جوان بیدار ہوگئے اور امریکہ اسرائیل کے ناجائز منصوبوں سے آگاہ ہوگئے ۔پوری دنیا میں جب رہبر عزیز،کی شہادت کی خبر سنی گئی تو اہلسنت کے علماء ،جوان،بابصیرت لوگ ایران اسلامی کی حمایت میں کھڑے ہوگئے اور رہبر معظم کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ملک پاکستان کی قریباً 40 جگہوں پر انکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور دشمن کو یہ پیغام دیا ہم ان کے ساتھ ہیں ،ایران کے سفارت خانہ میں آئے روز اہلسنت برادران کے وفود جارہے ہیں اور انکو اپنی مکمل تائید کی یقین دہانی کرا رہے ہیں ،اور ان میں سے ایک وفد جو کہ غالباً قبائلی تھا یقین دہانی کرائی کی اگر ایران کو افرادی قوت کی ضرورت ہوئی تو ڈیڑھ کڑور جوان دینے کو تیار ہیں جس پر ملت ایران انکی شکرگزار رہے گی ،اس کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اہلسنت کے برادران اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انے ساتھ یکجہتی کر رہے ہیں جیسے سوشل میڈیا پہ دیگر محافلوں میں اور اسکے علاوہ ایران کے لیے امدادی چندہ میں بھی بڑھ چڑھ کے حصہ ڈال رہے ہیں اور اپنے طور پر بھی کچھ جگہوں پہ چندہ مہم شروع کیا گیا ہے،سوشل میڈیا پہ اہلسنت برادران اپنی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے آواز اٹھا رہےہیں اور اسکے علاوہ کل ہی میں نے خبر سنی کہ بلتستان کے دو سنی برادران نے اپنے گھر میں آیت اللہ خامنہ ای صاحب کے ایصال ثواب کیلیے مجلس ترحیم کا انعقاد کیا اور علماء تشیع و علماء اہلسنت کو دعوت دی اور تکفیری گروہ اور شرپسندوں کو یہ بتادیا ہم اسلام کے دو بازوں ہیں اور ساتھ ہیں انشاءاللہ مل کر اسلام کا دفاع کریں گے ۔
اس حوالے سے ان علماء اہلسنت کا بھی کردار قابل قدر و قابل تحسین ہے جنہوں نے اپنے بیانات کے ذریعے جوانوں کو بیدار کیا اور انہیں احساس دلایا کہ ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے ۔علماء کرام نے جوانوں کو احساس دلایا کیا یہ جنگ ایران نے خود اپنے لیے چنی یے ؟ بالکل نہین بلکہ یہ جنگ ایران نے فلسطین وغزہ کے ان مظلوم اہلسنت برادران کے لیے لڑی ہے اور اسکا نتیجہ یہ ہے کہ ایران نے اپنے جرنیلوں ،ہزاروں سپاہیوں ،سینکڑوں بچوں کو کھویا اور سب سے بڑی قربانی جو انہوں نے اس راہ میں دی وہ ہے اس رہبر کی شہادت جو انکو جان سے زیادہ عزیز تھا حضرت آیت اللہ خامنہ ای رضوان اللہ تعالی انکو کھویا اور یہ سب کس لیے ؟دین اسلام کیلیے کیلیے،قبلہ اول کیلیے ،سرزمین انبیاء کیلے ،ان تمام باتوں کو احساس جب دلایا گیا تو انکے جوان بیدار ہوئے اور اتحاد امت میں بہترین کردار ادا کیا تاہم چند شرپسند عناصر جو کہ امریکہ کےٹکڑوں پہ پلتے ہیں ،اب بھی ایران اسلامی کے خلاف ہیں مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ و دھوبی کے اس کتے کی مانند ہیں جو نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا کیونکہ اب جوان جان چکے ہیں اور اس طرح کے شرپسندوں کے حیلوں میں نہیں آتے اور وہ ان علماء کے ساتھ ہیں جو اسلام کے ساتھ ہیں۔ اور وہ اس نعرےکو عملی جامہ پہنا چکے ہیں کہ “شیعہ سنی بھائی بھائی” “امریکہ کی شامت آئی “اور یقینا اس بات کو بھی حقیقت کردیں گے کہ “شیعہ سنی بھائی بھائی” ” تکفیری کی شامت آئی”۔ انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں کہ بیت االمقدس میں شیعہ سنی مل کر نماز پڑھیں گے اور دنیا کو پیغام دینگے ہم وہ بھائی ہیں جو کبھی جدا نہیں ہونگے۔
آخر میں میں ملت تشیع کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کی حیثیت سے ان تمام اہلسنت کے جوانوں اور علماء کا شکرگزار ہوں کہ جو اتحاد امت کیلیے تگ و دو کر رہے ہیں ۔اجرکم عند اللہ
محمد بشیر حیدری۔
سرحدوں کے محافظ. منظور نظرؔ (اسکردو)
column in urdu Unity Muslim Ummah




