column in urdu The Spider’s Web 0

افسانہ: تارِ عنکبوت، منظور نظرؔ (سکردو)
ابھی سورج زمین کو اپنی مہربان کرنوں سے منور کر ہی رہی تھیں کہیں موٹر سائیکل کی آوازیں تو کہیں گاڑی کے ہارن بتا رہے تھے کہ زندگی پوری طرح جاگ چکی ہیں رمضان کا مقدس مہینہ تھا احمد اپنے گھر کی لائبریری میں “عشق کے چالیس اصول” کی مطالعے میں مصروف تھا۔ اتنے میں دروازے پر دستک سنائی دی۔ اس نے کتاب ایک طرف رکھی اور یہ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا کہ صبح صبح کون آیا ہے۔
دروازہ کھولا تو سامنے ہمسایہ کا لڑکا نوید کھڑا تھا، جس کے چہرے پر ہوائیں اڑ رہا تھا ۔ نوید کی حالت دیکھ کر میں نے جلدی سے پوچھا کیا ہوا نوید تم کیوں ڈرا ہوا ہے اندر تو آ جاؤ نوید اندر آیا تو پوچھنے لگا اب بتاؤ ہوا کیا ہے ؟
نوید نے ایک گہری سانس لیا اور جو کچھ بتایا اس سے میری رونکھڑے کھڑے ہوئے میں ابھی ابھی ہسپتال سے آ رہا ہوں۔
ہسپتال! کیوں، سب ٹھیک تو ہے؟
سب ٹھیک نہیں ہے کل رات شہریار صاحب کی بیٹی سدرہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے ۔ بروقت علم ہونے پر ہم اسے ہسپتال لے گئے، وہ بچ تو گئی ہے لیکن اس کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
اچھا خدا خیر کرے! وہ تو ماشاءاللہ کافی سمجھدار اور پڑھی لکھی لڑکی ہے، اس نے ایسا قدم کیوں اٹھایا؟
احمد کیا بتاؤں! آج کل کے بچے اپنے بڑوں سے زندگی کی پیچیدگیاں کہاں بانٹتے ہیں۔ اوپر سے یہ موبائل اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال۔۔۔
لیکن سوشل میڈیا کا اس معاملے سے کیا تعلق؟
آج کل ہر تعلق جا کر سوشل میڈیا سے ہی ملتا ہے اس کی سہیلی کے مطابق وہ ٹک ٹاک پر ویڈیوز بناتی تھی اور اپنی تصاویر اپ لوڈ کرتی رہتی تھی۔ کچھ دنوں سے کسی نامعلوم شخص نے ‘مصنوعی ذہانت’ (AI) کی مدد سے اس کی تصاویر کو مسخ کر کے (نازیبا بنا کر) اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسی ذہنی دباؤ اور خوف کے باعث اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔”
یہ تو نہایت افسوسناک ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ خصوصاً ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی ‘پرائیویسی’ کے معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے، ورنہ پل بھر کی لاپرواہی سے زندگیاں اجڑ جاتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کا یہ تارِ عنکبوت ہماری نسلوں کو اپنی گرفت میں لے کر ایسے ہی سنگین نتائج سے دوچار کر رہا ہے۔
بالکل! ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری نہیں، یہ تو کئی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی ہے، لیکن اس کے چھپے ہوئے خطرات سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اس کا استعمال صرف ضرورت کی حد تک ہونا چاہیے، ورنہ یہ وقت اور پیسے کے ضیاع کے ساتھ ساتھ عزت و آبرو کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
اس لیے نوجوان نسل کو سوچ سمجھ کر ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ عزت و آبرو محفوظ رہ سکیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu The Spider’s Web

چمن سے لاہور تک: المیے کی بازگشت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

>خیبر: فائرنگ سے پولیس اہلکار 7 سالہ بیٹے سمیت جاں بحق، بنوں سے 2 پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد

100% LikesVS
0% Dislikes

افسانہ: تارِ عنکبوت، منظور نظرؔ (سکردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں