column in urdu Temporary Marriage 0

نکاح متعہ اور یونیورسٹیز میں ہونے والی نئی فیشن ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
” تاریخ میں انسان وہ واحد مخلوق ہے جس چیز میں اسے کوئی فائدہ نظر نہ آئے وہ اسے کبھی برا نہیں سمجھتا ”
عزیز دوستو ، معاشرے میں ایک اور ٹرینڈ چلنا شروع ہوا ہے۔ میں حیرت میں تب پڑ گیا کہ جب میرے اہل سنت کسی بھائی نے مجھے نکاح متعہ کے بارے میں سوال کیا ۔ ان کا سوال کچھ یوں تھا کہ ” ہم یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی یہ چار سال کسی ریلیشن میں گزاریں اور بعد میں شادی نہ کریں ۔ ہمارا مقصد صرف گناہ سے بچنے کے لیے ہے تو کیا ہم گناہ سے بچنے کے لیے نکاح متعہ پڑ سکتے ہیں” ؟
یہ وہ سوال تھا کہ جو مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے واقعی لمحہ فکریہ تھی ۔ کیا نکاح متعہ کے بارے میں اس قدر غلط فہمیاں پیدا کئے گئے ہیں کہ لوگ اسے اپنی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں ۔ چلیں ، سب سے پہلے نکاح متعہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ ایک طرح سے عارضی نکاح ہے جس میں وقت معین ہوتا ہے ۔ تاریخ کے مطابق یہ رسول پاک ص کے دور میں سے شروع ہوا تھا اور خلیفہ ابوبکر رح کے دس سال تک یہ عارضی نکاح رائج تھا ۔ بعد میں خلیفہ عمر رح نے اس نکاح کے بارے میں شریعت بدل دیا ۔ اور پھر چوتھے خلیفہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے اسے دوبارہ شریعت میں نافز کیا ۔
خیر ، یہ کب ، کیوں اور کیسے کیا ، یہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔ تب سے شیعہ مسلک کے فالوورز اس نکاح کو صحیح مانتے ہیں اور آج بھی بہت سارے جگہوں پر یہ نکاح پڑھائے جاتے ہیں ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

