column in urdu, Shigar’s Backwardness 0

شگر کی پسماندگی: قصور کون؟ غلام جعفری شگری
جب بھی الیکشن کا موسم قریب آتا ہے تو شگر کے چند مخصوص حلقوں میں ایک ہی بیانیہ شدت کے ساتھ سننے کو ملتا ہے کہ شگر تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بری طرح پسماندہ رہ گیا ہے۔ اس پسماندگی کا سارا ملبہ ماضی کے سیاسی نمائندوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ انہیں کبھی تعلیم دشمن کہا جاتا ہے، کبھی صحت دشمن، اور کبھی اجتماعی ترقی کا قاتل قرار دے کر عوامی غصے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پچھلے انتخابات تک ہمیں بھی یہی محسوس ہوتا رہا کہ الیکشن جیتنے والے نمائندے اجتماعی فلاح، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ دینے کے بجائے مخصوص افراد کو نوازنے میں مصروف رہتے ہیں۔
بظاہر یہی تاثر دیا جاتا رہا کہ شگر میں تعلیم و صحت کی تباہ حالی کسی گہری سیاسی سازش کا نتیجہ ہے اور یہ کہ نمائندے شعوری طور پر اس علاقے کو پسماندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس بار جب ہمیں سیاسی نمائندوں کے ساتھ براہ راست سیاسی کنونسنگ اور عوامی رابطہ مہم میں شریک ہونے کا بھرپور موقع ملا تو ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی تصویر سامنے آئی۔ ایسی تصویر جو ہماری سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اس بار شگر کے ہر گاؤں، ہر محلے اور تقریباً ہر گھر تک جانے کا موقع ملا۔ اس دوران نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر عوام، سرکردہ شخصیات، تعلیم یافتہ افراد اور عام ووٹرز سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں جو حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اجتماعی ترقی نہ ہونے اور تعلیم و صحت پر توجہ نہ دیے جانے کا الزام محض نمائندوں پر ڈال دینا ایک آسان مگر ادھورا تجزیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورتحال میں عوام خود بھی برابر کے شریک ہیں۔
ہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ کسی بھی گاؤں میں شاذ و نادر ہی کسی فرد نے نمائندوں سے کسی اسکول، کالج، ہسپتال، ڈسپنسری یا کسی اور اجتماعی ترقیاتی منصوبے کا مطالبہ کیا ہو۔ اس کے برعکس، عام آدمی سے لے کر تعلیم یافتہ اور با اثر افراد تک تقریباً سب کی گفتگو ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہی۔ ووٹ کے بدلے بجلی کی تار، پچاس فٹ پائپ، بورنگ، چوکیدار کی نوکری، کسی عزیز کی ٹرانسفر یا دیگر ذاتی نوعیت کے مسائل۔ یہی وہ مطالبات تھے جو بار بار سامنے آتے رہے۔ اس صورتحال سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نمائندے چاہ کر بھی اجتماعی ترقی کے بڑے منصوبوں پر اس وقت تک توجہ نہیں دے سکتے جب تک عوام کی طرف سے اس کا اجتماعی مطالبہ موجود نہ ہو۔ سیاست ایک لین دین کا عمل بن چکی ہے نمائندے وہی کام کرتے ہیں جن کے بدلے انہیں ووٹ ملتے ہیں۔ جب ووٹ ذاتی مفادات کے عوض دیے جائیں گے تو پالیسی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے وسیع تر مسائل پس پشت ہی رہیں گے۔
یوں شگر کی پسماندگی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زوال صرف نمائندوں کی ناکامی نہیں بلکہ ووٹرز کی اجتماعی ترجیحات کا بھی عکس ہے۔ جب ووٹر خود کسی اسکول، کالج یا ہسپتال کا مطالبہ نہیں کرے گا تو نمائندہ کیوں اپنی سیاسی توانائی اور وسائل اس سمت میں صرف کرے گا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ اگر ہم واقعی شگر کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔ پائپ، تار، نوکری اور ٹرانسفر کے عوض ووٹ دینے کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کی جگہ ہمیں اسکول، سڑکیں، ہسپتال، صاف پانی، اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نمائندے عوام کے آئینہ ہوتے ہیں۔ جیسا مطالبہ ہوگا ویسا ہی عمل سامنے آئے گا۔ اگر اس بار شگر کے عوام اجتماعی ترقی، تعلیم اور صحت کو ووٹ کی بنیاد بنائیں گے تو نمائندے بھی مجبور ہوں گے کہ وہ انہی شعبوں پر توجہ دیں۔
شگر کی تقدیر بدلنے کی کنجی کسی ایک نمائندے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی شعور میں ہے۔ جب تک ہم ووٹ کو ذاتی فائدے کی بجائے اجتماعی مستقبل کے لیے استعمال نہیں کریں گے تب تک شگر کی ترقی محض ایک نعرہ ہی رہے گی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم وقتی فائدہ چاہتے ہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر شگر بنانا چاہتے ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu, Shigar’s Backwardness

کرار کا بیٹا اور تزویراتی پراپیگنڈا، سید مظاہر حسین کاظمی

شگر علی آباد ہوطو برالدو میں 13 رجب یومِ ولادتِ باسعادت مولا علیؑ کے موقع پر عظیم الشان جلسہ

سیکولرزم اور اسلام: دو مختلف زاویۂ ہائے فکر, ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری

50% LikesVS
50% Dislikes

شگر کی پسماندگی: قصور کون؟ غلام جعفری شگری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں