ثقافت کے نام پر نوجوانوں کی کردار سازی روندو اور بلتستان کا حقیقی ثقافتی تشخص. سید مظاہر حسین کاظمی
ثقافت کسی قوم کی محض ظاہری پہچان نہیں ہوتی۔ یہ نہ صرف لباس، رہن سہن یا چند روایتی رسموں کا نام ہے اور نہ ہی چند علامتی اشیاء تک محدود کوئی تصور۔ درحقیقت ثقافت کسی قوم کے عقائد، اخلاقی اقدار، فکری سمت، اجتماعی شعور اور طرزِ فکر کی مکمل تصویر ہوتی ہے۔ یہی ثقافت قوموں کو زندہ رکھتی ہے اور یہی نوجوان نسل کے کردار، سوچ اور مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ثقافت کے نام پر نوجوانوں کی حقیقی کردار سازی کے بجائے انہیں ایک محدود، یک رُخی اور جامد تصور میں قید کیا جا رہا ہے۔ اصل اقدار کو پسِ پشت ڈال کر نوجوانوں کو محض ظاہری علامات، نمائشی رسوم اور سطحی روایات میں الجھایا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ فکری جمود اور سماجی کمزوری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اصطبل، گھوڑے اور مخصوص روایتی اندازِ زندگی ہی ہماری اصل ثقافت ہیں۔ اس سوچ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو ایک بنیادی اور تلخ سوال جنم لیتا ہے: اگر اصطبل ثقافت کا حصہ ہو سکتا ہے تو گاڑی کیوں نہیں؟ اگر گھوڑا ہماری شناخت کی علامت تھا تو جدید ذرائعِ سفر، سڑکیں، تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی ہماری ثقافت کا حصہ کیوں نہیں بن سکتے؟ کیا ثقافت صرف ماضی میں جینے اور پرانی علامتوں کی پرستش کا نام ہے یا وقت کے ساتھ آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور خود کو بہتر بنانے کا بھی تقاضا کرتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ثقافت کوئی جامد یا منجمد شے نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔ ہر دور اپنی ضروریات، حالات اور فکری سطح کے مطابق اپنی ثقافت خود تشکیل دیتا ہے۔ جس زمانے میں گھوڑا واحد ذریعۂ سفر تھا، وہی اس وقت کی ثقافت کا لازمی جزو تھا۔ آج کے دور میں گاڑی، ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، اس لیے انہیں ثقافت سے خارج کرنا دراصل عقل، شعور اور وقت کے تقاضوں سے انکار کے مترادف ہے۔روندو اور بلتستان کی ثقافت کا سب سے مضبوط، روشن اور قابلِ فخر پہلو اس کا دینی، اخلاقی اور روحانی تشخص ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ سے دین، علم اور اخلاق کا مرکز رہا ہے۔ یہاں مساجد اور امام بارگاہیں محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ تربیت، اتحاد، برداشت اور کردار سازی کے عملی مراکز رہی ہیں۔ انہی مقامات نے نوجوانوں کو نظم و ضبط، احترام، صبر اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور عطا کیا ہے۔نماز کی پابندی، مقدسات کا احترام، مساجد و امام بارگاہوں کی تعمیر، علماء کی رہنمائی اور سادات کا ادب و احترام—یہ سب ہماری ثقافت کے ستون نہیں بلکہ اس کی روح ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان بنیادی اقدار کو نظر انداز کر کے ثقافت کو صرف چند رسومات یا مادی اشیاء تک محدود کر دیا گیا ہے، جو ہماری اصل شناخت کے ساتھ ناانصافی ہے۔اگر ایک نوجوان مسجد میں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، امام بارگاہ میں ادب کے ساتھ بیٹھتا ہے، علماء کی بات توجہ سے سنتا ہے اور سادات کا احترام کرتا ہے تو وہ محض مذہبی فریضہ ادا نہیں کر رہا بلکہ اعلیٰ ثقافتی شعور کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہی اعمال نوجوان کے کردار میں عاجزی، برداشت، نظم و ضبط، اخلاقی جرات اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی وہ ثقافت ہے جو معاشرے کو جوڑتی ہے، نفرت کے بجائے محبت پیدا کرتی ہے اور انتشار کے بجائے اتحاد کو مضبوط بناتی ہے۔اگر ثقافت کے نام پر نوجوانوں کو ایسے راستے پر دھکیلا جائے جو انہیں دین، علم، اخلاق اور مثبت سوچ سے دور لے جائے تو یہ کردار سازی نہیں بلکہ کھلی کردار کشی ہے۔ روندو اور بلتستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں کی اصل ثقافت نے ہمیشہ علم دوستی، دینی شعور، مہمان نوازی، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دیا ہے، نہ کہ تنگ نظری، جمود یا ترقی سے فرار کو آخر میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ہمیں ثقافت کے نام پر نوجوانوں کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑنے کے بجائے انہیں اپنی اصل اقدار سے جوڑنا چاہیے۔ اصطبل ہماری تاریخ ہے، اس سے انکار ممکن نہیں، اور گاڑی ہمارا حال اور مستقبل ہے، اسے رد کرنا دانشمندی نہیں۔ اسی طرح مساجد، امام بارگاہیں، مقدسات کا احترام اور علماء و سادات کا ادب و احترام نہ صرف ہماری ثقافت کا حصہ ہیں بلکہ ہماری شناخت، وحدت اور بقا کی ضمانت بھی ہیں یہی متوازن، زندہ اور باوقار ثقافت نوجوانوں کی حقیقی معنوں میں کردار سازی کر سکتی ہے اور روندو و بلتستان کو ایک روشن، مضبوط اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
column in urdu, True Cultural Identity
نوجوانوں کا آن لائن گیمز میں مالی نقصان اور وقت کا ضیاع ایک خاموش المیہ، یاسر دانیال صابری




