column in urdu Self-Admiration to Self-Deception 0

نرگسیت۔خود پسندی سے خود فریبی تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
“نرگسیت” محض ایک وقتی عادت یا سطحی رویہ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان کی شخصیت، سوچ اور تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ کیفیت دراصل “خود شناسی” کی کمی اور “خود فریبی” کی زیادتی کا نتیجہ ہوتی ہے، جس میں فرد اپنی حقیقت سے نظریں چرا کر ایک مصنوعی برتری کا خول اوڑھ لیتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

انسانی فطرت میں اپنی ذات سے محبت ایک قدرتی امر ہے، مگر جب یہی محبت حدِ اعتدال سے تجاوز کر جائے اور انسان خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگے تو یہ نرگسیت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے افراد اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسروں کی خوبیوں کو نظرانداز یا کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ رویہ خود اعتمادی معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک گہرا احساسِ عدمِ تحفظ چھپا ہوتا ہے، جسے وہ جھوٹی انا کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

“نرگسیت” کی علامات صرف ظاہری رویوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ انسان کی سوچ، جذبات اور سماجی تعلقات میں بھی واضح نظر آتی ہیں۔ تنقید کو برداشت نہ کرنا دراصل کمزور انا کی نشانی ہے، جبکہ مسلسل تعریف کی خواہش اس بات کی غماز ہے کہ فرد اندرونی طور پر خود اعتمادی سے محروم ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو ہمدردی کی کمی ہے، کیونکہ یہی صفت انسان کو دوسروں سے جوڑتی ہے۔ جب ہمدردی ختم ہو جائے تو تعلقات محض مفاد تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔

“نرگسیت” کے اثرات نہایت وسیع اور گہرے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ خاندانی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ “نرگسیت” پسند افراد دوسروں کے جذبات اور عزت کو نظرانداز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں رشتوں میں دراڑیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ لوگ ایسے افراد سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ تنہائی خودمختاری کا تاثر دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک گہرے جذباتی خلا کی علامت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ “نرگسیت” انسان کی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جو شخص اپنی غلطیوں کو تسلیم نہ کرے، وہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ خود احتسابی کے فقدان کی وجہ سے ایسے افراد پیشہ ورانہ اور تعلیمی میدان میں ایک حد کے بعد ترقی نہیں کر پاتے، کیونکہ بہتری کا پہلا قدم اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔

اس مسئلے کے حل میں تربیت کا کردار نہایت اہم ہے، خصوصاً بچپن اور نوجوانی کے دور میں۔ والدین اور اساتذہ اگر بچوں کی تربیت میں توازن قائم رکھیں تو نرگسیت کے رجحان کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کی تعریف ضرور کی جائے، مگر اعتدال کے ساتھ تاکہ وہ اپنی قدر پہچانیں مگر خود کو دوسروں سے برتر نہ سمجھیں۔ دوسروں کے احترام کا درس دینا دراصل انسانیت اور مساوات کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔

اسی طرح بچوں کو ذمہ داریاں دینا ان میں احساسِ جوابدہی اور خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے، جو “نرگسیت” کے برعکس ایک اجتماعی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ شکرگزاری کی عادت انسان میں عاجزی پیدا کرتی ہے، کیونکہ جب وہ اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو عطیہ سمجھتا ہے تو غرور کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے بھی “نرگسیت” کو بڑھاوا دیا ہے، جہاں ہر فرد خود کو نمایاں کرنے کی دوڑ میں شامل ہے، اس لیے اس کا متوازن استعمال نہایت ضروری ہے۔

اسلامی اور اخلاقی تعلیمات اس مسئلے کا بہترین حل پیش کرتی ہیں۔ تواضع، اخلاص اور خود احتسابی جیسی صفات نہ صرف نرگسیت کا تدارک کرتی ہیں بلکہ ایک متوازن اور صحت مند شخصیت کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں، اگر والدین خود ان صفات کا عملی نمونہ بنیں تو بچوں کی تربیت زیادہ مؤثر اور دیرپا ہو جاتی ہے۔

المختصر “نرگسیت” بظاہر خود اعتمادی کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ اندرونی کمزوریوں کا اظہار ہے۔ اس کا مقابلہ شعور، متوازن تربیت اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہو سکتا ہے جہاں انسان اپنی ذات کی قدر کے ساتھ ساتھ دوسروں کے جذبات اور حقوق کا بھی احترام کرے

column in urdu Self-Admiration to Self-Deception

قدیم ایرانی زبانیں۔تہذیب کی گمشدہ صدائیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان.

50% LikesVS
50% Dislikes

نرگسیت۔خود پسندی سے خود فریبی تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں