“لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زمانہ اگر اپنے قدموں کی چاپ سن سکتا تو شاید پل بھر کے لیے ٹھہر جاتا، مگر گردشِ ایام کا مزاج ٹھہراؤ نہیں، بہاؤ ہے اور وہ بھی ایسا بےاماں بہاؤ جس میں کل کی کشتی آج کے کنارے سے بندھی نہیں رہتی۔ انسان عجیب مخلوق ہے، حال کے شور میں بھی ماضی کی سرگوشیاں سنتا ہے اور آنے والے کل کے خد و خال اپنے وہم کی روشنی سے تراشتا رہتا ہے۔ یہی کشمکش تہذیبوں کے جنم، زوال اور نئے سانچوں میں ڈھلنے کا سبب بنتی ہے۔
اگر وقت پیچھے کی طرف لوٹ آئے تو کیا ہم وہی غلطیاں دہرائیں گے یا شعور کی شمع اس بار زیادہ روشن ہوگی؟ تاریخ کا مطالعہ محض واقعات کی داستان نہیں، بلکہ انسانی رویوں کا آئینہ ہے۔ اندلس کے کوچہ و بازار ہوں یا بغداد کے کتب خانے، جب غرور نے دانائی پر نقاب ڈالا تو چراغ بجھ گئے اور خاک نے محلوں کو ڈھانپ لیا۔ کبھی علم و فن کے چرچے تھے، کبھی حکمت کی خوشبو، مگر گردش نے پلٹا کھایا اور شکوہ باقی، شوکت رخصت ہو گئی۔
ہماری اپنی تاریخ بھی کسی اور کی داستان نہیں۔ برصغیر نے عروج و زوال کے متعدد ادوار دیکھے۔ کبھی تاج و تخت کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی، کبھی غلامی کی زنجیر قدموں میں جھنکارتی تھی۔ پھر ایک صبح آزادی کی کرن پھوٹی اور ایک نئے وطن نے آنکھ کھولی، پاکستان۔ مگر آزادی محض خطِ امتیاز نہیں، عہدِ ذمہ داری بھی ہے۔ اگر گردشِ ایام لوٹ آئے تو کیا ہم اپنے اجتماعی فیصلوں میں زیادہ بصیرت، تحمل اور دیانت سے کام لیں گے؟
وقت کی ساعتیں محض کیلنڈر کے اوراق نہیں، بلکہ قوموں کے مزاج کی تشکیل ہیں۔ جب تعلیم تجارت بن جائے اور سیاست خدمت کے بجائے سیادت کا استعارہ ٹھہرے تو زوال کی پرچھائیاں دراز ہونے لگتی ہیں۔ کوئی مصلح صدا دیتا ہے، کوئی شاعر خواب جگاتا ہے، کوئی مفکر آئینہ دکھاتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ سماعتیں زندہ ہوں، ورنہ صدا صحرا میں گم ہو جاتی ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ماضی کی طرف لوٹنا ممکن نہیں، مگر ماضی سے سیکھ کر حال کو سنوارنا ممکن ہے۔ قومیں اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کرتی ہیں، مگر آگے بڑھتی ہیں وہی جو قیمت کو سبق میں بدل لیں۔ اگر گردشِ ایام پلٹ بھی آئے تو اصل سوال یہی رہے گا: کیا ہم بدلنے کو تیار ہیں؟ کیونکہ وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھومتا، انسان کا شعور ضرور پلٹ سکتا ہے۔
آج دنیا ایک عالمی گاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تہذیبوں کا تصادم بھی ہے اور مکالمہ بھی۔ طاقت کی نئی تعریفیں لکھی جا رہی ہیں، معیشت کے نئے پیمانے بن رہے ہیں۔ ایسے میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم تاریخ کے حاشیے پر درج ہونا چاہتے ہیں یا متن کا حصہ بننا۔ ماضی کی عظمت پر فخر بجا، مگر حال کی تعمیر اس سے بھی بڑا فریضہ ہے۔
سو اے اہلِ نظر! اگر کبھی خیالوں میں گردشِ ایام پیچھے کو لوٹے تو اسے محض حسرت نہ بننے دیجیے، بلکہ ایک زندہ سوال میں ڈھال دیجیے۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ ہماری کمزوریاں کہاں ہیں، ہماری ترجیحات کس قدر بکھری ہوئی ہیں اور ہمارے فیصلوں میں کتنی بصیرت شامل ہے۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر کسی معجزے سے نہیں بدلتی، بلکہ مسلسل خود احتسابی، درست سمت کے انتخاب اور اجتماعی شعور کی بیداری سے سنورتی ہے۔
یاد رکھیے، وقت کبھی پلٹ کر نہیں آتا، مگر وہ اپنے نقوش ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان نقوش کو محض داستان سمجھ کر نظر انداز کر دیں یا انہیں مشعلِ راہ بنا لیں۔ اگر ہم نے ماضی کی ٹھوکروں کو سبق میں بدل لیا، اگر ہم نے حال کی کوتاہیوں کو سنوار لیا، تو آنے والا کل خود ہماری عظمت کی گواہی دے گا۔
پس اصل سوال یہ نہیں کہ گردشِ ایام لوٹ سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیونکہ جب انسان اپنے اندر انقلاب برپا کر لیتا ہے، تو زمانہ اس کے پیچھے چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہی بیداری، یہی شعور اور یہی عمل دراصل وہ قوت ہے جو قوموں کو زوال کی تاریکیوں سے نکال کر عروج کی روشنیوں تک لے جاتی ہے۔
column in urdu Turn Back, O Passage of Time
خواب سے خواہش تک: ایک فکری و عملی سفر. سلیم خان




