مضبوط جوان، مضبوط پاکستان منظورنظرؔ (اسکردو بلتستان)
دستِ قدرت کی عطا کردہ اس طلسماتی حیات میں، جہاں کبھی بھی، کہیں بھی کچھ ہونے پر اب کوئی انگشت بدنداں ہوتا محسوس نہیں ہوتا، جہاں ترقی اور نت نئے انکشافات اور ایجادات اب عام سی بات ہوگئی ہیں، ہر قوم اپنی بساط کے مطابق ترقی کی راہوں پر محوِ سفر ہے۔ تاریخِ عالم کے اوراق کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ جہانِ بے ثباتی میں آج تک جن اقوام نے کامیابی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور غلامی، مفلسی اور غربت کی زنجیروں میں جکڑے انسانوں کو آزادی جیسے حسین تحفے سے نوازا، اُن کا سب سے بڑا اثاثہ ان اقوام کے نوجوانوں کی فکر و شعور، عزم و ہمت، کردار اور اُن کی حب الوطنی ہے۔
کوچہء ہستی میں حیاتِ بنی نوع کو عطا کردہ نصاب پر غور کریں تو بلاشبہ اس میں ایک واضح موضوع نوجوانوں کا ہی ملتا ہے۔
نوجوان طبقہ کسی بھی ملک و قوم کا وہ نایاب الماس ہوتا ہے جس پر پوری قوم کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ انہی نوجوانوں کی انفرادی قوت، ان کا عزم و ہمت اور جذبۂ حب الوطنی قوم و ملت کی معاشی، معاشرتی اور اقتصادی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور کسی بھی موڑ پر ان کی قوت، قابلیت، علم اور ہنر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ گواہ ہے نوجوانوں کی قوت و ہمت نے زوال اور پستی کی طوفان خیز موجوں میں پھنسے اپنے لوگوں کو سفینۂ نجات میں بٹھا کر ترقی کے کناروں سے روشناس کرایا ہے اور انہیں مقصدِ حیات، جینے کا سلیقہ سکھانے کے ساتھ ساتھ دنیا کی دوسری ترقی یافتہ قوموں کی طرح اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا ہے، اور وہ اپنے حصے کی شمع روشن کرتے ہوئے نہ صرف خود آگے بڑھے بلکہ اپنی اقوام کو بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔
آج دنیا مریخ پر قدم جمانے اور زندگی کے خواب دیکھ رہی ہے تو یہ بھی انہی نوجوانوں کی علمی اور عقلی قوت کے سہارے ہے۔ وہ باتیں جو کسی زمانے میں صرف باتوں کی حد تک رہ جاتی تھیں، اب ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔ جو تصورات کبھی محض خیالات تک محدود تھے، وہ آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی بھی انہی کاوشوں کا ثمر ہے۔ ایسے میں ہمارے لیے بھی ضروری ہے ہمیں بھی دوسری اقوام کی طرح اپنے نوجوانوں میں موجود خداداد صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا، انہیں ایسے مواقع فراہم کرنے ہوں گے جن کے ذریعے وہ اپنے جسمِ خاکی میں پنہاں ہنر اور صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوا سکیں۔
ہماری نوجوان نسل بھی کسی سے کم نہیں، یہ بھی ستاروں پر کمند ڈالنے اور انہیں مسخر کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔ ارفع کریم اس کی روشن مثال ہے۔ دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل تھیں۔ انہوں نے آئی ٹی کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا۔ ملالہ یوسفزئی نے کم عمری میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی، خاص طور پر سوات میں شدت پسندی کے خلاف۔ وہ دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ بنیں اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ہمارے بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹوں نے بھی وطنِ عزیز کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ عبدالسلام ایک عظیم سائنسدان تھے جنہوں نے فزکس کے میدان میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے نوبل انعام جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا اور سائنسی تعلیم کو فروغ دیا۔ کرنل شیر خان نے کارگل جنگ میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ وہ نوجوانوں کے لیے جرات، حب الوطنی اور قربانی کی علامت ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کی فرسودہ روایات سے نکل کر عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کوئی ایسا لائحۂ عمل ترتیب دینا چاہیے جو ہماری معاشی، معاشرتی اور کردار کی ترقی کا باعث بنے۔ جس کی روشن اور پُرنور کرنوں سے ثریا کی آنکھیں بھی چندھیا جائیں اور جس پر خورشیدِ جہاں رشک کرے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے علم و ہنر، فکر و فن، عزم و ہمت کا بھی اعتراف کرنا ہوگا، تاکہ وطنِ عزیز کی ترقی و سلامتی مستحکم ہو اور ہم بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔
یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم اپنی نوجوان نسل کو محض امید نہیں بلکہ مواقع فراہم کریں، انہیں اعتماد دیں اور ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں رہنمائی دیں۔ کیونکہ جیسا کہ مفکرِ پاکستان محمد اقبال نے فرمایا:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
column in urdu Strong Youth, Strong Pakistan
دن بھر کی اہم خبریںاور کالمز ملاحظہ فرمائیں
>نکاح متعہ اور یونیورسٹیز میں ہونے والی نئی فیشن ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
برسی رہبر معظم سکردو محبان اہلیبیت ع. شبیر حسین کمال