لیکن کچھ غلط فہمیاں اس قدر پھیلی جا رہی ہیں کہ اب اس کو روکنا مشکل نظر آتا ہے ۔ یہ شریعت نہیں ہے جو آپ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں ۔
نکاح متعہ میں اور دائمی کچھ خاص فرق نہیں ہے ۔
1۔ نکاح متعہ کے لیے ضرور ہے کہ دونوں پارٹنر ایک دوسرے کو میاں بیوی تصور کریں ۔
2۔ نکاح متعہ کے لیے ضروری ہے کہ حق مہر طے ہو ۔
3۔ نکاح متعہ کے بعد اگر کوئی اولاد پیدا ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ اسے مرد شرعی اور قانونی طور پر اپنا وارث تصور کریں۔
4۔ اور سب سے ضروری بات ، اگر کوئی شخص کنواری لڑکی سے نکاح متعہ پڑھنا چاہتے ہیں تو شرط ہے کہ لڑکی کے ساتھ اس کا ولی یعنی ( باپ ، یا دادا ، اگر وہ دونوں نہیں ہے تو بڑا بھائی ) کی رضا مندی شرط ہے اور دو یا دو سے زائد گواہوں کا ہونا بھی شرط ہے ۔
اب آتے ہیں اپنے اصل مدعا کی جانب ۔
کیا یونیورسٹیز میں وقتی نکاح یعنی نکاح متعہ پڑھ کر اپنی ہوس پوری کرنے والی لڑکے اور لڑکیاں ان اصولوں کے ساتھ نکاح پڑھ رہے ہیں ؟؟
خدا کی قسم ، کوئی بھی شخص نکاح متعہ پڑھنے سے پہلے لڑکیوں کے گھر والوں سے بلکل نہیں پوچھتا اور نہی اس قسم کی نکاح سے گھر کے ولی راضی ہوتا ہے ۔ اب ہم جب یونیورسٹی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں تقریباً پچانوے فیصد مرد و خواتین غیر شادی شدہ ہیں ۔ تو اکثر یونیورسٹیز میں شریعت کو لوگ اپنے حساب سے چلا رہا ہوتا ہے جو شرعی طور پر باطل ہے ۔ تقریباً ، پیچھلے سال کسی لڑکی سے میری اسی ٹاپک پہ بحث ہوئی ، تو پتا چلا وہ بھی یونیورسٹی میں ، کسی سے نکاح کیا ہوا تھا ۔ جب میں نے سوال کیا کہ کیا اس نکاح کے بارے میں آپ کے گھر والوں کو پتا ہے ؟؟ تو اس نے انکار کیا ، اور کہا گھر والوں کو پتا نہیں ہے ۔
پھر میں نے دوبارہ سوال کیا کہ تم لوگوں کا نکاح کس نے پڑھائی ؟؟ تو لڑکی کچھ پل رکنے کے بعد جواب دیا ” ہم نے خود نکاح پڑھائی”.
اور وہ دونوں چار سال تک ، شریعت کو اپنے حساب سے چلاتے ہوئے زنا کرتے رہے ۔ نا اس نکاح کے بارے میں لڑکے کے گھر والوں کو پتا تھا ، اور ناہی لڑکی کے گھر والوں کو اس حوالے سے کوئی معلومات تھی۔ نا اس نکاح میں ولی موجود تھے اور ناہی گواہان، اور ناہی نکاح کو نکاح کی صورت میں صحیح سے پڑھانے والے مولوی موجود تھے ۔
بعد میں کچھ یوں ہوا کہ لڑکی گریجویشن کے بعد گھر والوں نے کسی اور سے شادی کروا دی ۔ اور یوں یہ ایک راز بن کر دفن ہو گئے ۔
عزیزوووو!!
اس طرح کی نکاح کی شریعت بلکل اجازت نہیں دیتی اور ناہی شریعت میں اس طرح کی فسخ چیزیں موجود ہے ۔ یہ مکمل طور پر زنا ہے ، اور زنا ایک ایسی گناہ ہے جس میں شریعت کے مطابق سر عام ستر سے سو کوڑے مارتے جاتے ہیں ۔ اور یہ شدید گناہوں میں شامل ہوتا ہے ۔اور الحمدللہ سے ارض بلتستان ( یعنی سر زمین اہلبیت ) جیسے علاقوں میں اب لوگ نکاح متعہ نہیں پڑھاتے ۔ لیکن ڈاؤن ٹاؤن شہروں میں لوگ زیادہ تر اپنے حساب سے شریعت لاگو کر رہے ہوتے ہیں ۔
جو یقیناً غلط ہے۔
خدارا !!
شریعت کا مزاح نہ بنائیں ، اور شریعت کو سمجھ کر اپنی زندگی گزاریں۔ کسی کی دو بول میٹھی باتوں میں آکر خود کو تباہ نہ کریں۔ عبدر الستار ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹیم ہر روز ، کچروں سے ہزاروں بچّوں کو نکال کر ان کی پرورش کرتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ مرد حضرات ہے جو خدا کی قسم ، ماما کی قسم ، آپ کی قسم کھا کر کسی وجود کو تباہ کر دیتا ہے ۔
” لذت کے خاطر گناہ نہ کریں ، لذت چلی جائے گی جبکہ گناہ ہمیشہ رہ جائے گی ” ۔
میری یونیورسٹی میں پڑھنے والی جتنی بھی خواتین ہے ، ان سے التماس ہے کہ کوشش کریں آپ مردوں کی ایسی چالوں کو سمجھ جائیں اور خود کو بچا کر رکھیں ۔ اگر آپ واقعی میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو نکاح دائمی پڑھ لیجیے۔
تاکہ آپ کی عصمت ، آپ کی عزت اور سب سے بڑھ کر آپ کے مستقبل محفوظ رہ سکے ۔

تحریر نگار:
طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
12 اپریل, 2026

column in urdu Temporary Marriage

برسی رہبر معظم سکردو محبان اہلیبیت ع. شبیر حسین کمال

50% LikesVS
50% Dislikes

نکاح متعہ اور یونیورسٹیز میں ہونے والی نئی فیشن ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں